اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے جلوے – بارش کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نشانات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍جولائی 2006ء میں مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب نے بارش کے ہونے یا رُک جانے کے بعض ایسے نشانات بیان کئے ہیں جو دراصل اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ایمان افروز جلوے ہیں۔
٭ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ مدنی دَور میں ایک جمعہ کے دن خطبہ کے دوران ایک شخص نے کھڑے ہوکر آنحضورﷺ سے قحط کے باعث مویشیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا اور بارش کے لئے دعا کی درخواست کی۔ اُس وقت آسمان بالکل صاف تھا۔ لیکن جونہی آنحضورﷺ نے دعا کی تو ہوا چلنے لگی، بادل جمع ہوا اور موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ یہ بارش اگلے جمعہ تک جاری رہی۔ اگلے جمعہ کے روز پھر کسی نے کھڑے ہوکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مکان گر رہے ہیں، اب بارش رُک جانے کی دعا کریں۔ آپؐ مسکرائے اور ہاتھ اٹھاکر دعا کی کہ اے اللہ! تُو ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر اب نہ برسا۔ اس دعا کے ساتھ ہی بادل درمیان سے پھٹ گئے اور ایک ہار کی شکل اختیار کرگئے۔
٭ حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ سخت گرمی کے موسم میں ہم قادیان سے رخصت ہونے لگے تو منشی اروڑے خانصاحبؓ نے حضرت مسیح موعودؑ سے عرض کیا کہ حضور! دعا کریں کہ اوپر بھی پانی اور نیچے بھی پانی۔ مَیں نے بے تکلّفی سے عرض کیا کہ حضور! یہ دعا ان کے لئے ہی مانگی جائے۔ حضورؑ نے فرمایا: اچھا خدا قادر ہے۔ پھر ہم روانہ ہوئے۔ جلد ہی بارش شروع ہوگئی جو موسلادھار ہوگئی اور پانی ہی پانی ہوگیا۔ راستہ میں یکہ اُلٹ گیا اور منشی اروڑے خانصاحبؓ نالی میں جاپڑے۔ مَیں اور محمد خان صاحبؓ بچ گئے۔ منشی صاحب افسوس کرتے تھے کہ انہوں نے ایسی دعا کیوں منگوائی۔
٭ 1909ء میں موسم برسات میں ایک بار مسلسل آٹھ روز بارش ہوتی رہی، کئی مکانات گر گئے۔ نویں دن حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے فرمایا کہ مَیں دعا کرتا ہوں، آپ سب لوگ آمین کہیں۔ دعا کے وقت بارش بہت زور سے ہورہی تھی جو اس کے بعد بند ہوگئی اور نماز کے وقت آسمان بالکل صاف تھا اور دھوپ نکلی ہوئی تھی۔
٭ حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکیؓ بیان فرماتے ہیں کہ بھاگلپور میں جماعت کا جلسہ تھا۔ پنڈال ایک وسیع میدان میں بنایا گیا تھا۔ کرسیاں، میز، دریاں قرینے سے لگائی گئی تھی۔ حاضرین کافی تعداد میں تھے۔ ابھی افتتاح ہی ہوا تھا کہ ایک کالی گھٹا نمودار ہوئی، کچھ موٹے قطرے بارش کے بھی شروع ہوگئے۔ میرے دل میں بارش کے خطرہ اور دعوت الی اللہ کے نقصان کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک جوش بھر گیا اور مَیں نے الحاح اور تضرع سے دعا کی کہ اے اللہ! یہ بادل تیرے سلسلہ کے پیغام کو پہنچانے میں روک بننے لگا ہے۔ اسی اثناء میں لوگ ہلنے لگے اور بعض نے فرش کو لپیٹنے کی تیاری کرلی تو مَیں نے انہیں تسلّی دلائی کہ اطمینان سے بیٹھے رہیں۔ جلد ہی بادل پیچھے ہٹ گیا اور جلسہ اطمینان سے سرانجام پایا۔
٭ موضع کریام ضلع جالندھر میں حضرت حاجی غلام احمد صاحبؓ اورحضرت شیر محمد صاحبؓ تانگہ والے ایک مجلس میں تبلیغ کررہے تھے۔ شدّت کی گرمی تھی۔ چھجو خان نامی ایک شخص نے کہا کہ اگر آج بارش ہوجائے تو مَیں احمدی ہوجاؤں گا۔ حضرت حاجی صاحبؓ نے اُسی وقت احمدی احباب کی معیت میں ہاتھ اٹھادیئے۔ تھوڑی ہی دیر میں بادل آگئے اور زور کی بارش شروع ہوگئی۔ اس نشان کو دیکھ کر چھجوخان احمدی ہوگئے۔
