اپنی آنکھوں میں جو تصویر لئے پھرتا ہوں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ30جنوری2008 ء میں مکرم چودھری شبیر احمد صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اِس کلام میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔

اپنی آنکھوں میں جو تصویر لئے پھرتا ہوں
اپنے اک عہد کی تحریر لئے پھرتا ہوں
میرا مسلک تو محبت ہے نہ کہ نفرت ہے
دل کو موہ لینے کی تاثیر لئے پھرتا ہوں
ذوقِ نظارہ سے مسرور ہوا سارا جہاں
اس کے اقوال کی تعبیر لئے پھرتا ہوں
شکر ہے ناصح بھی اب مجھ کو یہی کہتا ہے
میں عبث قصہ شمشیر لئے پھرتا ہوں

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/iUfqc]

اپنا تبصرہ بھیجیں