ایک معاند احمدیت کی رسوائی

جمعیۃالعلمائے ہند اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر ملاّ اسعد مدنی جماعت احمدیہ کی مخالفت میں بھارت کے مختلف مقامات پر جھوٹا اور ظالمانہ پراپیگنڈہ کرنے میں پیش پیش ہیں۔ امسال 7؍فروری1999ء کو جمعیت کے زیراہتمام بنگلور میں ایک جلسہ رکھا گیا جس میں مذکورہ ملاّ نے حضرت مسیح موعودؑ کی ذات بابرکت کے بارے میں یہ تاثر دیا کہ مرزا صاحب نے نہ صرف جھوٹ بولے ہیں بلکہ اُن کی پیشگوئیاں بھی جھوٹی نکلی ہیں۔ اپنی تقریر کے آخر میں اُنہوں نے حکومت کو خوش کرنے کے لئے سیاسی چال چلی اور پاکستان پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گرد تیار کرکے ہندوستان کے اسلامی مدارس کو سپلائی کرتا ہے اور وہ ان مدارس میں دہشت گردی کی تربیت دیتے ہیں۔ اگلے ہی روز سے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ملاّؤں کی طرف سے ملاّ اسعد مدنی کے بیان کی مذمّت کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا جس میں اُن کے بیان کو سو فیصد جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا گیا۔ اور اس طرح حضرت مسیح موعودؑ کے الہام اِنّی مُھینٌ مَن اَرَادَ اِھَانَتَکَ کے مطابق ملاّ اسعد مدنی کی ذلت اور رسوائی کا نشان ظاہر ہوا۔
ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان 4؍مارچ 1999ء میں ملاّؤں کے متعدد بیانات منقول ہیں جنہوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر ملاّ اسعد مدنی کی کذب بیانی کی شدید مذمّت اور تردید کی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں