بائیو میٹرکس – شناخت کا جدید طریقہ

اس وقت انفرادی شناخت کے لئے قومی شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ وغیرہ استعمال ہورہے ہیں۔ نیز دستاویزات کی صحت کے لئے انگوٹھا لگانے، دستخط کرنے یا مہر لگانے کا طریقہ رائج ہے۔ چونکہ انسانی ہاتھوں اور انگلیوں پر پائی جانے والی مہین لکیروں کا جال ہر انسان میں مختلف ہوتا ہے اس لئے یہ بھی انفرادی شناخت کا ذریعہ ہے اور خاص طور پر اہم دستاویزات اور جرائم کا سراغ لگانے کے لئے انگلیوں کے نشانات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اس حوالہ سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍ ستمبر 2004ء میں ایک معلوماتی مضمون بائیومیٹرکس سے متعلق شائع ہوا ہے۔
گزشتہ صدی کے آخری عشروں میں ٹیکنالوجی میں بے بہا ترقی اور کمپیوٹر نے شناخت کے تمام فرسودہ طریقے تبدیل کردیئے ہیں۔ چنانچہ اب انسان کی انفرادی پہچان کے لئے ایک جدید اور مؤثر ترین طریقہ Biometrics استعمال ہوتا ہے جس میں انسانی خدوخال اور جسمانی خصوصیات کو شناخت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
دس برس قبل ایک ریاضی دان John Daugman نے ریاضی کی چار مساوتیں وضع کیں جن کی مدد سے انسانی آنکھ کی پتلی (Iris) کو ایک بارکوڈ (Bar Code) کی طرح سکین کرنا ممکن ہوگیا۔ نظریاتی طور پر یہ ٹیکنالوجی اتنی زبردست ہے کہ اسے اپنا لینے کے بعد شناخت کے تمام مروجہ طریقے مسترد کئے جاسکتے ہیں کیونکہ جس طرح انسانی ہاتھوں پر موجود لکیروں کا جال ہر انسان میں منفرد ہوتا ہے اسی طرح آنکھ کی پتلی کے اندر پایا جانے والا پیٹرن بھی ہر انسان میں بالکل منفرد ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر جسمانی خصوصیات جیسے خدوخال کی سکیننگ کے ذریعے بھی شناخت کا کام لیا جا سکتا ہے۔ اس طرح آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مستقبل میں دراصل آپ خود ہی اپنا ’’شناختی کارڈ‘‘ ہوں گے۔ اس کے لیے آپ کو صرف لیزر سکیننگ کے عمل سے گزرنا پڑے گا جو چند ثانیے میں آپ کی سکیننگ کردے گا۔
1994ء میں کیمبرج یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر Bernouli اور ڈوگ مین نے اپنی تحقیق کو پیٹنٹ کروایا لیکن 11ستمبر2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملے کے بعد اس تحقیق کو زیادہ سنجیدگی سے لیا گیا اور اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ مغرب میں اب اس ٹیکنالوجی کو شناخت کے حوالے سے کلیدی حیثیت حاصل ہوگئی ہے اور بایو میٹرکس ٹیکنالوجی کے تمام طریقے تیزی سے مقبول ہورہے ہیں جن میں آنکھ کی پتلی کی سکیننگ، فنگر پرنٹ سکیننگ ، آواز کے ذریعے شناخت اور چہرے کے خدوخال کے ذریعے شناخت کے طریقے بھی شامل ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی جاپان، جرمنی اور ہالینڈ کے ہوائی اڈوں پر پہلے ہی استعمال ہورہی ہے اور ڈوگ مین کا کہنا ہے کہ ’’یہ ایک ایسی انڈسٹری ہے جو وجود میں آنے کو ہے‘‘۔
بائیو میٹرکس ٹیکنالوجی میں آواز کی شناخت (Voice Recognition) کے لئے آواز کی لہروں کو برقی آلات کی مدد سے پرنٹ کر کے شناختی کارڈز پر دیا جاسکتا ہے۔ خدوخال کی پہچان (Face Recognition) کے لئے ایک کیمرہ استعمال کیا جاتا ہے جو تصویر کا عکس کمپیوٹر سسٹم کو منتقل کرتا ہے۔ کمپیوٹر چہرے کے 80فیصد خدو خال کے لئے عددی مقداریں فراہم کرتا ہے چنانچہ ایسے شخص کی نشاندہی کسی ہجوم میں بھی کی جاسکتی ہے۔
آنکھ کی پتلی (Iris) کی سکیننگ میں مرکزی عدسہ کے اردگرد آنکھ کا گول رنگدار حصہ سکین کیا جاتا ہے۔ اس کے اندر موجود پیٹرن ہر شخص میں منفرد ہوتا ہے اور آنکھ پھوڑے بغیر اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اس سکیننگ میں استعمال ہونے والا Security Software ایک ریاضیاتی عمل Demodulation کے ذریعے آنکھ کے خاکے کو Digital ID Code میں تبدیل کردیتا ہے جس سے کسی بھی شخص کی فوری شناخت ہوسکتی ہے۔
چوتھا طریقہ فنگر پرنٹس کی سکیننگ کا ہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ZNzpc]

اپنا تبصرہ بھیجیں