جین (Gene) کے کرشمات

جین کے کرشمات – جدید تحقیق کی روشنی میں
(اطہر ملک)

٭ انسانی جین ایک عرصے سے طبی ماہرین کی توجہ کا مرکز ہے اور جینیٹک انجینئرنگ غالباً وہ شعبہ ہے جس میں اس وقت سب سے زیادہ تحقیقی کام ہورہا ہے۔ اسی حوالے سے ایک رپورٹ میں امریکی طبی ماہرین نے ایک نیا جین دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو 40 سال کی عمر تک دل کے دورے سے متعلق درست پیشگوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس جین کا تجزیہ کر کے کسی بھی فرد کے دل کے امراض کا قبل از وقت علم حاصل کیا جا سکے گا۔ڈیوک یونیورسٹی میڈیکل سنٹر کے طبی ماہرین نے کہا ہے کہ نیا دریافت کیا جانے والا جین شریانوں کو تنگ کر کے دل کے دورے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔طبی ماہرین نے کہا ہے کہ اس نئے طریقۂ تشخیص میں دل کے معائنے کی بجائے مخصوص جین کی موجودگی یا غیرموجودگی، نیز اس جین کے متحرک یا غیرمتحرک ہونے سے کوئی بھی شخص کم از کم 20 سال قبل ہی اپنے درست طبی حالات کے بارے میں آگاہ ہوسکے گا۔
٭ اور آخر میں جینیاتی تحقیق کے حوالے سے ہی یہ رپورٹ، جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریاست مشی گن کی سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے ماہرین نے روایتی موضوعات سے ہٹ کر جب جین کا مطالعہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ جین نہ صرف مخصوص طرز عمل کی بنیاد بنتے ہیں بلکہ اس طرزعمل کے نتیجے میں سماجی اثرات کو بھی متعین کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد یہ تھا کہ ایسی شخصیات جو عام لوگوں کو متاثر کرتی ہیں، کیا ان کی شخصیت کے اس پہلو کا ان کے جین سے بھی تعلق ہے یا نہیں؟۔ ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ عام لوگوں کے دل میں جن شخصیات کو دیکھ کر اُن کے لئے عقیدت یا احترام کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، اُن جذبات کا براہ راست تعلق اس شخص کے جین میں پائی جانے والی ایک خاص ساخت سے ہے۔ اگرچہ ماضی میں کئے جانے والے مطالعے یہ ثابت کرچکے تھے کہ عام روایات سے انحراف کرنے والے نوجوانوں کو عام طور پر پسند کیا جاتا ہے لیکن الیگزینڈر برٹ وہ پہلی ماہر نفسیات ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں ایک مخصوص جین کے عمل دخل کے بارے میں ایک بامعنی شہادت فراہم کی ہے۔ یہ مطالعاتی جائزہ امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن کے جریدے ’’جرنل آف پرسنیلٹی اینڈ سوشل سائیکالوجی‘‘ میں شائع ہوا ہے۔
پروفیسر برٹ کی تحقیق کے مطابق کالج کے جن لڑکوں میں دوسروں کو متأثر کرنے والا جین موجود تھا، اُنہیں اُن کے ہم عمر گروپ نے جو اُنہیں اس سے پہلے نہیں جانتا تھا، مقبولیت کے اونچے ترین درجے میں جگہ دی۔ اس جائزے کے دوران ایک کالج کے دوسو سے زیادہ طالب علموں کے دو الگ الگ گروپس کے جینز کا مطالعہ کیا گیا اور اُن سے گروپ کی پسندیدہ ترین شخصیت معلوم کرنے کے لئے سوال کئے گئے۔ پروفیسر برٹ کہتی ہیں کہ جن لڑکوں نے اپنے گروپس میں روایت سے ہٹ کر ایک مخصوص طرز ِ عمل کا مظاہرہ کیا اور ان کے اس طرز عمل نے انہیں زیادہ مقبول بنایا، اُن سب میں ایک مخصوص جینیاتی ساخت موجود تھی۔ اب یہی تجربہ کالج کی طالبات اور ایسے گروپس پر بھی کئے جارہے ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہوں۔