٭ 1989ء میں قادیان کے جلسہ سالانہ میں شرکت کے لئے ایک ملائشین خاتون تشریف لائیں۔ دیر سے احمدیت کا مطالعہ کر رہی تھیں لیکن انشراح صدر نہ ہونے کی وجہ سے بیعت نہیں کی تھی۔ جلسہ کے دوسرے روز رات کو اُنہیں بیت الدعا میں دعا کرنے کا موقعہ ملا۔ انہوں نے دعا کی کہ خدایا! اگر احمدیت واقعی سچی ہے تو کل سارا دن بارش ہوتی رہے۔ یہ دعا مقبول ہوئی اور جلسہ سالانہ کے تیسرے روز صبح سے شام تک قادیان میں بارش ہوتی رہی۔ شام کو اُس خاتون نے بیعت کرلی اور کہا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میری اس دعا کی قبولیت سے لوگوں کو اس قدر دقّت ہوگی تو مَیں خدا سے کوئی اَور نشان مانگ لیتی۔
٭ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی اہلیہ محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت مولوی صاحب ایک دن جمعہ پڑھاکر گھر آئے تو بتایا کہ آج مَیں نے دوستوں کے کہنے پر بارش کے لئے دعا کی ہے، آج انشاء اللہ ضرور بارش ہوگی۔ اُس وقت سخت گرمی اور چلچلاتی دھوپ تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر ایک ٹکڑا بادل کا آیا اور تھوڑی دیر بعد موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔
٭ حضرت مولانا رحمت علی صاحبؓ مبلغ انڈونیشیا کا مسکن پاڈانگ شہر کے محلہ یاسرمسکین میں تھا۔ اکثر مکانات لکڑی کے اور ساتھ ساتھ بنے ہوئے تھے۔ اتفاقاً وہاں آگ لگ گئی اور مکانات کا سلسلہ راکھ ہونے لگا۔ جب آگ آپؓ کے مکان کے چھجے کو چھونے لگی تو احباب کے اصرار پر بھی آپؓ گھر سے باہر نہ آئے بلکہ یقین سے کہا کہ مَیں حضرت مسیح موعودؑ کا غلام ہوں جن سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ’’آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے‘‘۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت مولوی صاحبؓ ابھی یہ بات کرہی رہے تھے کہ موسلادھار بارش شروع ہوگئی جس نے جلد ہی آگ کو ٹھنڈا کردیا۔
٭ پاڈانگ شہر میں ہی حضرت مولوی رحمت علی صاحبؓ ایک مجلس میں ہالینڈ کے ایک پادری سے گفتگو کررہے تھے کہ اچانک موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ اس علاقہ میں اگر بارش شروع ہوجائے تو کئی کئی گھنٹے برستی رہتی ہے اور رُکنے کا نام نہیں لیتی۔ جب وہ پادری دلائل کے میدان میں عاجز آگیا تو اچانک بولا کہ اگر واقعی تمہارا مذہب عیسائیت کے مقابلہ پر سچا ہے تو اپنے خدا سے کہو کہ بارش اسی وقت بند کردے۔ بظاہر یہ ایک ناممکن مطالبہ تھا لیکن حضرت مولانا صاحبؓ نے اپنے ربّ پر توکّل کرتے ہوئے بارش کو مخاطب کیا: اے بارش! تُو اس وقت خدا کے حکم سے تھم جا اور اسلام کے زندہ اور سچے خدا کا ثبوت دے۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ موسلادھار بارش خلاف معمول تھم گئی۔
٭ مکرم شیخ محمد حسن صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے ساتھ کام کرنے والا یعقوب نامی ایک شخص دہریہ خیالات کا تھا۔ ایک دن طنز سے کہنے لگا کہ گرمی بہت ہے ، اپنے خدا سے کہو کہ بارش برسادے۔ مَیں نے کہا کہ ہم خدا سے درخواست کرسکتے ہیں لیکن حکم نہیں دے سکتے۔ تاہم مَیں نے دل میں دعا شروع کردی۔ اُس رات بادل آئے لیکن بارش نہ ہوئی۔ اگلے روز وہ مجھے کہنے لگا کہ رات تمہارا خدا گرجا تو بہت لیکن برسا نہیں۔ اُس کی باتیں ایسی تھیں کہ میرا وہاں بیٹھنا مشکل ہوگیا۔ شدید گرمی میں مَیں باہر چلاگیا اور آسمان کی طرف منہ اٹھاکر اللہ تعالیٰ کو اُس کی غیرت کا واسطہ دے کر التجا کی۔ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ آسمان پر بادل آئے اور میرے چہرہ پر قطرے گرنے لگے۔ مَیں نے عرض کیا کہ وہ اس بارش سے تو نہیں مانے گا۔ اس پر زوردار بارش شروع ہوگئی۔ یعقوب اُس وقت برآمدہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ بے اختیار بولا: مَیں مان گیا کہ تمہارا خدا زندہ خدا ہے، لیکن یہ خدا صرف مرزا صاحب کے ماننے والوں کا ہی ہوسکتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں