بے تکلف مہمان نوازی — وادیٔ سندھ کی ایک خاص روایت

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ جنوری2008ء میں جناب ابن کریم صاحب کے قلم سے وادیٔ سندھ میں مہمان نوازی کے حوالہ سے ذاتی مشاہدات پر مشتمل ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
مہمان نوازی کو اسلام نے اتنی اہمیت دی ہے کہ یہاں تک فرمایا کہ تم کسی دوسرے علاقہ میں جاؤ تو وہاں کے مقامی لوگوں کے ذمہ تین دن کی مہمان نوازی واجب بلکہ فرض ہے۔ صرف مہمان نوازی نہیں بلکہ مہمان کا ہر پہلو سے احترام بھی قائم فرمایا گیا ہے۔ بڑا ہی معروف واقعہ ہے کہ ایک کافر آنحضور ﷺ کے ہاں مہمان ٹھہرا۔ زیادہ کھانے کی وجہ سے رات بستر پر ہی بول براز کر دیا اور صبح منہ اندھیرے ہی وہاں نکل گیا لیکن اپنا ہتھیار وہیں بھول گیا۔ واپس آنے پر کیا دیکھتا ہے کہ سرورِ دوعالمؐ اپنے ہاتھوں سے بستر دھو رہے ہیں۔ صحابہؓ مصر ہیں کہ یہ کام ہمیں کرنے دیں۔ فرمایا: نہیں یہ میرا مہمان تھا اور میرا ہی فرض ٹھہرتا ہے کہ میں یہ کام خود اپنے ہاتھوں سے کروں۔ یہ منظر دیکھ کر اُس نے بے اختیار کلمہ پڑھ لیا۔
مہمان نوازی کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعودؑ کا نمونہ یہ تھا کہ کسی خادمہ یا کسی خادم سے کسی مہمان کی دلآزاری ہوئی تو فرمایا کہ میرے چاروں بچے میرے سامنے مارے جاتے تو مجھے دُکھ نہ ہوتا جتنا دُکھ مہمانوں کو تکلیف پہنچانے کی وجہ سے مجھے ہوا ہے۔
خدا کے مامور کے منہ سے کسی مبالغہ آمیزی کا تصور نہیں ہو سکتا۔ اتنی بڑی بات کے کہنے سے مہمان کی دلجوئی، احترام اور خدمت میں کوئی کسر اُٹھانہ رکھنے کی جو اہمیت بیان فرمائی ہے، وہ یاد رکھنے کے لائق ہے۔
سندھ میں اپنے قیام کے دوران جو مشاہدات میرے سامنے آئے ہیں وہ دراصل آنحضرت ﷺ کا یہ پاک نمونہ ہے جیسا کہ فرمایا کہ ’’میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘ (سورہ صٓ:87)۔ قرآن کریم کے اس انداز کو اپنانا یقینا باعث خیرو برکت ہے۔ سندھ میں سبھی علاقوں میں خواہ وہ شہر ہوں یا دیہات اور گوٹھیں ہوں وہاں آپ کو بے تکلّفانہ انداز ہی نظر آئے گا یعنی اگر آپ بغیر اطلاع کے کہیں گئے ہیں تو جو میسر ہے وہ بغیر کسی حجاب کے پیش کر دیا جائے گا۔
میں ایک علاقہ سے دن بھر کے معمولات بجالا کر بارہ سو ایکڑ کے مالک ایک معروف احمدی زمیندار کے ہاں رات کو عشاء کے بعد پہنچا۔ ان کے ایک بیٹے باہر تشریف لائے۔ پانی وغیرہ پلا کر ماٹی باٹی کا پوچھا یعنی کھانے کا بتائیں۔ میں نے اثبات میں جواب دیا تو دس منٹ میں دو گرم گرم روٹیاں اور ساتھ دودھ کا گلاس لے کر آئے۔ اسی طرح یہ واقعہ تحریر کرتے ہوئے میں خود بھی عجیب قسم کی لذت محسوس کر رہا ہوں جب ایک ضلعی میٹنگ کے بعد ایک میزبان نے اپنے ڈیرے پر دوپہر کے کھانے میں سادہ چاول پکوائے اور آموں کی وافر مقدار ساتھ رکھوا دی۔ سبھی نے خوب مزے سے کھانا کھایا۔ اگر بے تکلفی ہو گی تو نہ مہمان کو زحمت ہوگی اور نہ میزبان خوامخواہ کی تکلیف پڑے گا۔
خاکسار چوہدری مقصود احمد صاحب سابق امیر ضلع سانگھڑ (جو خود بھی معروف زمینداروں میں شمار ہوتے ہیں) کے ساتھ دعوت الی اللہ کے لئے مختلف دیہاتوں میں گیا تو ہم ایک بہت بڑے زمیندار جن کی زمین غالباً سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل تھی، کے ڈیرے پر بغیر اطلاع کے پہنچے۔ ملازم نے سب سے پہلے سادہ پانی پیش کیا۔ یہ بھی سندھی ثقافت کی خاص نشانی ہے کہ مہمان ابھی پورے طور پر بیٹھا بھی نہیں، لیکن امیر کا ڈیرہ ہو یا غریب کا چھپر، سب سے پہلے پانی پیش کرتے ہیں۔ مکرم چوہدری صاحب نے نہایت بے تکلفی سے کہا ادا! ماٹی باٹی آہے۔ یعنی بھائی! کھانا وغیرہ ہے۔ ملازم نے جواب دیا: سائیں! ابھی لے کر آرہا ہوں۔
دراصل میزبان اور مہمان، دونوں جانتے ہیں کہ بے تکلّفی کا اصل مفہوم کیا ہے۔ چنانچہ بمشکل پانچ منٹ میں ملازم اندر سے صبح کی چپڑی ہوئی روٹیوں کے ساتھ اچار لے کر حاضر ہوگیا۔
بعض مشاہدات فطرت کے اتنے قریب ہیں کہ ان کا تصور ذہن میں آتے ہی اک عجیب قسم کی لذّت کا احساس پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ مورو ایک معروف علاقہ ہے میں بمع اپنے وفد کے وہاں سے گزرا تو ہمارے وفد کے داعیان الی اللہ کو وہاں کے ایک غیراز جماعت نے پہچان لیا اور سلام دعا کے بعد چائے کی دعوت کیا دی، فوری طور پر اپنے ساتھی کو بھیج کر منگوا بھی لی۔ پانچ چھ افراد ہم تھے اور تقریباً اتنے ہی دوست اُن کے ساتھ تھے۔ اب معلوم ہوتا ہے بازار سے گزرتے ہوئے اُن کے پاس رقم بھی پوری سی تھی۔ بہرحال سادگی کا دلرُبا انداز ملاحظہ کریں کہ ہم مہمانوں کو چائے والے کپ پکڑائے اور خود اُن کے ساتھیوں نے پرچ میں ایک ایک گھونٹ اُسی چائے میں سے ڈال کر پی لیا۔ میزبان کا ساتھ بھی ہوگیا اور اپنے ساتھیوں کو بھی بھگتا لیا اور جو میسر تھا اسی کے اندر رہتے ہوئے وقت پورا کر لیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہاں اکثر چائے ماکو لات کے بغیر پیش کی جاتی ہے۔
مجھے یہ بات بیان کرتے ہوئے ابّا مرحوم یاد آگئے۔ اِن معاملات میں کوئی تصنع یا بناوٹ نہیں تھی۔ ایک دفعہ میرا کوئی دوست آیا۔ گھر میں کچھ بھی نہ تھا میرے ابا کہنے لگے بیٹا اس کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اِس کو تھوڑی سی چینی ہی کھلا دو۔
میرے ایک کلاس فیلو آج بھی مجھے یاد کروا کر اس واقعہ کو بیان کر کے لطف اٹھاتے ہیں ایک دفعہ میں تمہارے ہاں آیا۔ کھانے کا وقت تھا۔ تم نے کہا سالن تو میسر نہیں مگر آپ کو کھانا کھلائے بغیر بھی نہیں جانے دینا چنانچہ گرم گرم روٹی کے ساتھ گُڑ رکھ دیا۔ اور وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے تو وہ کھانا نہیں بھولتا۔
سندھ سے آئے ہوئے ایک معلّم صاحب نے بتایا کہ تھرکے بعض علاقوں میں جہاں عام طور پر طرزِ زندگی خاصا مشکل ہے، وہاں ایک دفعہ دوپہر کے وقت ہمارے ہمسائے جو کہ ہندو تھے کا دروازہ کھٹکا۔ کوئی بیس پچیس افراد تھے۔ خاتون نے کھانے کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے کھانا کھانا ہے۔ میں بھی یہ آوازیں سن کر باہر نکلا تو اُس خاتون سے میں نے کہا کہ ان کے لئے روٹی کا بندوبست مَیں کرتا ہوں۔ اُس خاتون نے کہا: نہیں، ان لوگوں نے میرا دروازہ پہلے کھٹکھٹایا ہے اس لئے ان کے کھانے کا انتظام میں کروں گی۔ چنانچہ اُس عورت نے آگ جلائی اور دال چڑھا دی اور چکی پر بیٹھ کر باجرے کو اپنے ہاتھ سے پیسا اور گوندھ کر دوبارہ مجھے آواز دی کہ ان مہمانوں سے پوچھ لیں میرے ہاتھ کی روٹی کھالیں گے کیونکہ ان مہمانوں میں بعض مسلمان ہیں اور میں ہندو ہوں۔ اس لئے ان سے پوچھ لیں اگر تو مان جاتے ہیں تو ٹھیک ہے نہیں تو آپ اِن کو روٹی پکا دیں۔ سب نے کہا: نہیں نہیں ہم کھا لیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آٹا میسر نہ ہونے کے باوجود یہ سب کچھ ہوا۔ اپنے ہاتھ سے باجرے کو پیسا اور دوسری طرف دال پکنے کے لئے رکھ دی۔ اس طرح اپنی اس اعلیٰ روایت کو نبھایا کہ میں آج بھی جب سوچتا ہوں تو احترام سے آنکھیں جھک جاتی ہیں۔
ایک دفعہ ہندوؤں کی گوٹھ میں رات گئے تک آنے والے اوتار جس کے متعلق ہندوؤں ہی کی کتب میں یہ پیشگوئیاں موجود ہیں کہ جب وہ آئے گا تو لوہا چلے گا اور جب لوہا چلے گا تو دھرتی ہلے گی۔ ایسی پیشگوئیوں کے تذکرے ہوتے رہے۔ رات خاصی بیت گئی۔ وہ غریب گوٹھ والے مہمان نوازی کی صفت سے متصف تھے۔ ہم نے بصد اصرار کھانے سے منع کیا مگر انہوں نے ہمیں کھانا کھلا کے ہی رخصت کیا۔ وہ بے تکلّف کھانا کیا تھا!؟ مٹی کے توے کے اوپر پکی ہوئی لذیذ روٹی اور سالن میں صرف ٹماٹر اور پیاز بھون کر پیش کر دئیے گئے۔
حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی سیرت کا ایک واقعہ یوں ملتا ہے کہ ایک صحابی بیان فرماتے ہیں کہ مَیں قادیان پہنچا تو آپؑ نے حتی المقدور مہمان نوازی کی۔ آدھی رات کے وقت میرے دروازے کی کنڈی کھٹکتی ہے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت اقدسؑ نے ایک ہاتھ میں لالٹین پکڑی ہوئی ہے اور دوسرے ہاتھ میں دودھ کا گلاس۔ فرمایا: ابھی کہیں سے آیا تھا میں نے سوچا آپ کو ابھی پیش کر دوں۔
چنانچہ جو کچھ بھی موجود ہو مہمان کو پیش کر دینا چاہئے۔ ہاں بعد میں کوئی چیز میسر آجائے تو اسے بھی پیش کرتے ہوئے کوئی حجاب محسوس نہ کیا جائے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ZtN9z]

اپنا تبصرہ بھیجیں