الجیریا (الجزائر)

عوامی جمہوریہ الجزائر شمالی افریقہ میں واقع ہے اور لیبیا، تیونس، مالی ، نائیجر، مراکش اور موریطانیہ کا ہمسایہ ہے۔ سمندر اور صحرا بھی میل ہا میل تک اس کی سرحد سے ملحق ہیں۔ یہاں نہ صرف بارش بہت کم ہوتی ہے بلکہ کوئی قابل ذکر دریا بھی نہیں ہے۔ سب سے بڑا دریا صرف 675 کلومیٹر لمبا ہے۔ یہاں کے ابتدائی باشندے بربر کہلاتے ہیں۔اس ملک میں اسلام کا نفوذ ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ پندرھویں صدی میں سپین نے الجیریا پر قبضہ کرلیا اور سولہویں صدی میں سلطنت عثمانیہ نے سپین کو الجیریا سے نکال باہر کیا۔ پھر 1830ء میں فرانس نے الجیریا پر قبضہ کیا اور 1842ء میں ایک قانون کے ذریعہ فرانس کے ساتھ الجیریا کاالحاق کردیا۔
الجیریا میں آزادی کی تحریکوں کے نتیجہ میں لاکھوں مسلمان شہید ہوئے اور آخرکار 1956ء میں الجیریا کو خود مختاری اور 1962ء میں آزادی مل گئی۔ الجیریا کا رقبہ قریباً 24لاکھ مربع کلومیٹر ہے اور آبادی 2 کروڑ 5 لاکھ ہے۔دارالحکومت ’الجیرز‘ ہے اور قومی زبان عربی ہے۔
الجیریا میں ریلوے کا نظام بھی ہے اور ملک میں 70 ایرپورٹ ہیں جن میں سے 5؍ انٹرنیشنل ہیں۔ ملک میں 16 TV اور 18 ریڈیو سٹیشن ہیں۔ ہر اڑہائی ھزار افراد کیلئے ایک ڈاکٹر ہے اور 95 فیصد بچے پرائمری سکول جاتے ہیں۔ الجیریا کی فوج کی تعداد ایک لاکھ 40 ھزار ہے اور ملک میں ایک ہی سیاسی پارٹی ہے۔
الجیریا کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون مکرم حامد کریم محمود صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍مئی 1997ء میں شاملِ اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں