بچی کی رخصتی پر جہیز

حضرت مولانا نورالدین خلیفۃالمسیح الاولؓ نے جب اپنی بیٹی حفصہ کی شادی کی تو انہیں علاوہ اس جہیز کے جو عام طور پر لوگ دیا کرتے ہیں ایک بڑا صندوق کتابوں کابھی دیا جو آپ کے زیر مطالعہ رہتی تھیں۔ یہ سب کتابیں قرآن کریم، احادیث اور دینیات کی تھیں۔ مگر جب انہیں ڈولی میں سوار کیا گیا تو آپؓ انہیں رخصت کرنے کے لئے تشریف لائے اور کہا: ’’حفصہ! میں تیرا جہیز لایا ہوں‘‘۔ پھر ایک کاغذ ان کی گود میں رکھ دیا اور کہا کہ ’’بچہ! اس کو سسرال پہنچ کر کھولنا اور پڑھ لینا‘‘۔
اس کاغذ میں درج تھا: ’’بچہ اپنے مالک، رازق، اللہ کریم سے ہر وقت ڈرتے رہنا اور اس کی رضامندی کا ہر دم طالب رہنا اور دعا کی عادت رکھنا، نماز اپنے وقت پر اور منزل قرآن کریم کی بقدر امکان بدوں ایام ممانعت شرعیہ ہمیشہ پڑھنا۔ زکوٰۃ، روزہ، حج کا دھیان رکھنا اور اپنے موقع پر عمل درآمد کرتے رہنا۔ گلہ، جھوٹ، بہتان، بیہودہ قصے کہانیاں یہاں کی عورتوں کی عادت ہے اوربے وجہ باتیں شروع کردیتی ہیں۔ ایسی عورتوں کی مجلس زہر قاتل ہے۔ ہوشیار، خبردار رہنا۔ ہم کو ہمیشہ خط لکھنا۔ علم دولت ہے، بے زوال، ہمیشہ پڑھنا۔ چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو قرآن پڑھانا۔ زبان کو نرم، اخلاق کو نیک رکھنا۔ پردہ بڑی ضروری چیز ہے۔ قرآن مجید کو ہمیشہ پڑھتے رہنا۔ مرأ ۃ العروس اور دوسری کتابیں پڑھو اور ان پر عمل کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو اور تم کو نیک کاموں میں مدد دیوے۔ والسلام۔ نورالدین (31؍مئی1891ٰء)
حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کا یہ خط مجلس انصاراللہ کینیڈا کے مجلہ ’’نحن انصاراللہ‘‘ اپریل تا ستمبر 2004ء کی زینت ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/LZ2yY]

اپنا تبصرہ بھیجیں