بیسویں صدی کا عظیم باکسر … محمد علی

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اگست 2007ء میں عظیم باکسر محمد علی کے بارے میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔

محمد علی 17؍ جنوری 1942ء کو امریکہ کے شہر لوئس ویل (Louisville) میں پیدا ہوئے تو ان کا نام اس علاقہ کے مشہور شخص کے نام پر Cassius Marcellus Clay رکھا گیا۔ ان کا تعلق ایک غریب سیاہ فام گھرانے سے تھا۔ لیکن ان کو بچپن سے ہی باکسنگ کا شوق تھا۔
محمد علی نے روم (اٹلی) میں 1960ء میں ہونے والے اولمپکس میں سونے کا تمغہ حاصل کرنے سے قبل 108 مقابلے کھیلے جن میں سے 100 جیتے۔ پھر 1960ء ہی میں انہوں نے پروفیشنل باکسر کے طور پر باقاعدہ اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اور 1964ء میں جب وہ 19 فتوحات حاصل کرچکے تھے تو انہوں نے صرف 22 سال کی عمر میں ہیوی ویٹ چیمپیئن Sonny Liston کو چیلنج دیا۔ اگرچہ وہ ایک کمزور حریف تصور ہورہے تھے لیکن اُن کی شاندار مکے بازی سے سونی لسٹن اتنا نڈھال ہوگیا کہ وہ ساتویں راؤنڈ میں مقابلہ سے دستبردار ہوگیا اور اس طرح محمد علی ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپیئن بن گئے۔
1964ء میں ہی محمد علی نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام محمد علی رکھ لیا۔ اپنے اعزاز کے کامیاب دفاع کے ساتھ اُن کا سفر 1967ء تک پہنچا تھا کہ امریکہ کی ویتنام کے ساتھ جنگ میں امریکن فوج میں شمولیت سے انکار پر محمدعلی سے ٹائٹل چھین لیا گیا اور باکسنگ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی۔ انہوں نے اپنی پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تو 1970ء میں یہ پابندی اٹھالی گئی اور 8 مارچ 1971ء کو اُن کا ورلڈ چیمپیئن Joe Frazier کے ساتھ مقابلہ ہوا جسے The Fight of the Century کا نام دیا گیا۔ 15 راؤنڈ پر مشتمل اس مقابلہ میں محمد علی کو باوجود بہترین کھیل پیش کرنے کے شکست ہوگئی۔
جنوری1974ء میں محمد علی نے جوفریزیرکے ساتھ پھر مقابلہ کیا جو اپنا اعزاز کھو چکا تھا۔ اس بار محمد علی نے جوفریزیر کو ہرا کر ہیوی ویٹ چیمپئن Foreman کو چیلنج دے دیا۔ 8؍اکتوبر 1974ء کو کانگو (زائرے) میں کھیلی جانے والی اس فائٹ کو The Rumble in the Jungle کا نام دیا گیا۔ محمد علی نے اپنے شاندار کھیل سے فورمین کو شکست دیکر دوسری مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپیئن ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔
19 فروری 1978ء کو محمد علی کو Leon Spinks کے ہاتھوں شکست ہوگئی لیکن ستمبر 1978ء میں وہ سپنکس کو ہرا کر تیسری بار ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپیئن بن گئے۔ 27جون 1979ء کو محمد علی نے باکسنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ اس وقت تک محمد علی کو 59 کھیلے جانے والے مقابلہ جات میں صرف تین بار شکست ہوئی تھی اور 37 بار وہ اپنے مخالف کو ناک آؤٹ کرچکے تھے۔ لیکن ورلڈ باکسنگ کونسل (WBC) کے اصرار پر محمد علی نے 1980ء میں ہیوی ویٹ چیمپیئن Larry Homes کے ساتھ مقابلہ کیا اور شکست کھائی۔ اسی طرح ایک اور میچ میںTrevor Berbick کے خلاف بھی اُنہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1981ء میں محمد علی نے باقاعدہ طور پر باکسنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے اپنے کیرئیر میں اپنے بہترین کھیل کے ساتھ ساتھ اپنی عمدہ تقریری صلاحیت کے باعث بھی اپنے مخالفین پر نفسیاتی دباؤ رکھا۔ وہ اپنے متعلق ہمیشہ کہا کرتے I am the greatest اور یہ مقولہ بھی ان کا بہت مشہور ہے کہ:
I could float like butterfly and sting like a bee.
محمد علی پہلے باکسر ہیں جنہوں نے تین بار ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1996ء کے اٹلانٹا اولمپکس میں محمد علی نے مشعل کو روشن کر کے اولمپکس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس طرح محمد علی کو اولمپکس ہال آف فیم اور ورلڈ باکسنگ ہال آف فیم میں شمولیت کا اعزاز حاصل ہے۔ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کرنے والے محمد علی کو 20 ویں صدی کے آخر پر بے شمار لکھنے والوں نے صدی کا بہترین ایتھلیٹ قرار دیا جبکہ کئی درجہ بندی کرنے والوں نے محمد علی کو ایتھلیٹ آف دی ملینیم قرار دیا۔
محمد علی کی ایک بیٹی لیلیٰ علی خود بھی ایک بہترین باکسر ہے اور باکسنگ کے کئی مقابلے جیت چکی ہے۔ محمد علی ایک عرصہ سے پارکنسن (رعشہ) کی بیماری میں مبتلا ہیں لیکن اب بھی انسانیت کی خدمت کے لئے چیریٹی کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کی سوانح عمری My Own Story کے نام سے شائع ہوچکی ہے.

محمدعلی

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ اگست 2007ء میں بھی محمد علی کے بارہ میں ایک مضمون شامل ہے جس میں دی گئی اضافی معلومات یہ ہیں کہ
1960ء میں اولمپک گولڈ میڈل حاصل کرکے جب وہ امریکہ آئے تو ایک ریستوران میں داخل ہونے سے انہیں اس وجہ سے روک دیا گیا کہ وہ ریستوران صرف گورے لوگوں کے لئے مخصوص تھا۔ اس توہین کا انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ انہوں نے اپنا اولمپک میڈل دریا میں پھینک دیا کہ اگر معاشرہ میں عزت ہی نہیں تو پھر اس میڈل کی کیا اہمیت ہے۔
جب انہوں نے اسلام قبول کر کے اپنا نام محمد علی رکھ لیا تو انہیں اگر اُن کے پُرانے نام سے پکارا جاتا تو وہ کبھی جواب نہ دیتے۔
وہ ایسے باکسر تھے جو شاعری بھی کرتے تھے اور اپنی شان میں قصیدے پڑھ کر اپنے حریف کو طیش میں لایا کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں