انسان کی طبی ترقیات میں جانوروں کا کردار – جدید تحقیق کی روشنی میں

انسان کی طبی ترقیات میں جانوروں کا کردار – جدید تحقیق کی روشنی میں
(فرخ‌سلطان محمود)

زکام کا شکار ہوسکنے والے چوہے کی پیدائش
بہت سی اقسام کے زکام کا باعث بننے والے وائرس کی دریافت قریباً پچاس برس قبل کی گئی تھی لیکن کسی غیرانسانی مخلوق پر اس کے اثرات اور علاج کا مطالعہ ابھی تک نہیں کیا جاسکا تھا کیونکہ یہ وائرس انسان اور چمپینزی کے علاوہ کسی دوسرے جانور پر اثرانداز نہیں ہوتا تھا۔ چونکہ اب تک یہ وائرس صرف انسان کو ہی متأثر کرتا آیا تھا اس لئے اس کا علاج دریافت کرنے کے لئے سائنسدان صرف محتاط انداز میں ہی اپنی تحقیق جاری رکھنے پر مجبور تھے۔ چنانچہ 1946ء میں برطانیہ میں پہلے ایسے ادارے نے کام شروع کیا جس نے زکام پر اپنی تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے اس کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے انسانوں میں سے منتخب رضاکاروں پر تجربات کئے گئے۔ لیکن پھر ان تجربات کو 1989ء میں بند کردیا گیا کیونکہ اس بیماری کی تشخیص، بچاؤ اور علاج میں کوئی خاص پیش رفت ممکن نہیں ہوسکی تھی۔
ایک طبی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امیپیریل کالج لندن کے سائنسدانوں نے جینیاتی انجینئرنگ کا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے ایک ایسے چوہے کی تیاری میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو زکام کی ایسی مختلف اقسام کے وائرس سے متأثر ہو سکتا ہے جو عموماً صرف انسانوں اور بندروں کی قسم چمپینزیز میں ہی زکام کا باعث بن سکتی ہیں۔ چنانچہ اس نئے چوہے کی پیدائش کے بعد جسے زکام کا مرض لاحق ہوسکتا ہے، برطانوی سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ انسانوں میں کھانسی، زکام اور چھینکوں کی مختلف امراض کا علاج معلوم کرنے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ نیز دمے کی بیماری سے نجات کے لئے نئی دواؤں کی دریافت سے متعلق تجربات کرنے کا موقع بھی اُنہیں ملے گا اور سانس کی بہت سی دیگر بیماریوں سے متعلق علاج کی تلاش میں بھی نئے چوہے کی پیدائش بہت مفید ثابت ہوگی۔
بچھو کے ذریعے رسولی کا علاج
امریکہ کے طبی ماہرین نے بچھو کے زہر میں موجود ایک ایسے کیمیائی مادے کا پتہ چلایا ہے جو دماغ کے سرطان کے علاج میں بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچھو کے زہر میں موجود کیمیائی جزو کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سرطا ن کا علاج کرنے والی دوا کو دماغ میں موجود متأثرہ رسولی تک پہنچاسکتا ہے۔ امریکہ میں چار مختلف اسپتالوں میں چار ایسے مریضوںکے علاج میں بچھو کے زہر کو استعمال کیا جارہا ہے اور اس کے عمدہ نتائج دیکھنے میں آرہے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل دماغ کے سرطان کے علاج میں سب سے بڑی مشکل یہی تھی کہ متأثرہ رسولی تک دوا کو کیسے پہنچایا جائے۔
چوہوں کے جین سے انسانوں کے موٹاپے کا علاج
امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ چوہوں اور پھلوں کی مکھیوں کو دُبلا رکھنے والا ایک جین انسانوں کو بھی موٹاپے اور ذیابیطس کی بیماری سے بچانے کے لئے استعمال کیا جاسکے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ پچاس سال قبل پھلوں کی مکھیوں میں دریافت کئے جانے والے ایک جین نے چوہوں میں اس وقت موٹاپا پیدا کردیا جب اُس جین کا ایک حصہ ضائع کردیا گیا لیکن اِسی جین نے چوہوں کو اُس وقت جسمانی طور پر دُبلا کرنا شروع کردیا جب اس جین کے ایک دوسرے حصے کو ضائع کیا گیا۔ چونکہ چوہے اور انسان دونوں کا گروپ میمل ہے اس لئے توقع ہے کہ مذکورہ تحقیق کے نتائج سے انسان کے موٹاپے پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ تاہم موٹاپے کا تعلق چونکہ صرف ایک جین سے نہیں ہے بلکہ وراثت کے علاوہ یہ روزمرّہ طرز زندگی، ماحول اور خوراک سے بھی تعلق رکھتا ہے اس لئے حالیہ مشاہدات ابھی مزید تحقیق طلب ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/88543]

اپنا تبصرہ بھیجیں