٭ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک جین میں تبدیلی کی وجہ سے برصغیر ہند میں رہنے والے لوگوں کے لئے دل کے امراض کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یہ ریسرچ ویلکم ٹرسٹ سنگیر انسٹی ٹیوٹ نے کی ہے جس کے سائنسدان حیدآباد دکن اور انگلینڈ میں تحقیق کرتے ہیں۔ریسرچ کے مطابق جین میں یہ تبدیلی چار فیصد لوگوں میں دیکھی گئی ہے۔ لیکن دل کے امراض کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔جن میں طرز زندگی کے علاوہ ان جینیات کا بھی عمل دخل ہوتا ہے جو انسان کو ورثہ میں اپنے والدین سے حاصل ہوتی ہیں۔اس تحقیق سے وابستہ کرس ٹائلر سمتہ کہتے ہیں کہ ہم نے کئی ملکوں میں تحقیق کی ہے۔ بھارت ،پاکستان اور سری لنکا اور ہر جگہ متاثرہ افراد کا تناسب تقریباََ برابر ہے۔شمال کے مقابلے میں یہ تناسب جنوب میں تھوڑا زیادہ ہے اور شمال مشرق جیسے کچھ علاقے ایسے ہیںجہاں یہ بالکل نہیں ہے۔لیکن مجموعی طور پر چار فیصد افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔اس خطے میں دل کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس کی وجہ طرز زندگی ،خراب غذااور ،ورزش نہ کرنا اور سگریٹ نوشی بتائی جاتی ہیں اور اب اس فہرست میں جینیاتی نقص بھی شامل ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب کوشش ایک ایسا ٹیسٹ تیار کر نے کی ہوگی جس سے لوگ یہ معلوم کر سکیں کہ ان کے جینیاتی نظام میں یہ جین تو شامل نہیں۔
٭ ایک رپورٹ جینیٹیکلی موڈیفائیڈ یعنی جینیاتی تبدیلیوں کے عمل سے گزاری گئی غذاؤں سے متعلق ہے۔ دراصل آبادی میں اضافے کے ساتھ غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پودوں کی اجناس اور خوراک کے لئے استعمال ہونے والے جانوروں کی زیادہ پیداوار اور جلد افزائش کے لئے متعدد جینیاتی تبدیلیاں عمل میں لائی جارہی ہیں جن سے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد تو مل رہی ہے لیکن انسانی صحت اور ماحول پر اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔ انہی منفی اثرات کے سبب جینیاتی تبدیلیوں کی حامل غذائیں سستی بھی ہیں اور اِن کے سستے اور وافر ہونے کے باعث یورپی کسان اپنے مالی خسارے کی وجہ سے اِن کو پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح کئی فلاحی ادارے بھی جینیاتی تبدیلیوں کی حامل اس غذا کے انسانی صحت، حیوانات اور ماحول پر پڑنے والے کے بداثرات کے باعث تشویش کا شکار ہیں اور جینیاتی تبدیلیوں سے گزاری گئی خوراک پر مکمل پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ جہاں بھی جینیاتی تبدیلی والی فصل کاشت کی جاتی ہے تو اس کے بداثرات نصف کلومیٹر دُور تک دیکھے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں ایسے چاولوں کی فروخت کے خلاف پیش کی جانے والی ایک دستاویز پر ایک لاکھ اسی ہزار یورپین باشندوں نے دستخط کئے تھے۔ اگرچہ یورپ کے تمام یعنی ستائیس رُکن ممالک جینیاتی تبدیلیوں کی حامل خوراک کی مخالفت کرتے ہیں لیکن پھر بھی غذائی اجناس میں چند خاص اور تسلیم شدہ اقسام کے کیمیاوی مادوں کے استعمال کی اجازت دی جاچکی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں