ایک حیرت انگیز ذرّہ… نیوٹرینو

اَنصار ڈائجسٹ
(فرخ سلطان محمود)
(مطبوعہ انصارالدین جنوری فروری 2012ء)

سائنس کی دنیا میں ہر روز نئی دریافتوں سے عبارت ہوتا ہے لیکن بعض دریافتیں اتنی اہم ہوتی ہیں جو سالہاسال کے پرانے نظریات پر خط تنسیخ پھیرتے ہوئے انسانی شعور کو نئے زاویے عطا کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک اہم دریافت چند ماہ پہلے ہوئی ہے اور مکرم آصف علی پرویز صاحب نے اس حوالہ سے درج ذیل مختصر مضمون برائے اشاعت ارسال کیا ہے۔
ہر مادی چیز مختلف ایٹموں سے مل کر بنی ہے جبکہ ہر ایٹم کے مرکزہ میں نیوٹران اور پروٹان کے علاوہ بھی متعدد بنیادی ذرّات(Fundamental Particles) بھی پائے جاتے ہیں۔ اِن میں سے ایک ذرّہ نیوٹرینو (Neutrino) کہلاتا ہے۔ اس ذرّہ کا وزن انتہائی مہین ہے جس کا اندازہ اس مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ایک ایٹم کو ہم پورے نظام شمسی کے برابر تصور کرلیں تو نیوٹرینو محض ایک فٹ بال کے برابر ہوگا۔ لیکن وزن میں اتنا ہلکا ہونے کے باوجود یہ انتہائی طاقتور ذرّہ ہے۔ چنانچہ جتنی دیر میں آپ لفظ ’’نیوٹرینو‘‘ پڑھتے ہیں، یہ ذرّہ اتنی دیر میں زمین کے ایک طرف سے داخل ہوکر دوسری طرف سے نکل بھی چکا ہوگا۔
عناصر (Elements) کی تخلیق میں نیوٹرینو کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔ سادہ الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر نیوٹرینو نہ ہوتا تو شاید انسان بھی نہ ہوتا۔
روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے اور عظیم سائنسدان آئن سٹائن کے مشہور نظریہ اضافت کی رُو سے اگر کوئی چیز اِس رفتار سے زیادہ رفتار حاصل کرلے تو اُس کا وزن اور اُس کے لئے وقت کی شرح لامتناہی (Infinite) ہوجائے گی۔ آئن سٹائن کے اِس نظریہ کی بنیاد پر سائنس کے کئی ذیلی نظریات کی بنیاد رکھی جارہی تھی کہ گزشتہ مہینوں آئن سٹائن کا دعویٰ اُس وقت مشکوک قرار پایا جب فرانس اور جنیوا (سوئٹزرلینڈ) کے پہاڑیوں کی گہرائی میں واقع زیرزمین تجربہ گاہ CERN میں نیوٹرینو کو پیدا کیا گیا اور اسے اٹلی کے مقام Gran Sasso میں پہاڑی کے نیچے بنی ہوئی تجربہ گاہ میں وصول کیا گیا۔ 732 کلومیٹر کا یہ فاصلہ نیوٹرینو نے روشنی کی رفتار سے (6 کلومیٹر یا پونے چار میل فی سیکنڈ) زیادہ تیزی سے طے کیا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات ثابت ہوگئی کہ نیوٹرینو کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمیں سائنس کی کئی کتابیں دوبارہ لکھنی پڑیں گی اور ممکنہ طور پر سائنس کی ایک نئی شاخ کی داغ بیل بھی رکھی جائے گی۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کا بھی خیال تھا کہ مادی ذرّات روشنی سے زیادہ رفتار حاصل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ جب ٹریسٹ (اٹلی) میں واقع انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس(International Centre for Theoretical Physics) کا نام محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے نام پر رکھا گیا تو اس موقعہ پر نوبل انعام یافتہ اور دنیا کے چوٹی کے کئی سائنسدان تشریف لائے۔ اس تقریب میں حضورؒ کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں حضور رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ:
’’… مَیں تو ڈاکٹر سلام کی ایک جھلک دکھاکر اس بابرکت تقریب میں حصہ دار بن رہا ہوں۔ اُس ڈاکٹر عبدالسلام کی جس نے کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی تھی کہ وہ جدید سائنسی علوم اور ان کی پیچیدگیوں پر مجھ جیسے عام علم رکھنے والے کے ساتھ بے تکلّفانہ تبادلۂ خیالات کرتے۔ ادھر میری یہ حالت کہ میری تمام تر کوششیں اس بات کو سمجھنے کی طرف لگی ہوئی تھیں کہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ سے آگے کیوں نہیں بڑھ سکتی۔ پھر بھی ان کے صبر کی داد دیتا ہوں کہ میرے استدلال اور بار بار کے اصرار پر انہوں نے مشروط قسم کی حامی بھری۔ میرا سوال یہ تھا کہ وہ اسباب و علل جو روشنی کے سفر کے لئے زیادہ سے زیادہ موزوں ہیں اگر بنیادی طور پر ان میں تبدیلی ہوجائے جو روشنی کی رفتار کو تیز کرسکیں تو کیا روشنی کی رفتار اس حد سے آگے نہ بڑھے گی جو اس کی حد قائم ہے؟ ان کی طرف سے جواب اگرچہ رُکا رُکا سا تھا لیکن ان کے سر کے ہلنے سے کچھ کچھ اثباتی جھلک ضرور نظر آتھی تھی۔ مَیں نے اپنی پیاس بجھانے کے لئے اَور بھی بہت سے سوالات کئے …‘‘
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے:

کیا عجب تُو نے ہر اِک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص
کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا
50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں