آٹھواں انٹرنیشنل مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ 2016ء

مجلس صحت جماعت احمدیہ برطانیہ کے تحت
آٹھویں انٹر نیشنل مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ 2016ء کا انعقاد

(مطبوعہ احمدیہ گزٹ کینیڈا دسمبر 2016ء
و الفضل انٹرنیشنل 26 اگست 2016ء)

(رپورٹ: محمود احمد ملک۔ سیکرٹری میڈیا رپورٹس)

جماعت احمدیہ میں صد سالہ خلافت جوبلی کی برکات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ بین الاقوامی سطح پر بعض احمدیہ ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا گیا۔ اُسی سال مجلس خدام الاحمدیہ یوکے کے زیرِ انتظام ’’خلافت جوبلی T/20 کرکٹ سیریز‘‘ بھی منعقد ہوئی جو دراصل دو ٹیموں یعنی ناصر کرکٹ کلب اور طاہر کرکٹ کلب میچز کے مابین کھیلی گئی۔ اس سال جرمنی میں ایک یورپین ٹورنامنٹ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ یہیں سے پیدا ہونے والے ایک خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مجلس صحت برطانیہ نے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے مئی 2009ء میں پہلا انٹرنیشنل مسرورT/20 کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کروانے کی توفیق پائی۔
مجلس صحت برطانیہ کے تحت منعقد ہونے والا انٹرنیشنل مسرور T/20 کرکٹ ٹورنامنٹ اس وقت عالمگیر جماعت احمدیہ میں واحد ایسا بین الاقوامی ٹورنامنٹ ہے جسے خواص و عام میں یکساں پذیرائی حاصل ہوئی اور اس کا انعقاد ایک مستقل فیچر کے طور پر قرار پایا۔ اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دنیا کے کناروں سے لندن پہنچنے والے احمدی کھلاڑیوں کے علاوہ شائقین کے ذوق نے بھی اس ٹورنامنٹ کے مستقل انعقاد کی راہ ہموار کئے رکھی۔ نیز بلاشبہ اتنے بڑے ٹورنامنٹ کا ہر سال اپنی تمام تر عظیم روایات کے ساتھ خوش اسلوبی سے انعقاد کرتے چلے جانا منتظمین کی محنت شاقّہ اور لگن کا آئینہ دار ہے۔ خداتعالیٰ کے فضل سے امسال 18 تا 22مئی 2016ء کو نہایت کامیابی سے منعقد ہونے والا یہ آٹھواں ٹورنامنٹ تھا جس کی افتتاحی تقریب 18؍مئی کی شام سواسات بجے طاہر ہال (مسجد بیت الفتوح مورڈن) میں مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ مکرم منصور خالد صاحب نے سورۃالنصر کی تلاوت کی اور آیات کریمہ کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم مرزا عبدالرشید صاحب صدر مجلس صحت برطانیہ نے امسال ٹورنامنٹ میں شامل ہونے کے لئے تشریف لانے والے کھلاڑیوں اور ٹیموں کے نمائندگان کو خوش آمدید کہا اور اُن ممالک کے نام بیان کئے جن کی نمائندگی اس ٹورنامنٹ میں کی جا رہی تھی۔
آخر میں مکرم امیر صاحب نے اپنی مختصر تقریر میں امید ظاہر کی کہ کھلاڑیوں کے کھیل اور انتظامات کا معیار پہلے سے بہتر دیکھنے میں آئے گا اور اچھے دوستانہ ماحول میں یہ ٹورنامنٹ کھیلا جائے گا۔ آپ نے معیار میں بہتری کے لئے مستقل کوچنگ کی سہولت مہیا کئے جانے کی اہمیت بھی بیان کی اور کہا کہ اس ٹورنامنٹ کے ذریعہ احمدی کھلاڑیوں کے بین الاقوامی روابط میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اس تقریب کے دوران تمام کھلاڑی نظم و ضبط کے ساتھ سٹیج کے سامنے کھڑے رہے جبکہ منتظمین اور تقریب کے مدعووین سٹیج کے اطراف میں کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔ سٹیج کے دائیں اور بائیں اطراف میں گزشتہ ٹورنامنٹس کی تصاویر اور اعدادوشمار کے چارٹس اس تقریب کے حسن کو دوبالا کر رہے تھے۔ تقریب کے اختتام پر حاضرین کی خدمت میں کھانا بھی پیش کیا گیا۔ مجلس صحت برطانیہ کا قیام قریباً پندرہ سال قبل عمل میں لایا گیا تھا۔ اس مجلس کے صدر مکرم مرزا عبدالرشید صاحب اور سیکرٹری مکرم مرزا حفیظ احمد صاحب ہیں۔ اس مجلس کی زیرنگرانی مختلف کھیلوں کے قومی ٹورنامنٹس سارا سال ہی منعقد کئے جاتے ہیں۔ تاہم امسال انٹرنیشنل مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ کی کامیابی کے لئے ڈیڑھ صد سے زائد کارکنان نے منتظمین کی رہنمائی میں لمبا عرصہ محنت کی اور واقعۃً یہ ٹورنامنٹ نمایاں طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوا۔امسال 12 ممالک کی 19 ٹیموں نے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کی جس کے دوران Merton, Wandsworth اور Kingston کی 16 گراؤنڈز میں 44 میچز کھیلے گئے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تمام میدانوں میں با جماعت نماز بھی ادا کی جاتی رہی۔
مکرم رانا عرفان شہزاد صاحب (ٹورنامنٹ کے Vice Chairman) کے مطابق امسال 2 انٹرنیشنل اور 5 فرسٹ کلاس کرکٹرز نے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کی۔ مسرور انٹرنیشنل ٹورنامنٹ خدا کے فضل سے Merton Council کے سالانہ میلے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے چنانچہ OVEL Cricket Stadium کے (آپریشنز مینیجر) Operations Manager جناب Simon Hard نے بھی اس امر پر دلی خوشی کا اظہار کیا کہ مورڈن میں منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ کا معیار ہر سال پہلے کی نسبت بہتر ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دنیابھر سے آکر ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی مسلمان ٹیموں کی کارکردگی کے حوالہ سے ضروری معلومات بھی اُنہیں باقاعدہ طور پر حاصل ہیں۔
امسال بھی ٹورنامنٹ کے بارہ میں مختلف رپورٹس بعض اخبارات میں شامل اشاعت کی جاتی رہیں۔ ان اخبارات میں “Guardian” Wandsworth، “The Nation” اور “Cricketer Magazine” شامل ہیں۔
نیز ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر متعدد رپورٹس نشر ہونے کے علاوہ سکائی ٹی وی (SKY TV) کے چینل “London Live” میں 19؍مئی کو Raynes Park Playing Fields سے قبل از دوپہر 11 سے1 بجے تک ٹورنامنٹ کی براہ راست جھلکیاں اور انٹرویوز پیش کئے گئے۔ مکرم فہیم احمد بٹ صاحب سیکرٹری ٹورنامنٹ کی طرف سے مہیا کئے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق امسال کے ٹورنامنٹ میں بہترین باؤلر انگلینڈ کے خالد ظفر صاحب رہے جنہوں نے 23.1 اوورز میں 135 رنز دے کر 17 وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم کسی ایک میچ میں پانچ سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں بالترتیب فضل احمد ناصر صاحب (انگلینڈ)، ارسلان جاوید صاحب (جرمنی)، دانیال آصف صاحب (امریکہ)، فراز مرزا صاحب (امریکہ)، احمد بھٹی صاحب (امریکہ) اور محی الدین صاحب (آئرلینڈ) شامل ہیں جنہوں نے ہیٹ ٹرک بھی کی۔ جبکہ انگلینڈ کے داؤد احمد صاحب ٹورنامنٹ کے بہترین بلّے باز قرار پائے جنہوں نے چھ میچوں میں 385 رنز بنائے۔ اس میں اُن کی سوئٹزرلینڈ کے خلاف 133 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگ بھی شامل ہے۔ امسال ٹورنامنٹ کی یہ واحد سینچری بھی تھی۔ انہیں ٹورنامنٹ 2016ء کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔ امسال مجموعی طور پر زیادہ سکور کرنے والے دوسرے کھلاڑی رضارحمن صاحب (کینیڈا) تھے جنہوں نے چھ اننگز میں 228 رنز بنائے۔ انہیں فائنل میچ میں 62 رنز بنانے اور چار اوورز میں 20 رنز دے کر ایک کھلاڑی آؤٹ کرنے کی بنیاد پر Man of the Match بھی قرار دیا گیا۔
امسال مجموعی سکور کے حوالہ سے تیسرے نمبر پر عقیل انجم صاحب (کینیڈا) تھے جنہوں نے چھ اننگز کے دوران 201 رنز بنائے۔ نیز ٹورنامنٹ کے بہترین فیلڈر کا اعزاز عمیر الیون کے مدثر ڈوگر صاحب نے حاصل کیا۔
2009 ء میں منعقد ہونے والا پہلا انٹرنیشنل مسرور T/20 کرکٹ ٹورنامنٹ جیتنے والی کینیڈا کی ٹیم ٹرافی کی مستحق قرار پائی تھی جبکہ جرمنی کی ٹیم دوسرے اور انگلینڈ بلیو تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ 2010ء میں یہ ٹورنامنٹ جرمنی کی ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو ہراکر جیتا تھا۔ 2011ء میں فائنل میچ میں کینیڈا کی ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دی تھی۔ 2012ء میں کینیڈا کی ٹیم نے آسٹریلیا کی ٹیم کو ہراکر اپنا اعزاز برقرار رکھا تھا۔ 2013ء میں انگلینڈ وائٹ نے امریکہ کو ہراکر پہلی بار یہ ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور 2014ء میں انگلینڈ اور کینیڈا کی ٹیموں کو Joint Winners قرار دیا گیا۔ 2015ء میں انگلینڈ نے جرمنی کو ہراکر یہ اعزاز مسلسل تیسری مرتبہ حاصل کیا۔
امسال فائنل میچ Abbey Recreation Ground مورڈن میں کینیڈا اور عمیر الیون کے مابین کھیلا گیا جسے کینیڈا کی ٹیم نے جیت کر ٹرافی حاصل کی۔ اس طرح کینیڈا کی ٹیم اب تک آٹھ میں سے پانچ ٹورنامنٹ جیت کر نمایاں ہے۔ امسال تیسرے نمبر پر انگلینڈ کی ٹیم آئی۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امسال کے ٹورنامنٹ میں خاص بات اس کے بعض میچوں اور اختتامی تقریب کی براہ راست کوریج تھی۔ چنانچہ ہزاروں شائقین نے منتخب میچز اور اختتامی تقریب کو انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنے کمپیوٹرز پر دیکھا اور میچز کے حوالہ سے نیز انتظامات کے بارہ میں رواں تبصرے بھی کئے۔ فائنل میچ کے اختتام پر ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم امتیاز احمد صاحب آف کینیڈا نے کی۔ مکرم مرزا عبدالرشید صاحب صدر مجلس صحت یوکے نے رپورٹ پیش کی۔ جس کے بعد مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے کھلاڑیوں میں اعزازات تقسیم کئے اور ایک مختصر تقریر کی جس کے ساتھ یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
امسال ٹورنامنٹ کے ایام میں چونکہ سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سکنڈے نیوین ممالک کے دورہ پر تھے اس لئے ٹورنامنٹ کے دوران یہ کمی بشدّت محسوس کی جاتی رہی اور خصوصاً بیرونی ممالک سے آنے والے کھلاڑی اس کا اظہار کرتے رہے۔ تاہم یہ امر باعث مسرّت ہے کہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے کامیاب دورہ سے واپس تشریف لانے کے بعد اوّل اور دوم آنے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں کو ازراہ شفقت شرفِ ملاقات بخشا اور دونوں ٹیموں کو اپنے ہمراہ تصویر بنوانے کا اعزاز بھی عطا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ یہ اعزاز ان ٹیموں اور کھلاڑیوں کے لئے بابرکت فرمائے۔ آمین

(نوٹ: مطبوعہ رپورٹ میں تصاویر بھی شامل اشاعت ہیں)

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں