تبلیغ کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کا جذبہ اور اس کی حکمت عملی

دعوت الی اللہ کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کا
جوش و جذبہ اور اس کی حکمت عملی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17فروری 2012ء (سیّدنا مصلح موعود نمبر) میں مکرم سیّد شمشاد احمد ناصرصاحب کے مضمون میں دعوت الی اللہ کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کے جوش و جذبہ اور اس کے لئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
٭ حضرت شیخ غلام احمد صاحبؓ واعظ کا شمار عابد و زاہد اور صاحب کشف و الہام بزرگوں میں ہوتا تھا۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ:ایک دفعہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ آج کی رات مسجد مبارک میں گزاروں گا اور تنہائی میں اپنے مولا سے جو چاہوں گا مانگوں گا ۔ مگر جب مَیں مسجد میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص سجدہ میں پڑا ہوا ہے اور الحاح سے دعا کر رہا ہے۔ اس کے اس الحاح کی وجہ سے میں نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ اور اس شخص کی دعا کا اثر مجھ پر بھی طاری ہو گیا۔ اور مَیں بھی دعا میں محو ہو گیا اور میں نے دعا کی کہ یاالٰہی! یہ شخص تیرے حضور سے جو کچھ بھی مانگ رہا ہے وہ اس کو دیدے۔ اور مَیں کھڑاکھڑا تھک گیا کہ یہ شخص سر اٹھائے تو معلوم کروں کہ کون ہے؟ مَیں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے وہ کتنی دیر سے آئے ہوئے تھے مگر جب آپ نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں محمود احمد صاحب ہیں۔ مَیں نے السلام علیکم کہا، مصافحہ کیا اور پوچھا میاں! آج اللہ تعالیٰ سے کیا کچھ لے لیا؟ تو آپ نے فرمایا کہ مَیں نے تو یہی مانگا ہے کہ الٰہی! مجھے میری آنکھوں سے دین کو زندہ کر کے دکھا۔
دین کی فتح کا دن دیکھنے کی یہ بے قرار تمنا جو اس نوعمری میں آپؓ کے دل میں پیدا ہوئی نو عمری ہی میں پھل بھی لانے لگی۔ دعاؤں کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنی زندگی کا مقصد بھی یہی قرار دیا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’جہاں تک مَیں نے غور کیا ہے مَیں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا اُنس رہا ہے کہ مَیں سمجھ ہی نہیں سکتا۔ مَیں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو، … پھر اتنا ہو کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے منصبِ خلافت پر متمکّن ہوتے ہی احمدیوں میں تبلیغ کی ایک نئی روح پھونک دی۔ دعاؤں کے ساتھ تبلیغ کی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کیں اور اس اہم فریضہ کی ذمہ داری کی ادائیگی کی طرف آپ نے یورپ کا سفر بھی اختیار فرمایا۔ اس سفر پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے حضور نے فرمایا ’’مغربی ممالک میںتبلیغ کے کام کو اگر ہم نے جاری رکھنا ہے اور اگر اس پر جو روپیہ خرچ ہوتا ہے اس کی خدا تعالیٰ کوجواب دہی سے عہدہ بر آ ہونا ہے تو ضروری ہے کہ خود خلیفہ وقت ان علاقوں میں جا کر ان کی مشکلات کو دیکھے اور وہاں کے ہر طبقہ کے لوگوں سے مشورہ کر کے ایک سکیم تجویز کرے … ان ضروریات کو مدّ نظر رکھ کر مَیں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مذہبی کانفرنس کی تحریک کو ایک خدائی تحریک سمجھ کر اس وقت باوجودمشکلات کے اس سفر کو اختیار کروں ، مذہبی کانفرنس میں شمولیت کی غرض سے نہیں بلکہ مغربی ممالک کی تبلیغ کے لئے۔ کیونکہ وہ مما لک ہی تبلیغ کے راستہ میں ایک دیوار ہیں جس دیوار کا توڑنا ہمارا مقدّم فرض ہے۔‘‘
روانگی سے قبل 27 جولائی 1924ء کو ایک مکتوب میں آپؓ نے رقم فرمایا ’’ہمارا فرض ہے کہ اس مصیبت کے آنے سے پہلے اس کا علاج سوچیں اوریورپ کی تبلیغ کے لئے ہر قدم جو اٹھائیں اس کے متعلق پہلے غور کر لیں اور یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہاںکے حالات کا عینی علم حاصل نہ ہو۔ پس اسی وجہ سے باوجود صحت کی کمزوری کے میں نے اس سفر کو اختیار کیا ہے۔ اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ اس علم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔ اگر میں اس جدوجہد میں مر گیا تو اے قوم مَیں ایک نذیر عریاں کی طرح تجھے متنبّہ کرتا ہوںکہ اس مصیبت کو کبھی نہ بھولنا۔ اسلام کی شکل کو کبھی نہ بدلنے دینا۔ جس خدا نے مسیح موعود کو بھیجا ہے وہ ضرور کوئی راستہ نجات کا نکال دے گا۔ پس کوشش نہ چھوڑنا،نہ چھوڑنا،نہ چھوڑنا،آہ نہ چھوڑنا۔ ‘‘
٭ حضرت مصلح موعودؓ نے تقاریر اور علمی مجالس کے علاوہ تبلیغ کے لئے بعض کتب بھی تحریر فرمائیں۔ان میں ایک اہم کتاب ’’دعوۃ الامیر‘‘ ہے جو والئی افغانستان کو بھجوائی گئی ۔ اور ایک ’’تحفۃ الملوک‘‘ ہے جو خلافت کے ابتدائی مہینوں (مئی جون 1914ء) میں شاہِ دکن کو مخاطب کر کے لکھی گئی تھی۔ اس کتاب کا مسودہ تیار ہونے پر حضور نے احباب قادیان کو ایک جلسہ میں بعد نماز عصر اسے خود پڑھ کر سنایا۔ کتاب شائع ہونے پراعلیٰ حضرت نظام دکن کے علاوہ دیگر اربابِ حکومت کو بھی بھجوائی گئی۔ اس کے مطالعہ کے نتیجہ میں بکثرت احباب احمدیت کی طرف مائل ہوئے بالخصوص دکن کی ایک بہت اہم شخصیت حضرت سیٹھ عبداللہ الٰہ دین صاحب کو اس کے ذریعہ قبول حق کی توفیق ملی۔ وہ اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور دکن کے ایک متموّل اور صاحب حیثیت گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ اُن کا علم و فضل، دلکش صورت اور اوصافِ حمیدہ اس علاقہ میںاحمدیت کے لئے بڑی کشش کا موجب بنے اور متعدد افراد کو اُن کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے اپنی دولت کا بیشتر حصہ احمدیت کے لئے وقف کر دیا اور بکثرت اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعہ سے ہندوستان کے طول و عرض میں حضرت مسیح موعودؑ کا پیغام پہنچایااور اس طرح بہت سی سعید روحیں احمدیت کی آغوش میں آئیں۔
ڈاکٹر کرم الٰہی صاحب فرماتے ہیں: ایک دہریہ نے حضورؓ کا ’’تحفۃالملوک‘‘ پڑھا ، کہتا تھا کہ یہ شخص اس طاقت اور قوّت کا معلوم ہوتا ہے کہ جس پر کوئی بھی انسا ن غالب نہیں آ سکے گا۔ پھر اُس نے ’’القول الفصل‘ ‘ پڑھ کر بھی رائے قائم کی کہ ’’ یہ ایک عجیب ہی شان کا انسان معلوم ہوتا ہے جس کے کلام میں بچپن یا جوشِ شباب یا ناتجربہ کاری یا پست ہمتی کا شائبہ تک نہیں بلکہ بہت بڑے دماغ اور عجیب شان کا انسان ہے جس کے کلام میں قوت، عظمت اور جلال کی روح پائی جاتی ہے‘‘۔
٭ ویمبلے مذہبی کانفرنس میں اسلام کی برتری و حقّانیت کے متعلق حضورؓ کے معرکۃالٓا راء مضمون ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ میں اسلام کی بنیادی تعلیمات ان کی حکمت و فلسفہ بڑے د لنشین انداز اور مدلّل طریق پر بیان کیا گیا ہے۔ ایک مشہور فرانسیسی عالم جو مذاہب کے تقابلی مطالعہ میں بہت مہارت رکھتے تھے ۔ یہ مضمون سن کر بے ساختہ کہنے لگے “Well put, well arranged, well dealt”۔ یعنی خوب بیان کیا گیا، خوب ترتیب دیا گیا اور خوب پیش کیا گیا۔
اکثر حاضرین کی زبان پر تھا کہ ’ایک نادر خطاب ۔ ایسے اچھوتے مضامین ہر روز سننے میں نہیں آتے‘۔ بعض تبصرہ کرنے والوں نے کہا کہ ’یہ اس زمانے کا لُوتھر معلوم ہوتا ہے‘۔ اور یہ کہ ’یہ موقعہ احمدیوں کے لئے ایک ٹَرننگ پوائنٹ ہے‘۔ خود حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی اس کتاب کے بارہ میں ایک بار فرمایا کہ: فرانس کی رائل ایشیاٹک سوسائٹی نے اسلام کے متعلق ایک مضمون میں میری اس کتاب کو اسلام کے متعلق اہم ترین تصنیف قرار دیا ۔
یہ مضمون ویمبلے کانفرنس میں حضورؓ کی موجودگی میں حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خانصاحبؓ نے پڑھا تھا۔ برطانوی پریس میں اس کا خاصا چرچا ہوا۔ ایک اخبار نے لکھا: ’’اس پرچہ کے بعد جس قدر تحسین و خوشنودی کا چیئر ز (Cheers) کے ذریعہ اظہار کیا گیا اس سے پہلے کسی پرچہ پر ایسا نہیں کیا گیا‘‘۔ (مانچسٹر گارڈین 24 ستمبر1924ء )
٭ اس یاد گار سفر میں پوپ کو اسلام کی حسین تعلیم سے آگاہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ لیکن پوپ نے اس شاندار موقع کو بعض معمولی عذرات سے ٹال دیا۔اس حوالہ سے حضورؓ فرماتے ہیں: ’’1924ء میں جب مَیں یورپ گیا تو روم میں بھی ٹھہرا۔ وہاں میں نے پوپ کو لکھا کہ تم عیسائیت کے پہلوان ہو اور میں اسلام کا پہلوان ہوں۔ مجھے ملاقات کا موقع دو تاکہ بالمشافہ اسلام اور عیسائیت کے متعلق میں بات کر سکوں۔ اس کے جواب میں پوپ کے سیکرٹری کی طرف سے مجھے چٹھی آئی کہ پوپ صاحب کی طبیعت خراب ہے اس لئے وہ مل نہیں سکتے ۔انہی دنوں اٹلی کے ایک اخبار کا ایڈیٹر جو سوشلسٹ تھا مجھے ملنے آیا وہ ایسا اخبار تھا جس کے دن میں بارہ ایڈیشن نکلتے تھے … اس نے مجھے کہا کہ آپ یہاں پہلی دفعہ آئے ہیں۔ یہ بڑا اچھا موقع ہے آپ پوپ سے ملاقات کی کوشش کریں ہمیں مسلمانوں کے لیڈرکے خیالات سننے کا موقع مل جائے گا اور بالمقابل عیسائیوں کے لیڈر کے خیالات سننے کا بھی موقع مل جائے گا۔ مَیں نے کہا مَیں نے تو خود اس سے ملاقات کی کوشش کی تھی مگر اس کے سیکرٹری کی طرف سے جواب آگیا ہے کہ پوپ صاحب کی طبیعت اچھی نہیں۔ کہنے لگا آپ ایک دفعہ پھر اُنہیں میری خاطر لکھیں۔ مَیں نے کہا اس کے معنے تو یہ ہیں کہ تم مجھے بے عزت کروانا چاہتے ہو کیونکہ اس نے ملاقات کا موقع نہیں دینا۔ کہنے لگا ہماری نظروں میں تو اس سے آپ کی عزت بڑھے گی کم نہیں ہو گی … مَیں نے اس کے کہنے پر پھر خط لکھ دیا۔ اس کے جواب میں اس کے چیف سیکرٹری کی مجھے چٹھی آئی کہ پوپ کا محل آج کل زیر مرمت ہے اس لئے افسوس ہے کہ وہ ملاقات نہیں کر سکتے۔ دو چار دن کے بعد پھر وہی ایڈیٹر ملنے کے لئے آیا تو اس نے پوچھاکہ کیا پوپ کی طرف سے کوئی جواب آیا ہے؟ مَیں نے کہا ہاں، اُس نے یہ جواب دیا ہے تم پڑھ لو۔ اس چٹھی کو پڑھ کر اسے بڑا غصہ آیا اور کہنے لگا کہ اب میں اپنے اخبار میں اس کی خبر لوں گا … چنانچہ دوسرے دن اخبار چھپا تو اس میں اس نے ایک بڑا مضمون لکھا کہ یہاں آجکل مسلمانوں کا ایک بہت بڑا لیڈر آیا ہوا ہے اس نے پوپ کوخط لکھاکہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں مجھے ملاقات کا موقعہ دیا جائے تاکہ اسلام اور عیسائیت کے متعلق باہم گفتگو ہو جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ موقعہ بڑا اچھا تھا اور اگر ملاقات ہو جاتی تو پتہ لگ جاتا کہ ہمارے لیڈر اپنے مذہب سے کتنے واقف ہیں اور مسلمانوں کے لیڈر اپنے مذہب سے کتنی واقفیت رکھتے ہیں۔ مگر پوپ کے چیف سیکرٹری نے اس کا یہ جواب دیا کہ پوپ کا محل آجکل زیر مرمت ہے اس لئے وہ ملاقات نہیں کر سکتے ۔ اس کے بعد اس نے طنزاً لکھا کہ ہم یقین کرتے ہیں کہ اب پوپ کا محل قیامت تک زیرِ مرمت ہی رہے گا‘‘۔ (خطبہ جمعہ 23اگست 1957ء )
اس وقت کے پوپ کا نامEminence Ambrogio Damiano Achille Cardinal Ratti” تھا جو 6؍فروری 1922ء کو 64 سال کی عمر میں بشپ آف روم منتخب ہوئے اور 10؍فروری 1939ء کو وفات پائی۔
٭ حضرت مصلح موعودؓ نے تبلیغ کی ضروریات کے لئے تحریک جدید اور وقف جدید کی سکیموں کا اجراء کرنے کے علاوہ واقفین زندگی کی ضرورت کا بھی احباب جماعت کو احساس دلایا یعنی ایسے مبلغ جو ہمہ تن بس اسی کام کے لئے وقف ہوں، سلسلہ کے لئے اپنے وطن چھوڑنے کے لئے تیار ہوں، اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کے لئے تیار ہوں اور بھوکے اور پیاسے رہ کر بغیر تنخواہوں کے اپنے نفس کو تمام تکالیف سے گزارنے پر آمادہ ہوں۔
چنانچہ بیسیوں نوجوانوں نے اس آواز پر لبّیک کہا اور کئی تو اپنی اعلیٰ ملازمتوں سے استعفیٰ دے کر واقف زندگی ہوئے اور ان سب خطرات کو مول لے کر دُور دراز ملکوں میں گئے جس کے پھل خدا تعالیٰ کے فضل سے آج جماعت احمدیہ خود مشاہدہ کر رہی ہے۔ الغرض یہ حضورؓ کی اس خواہش کا عملی اظہار تھا کہ
شیطان کی حکومت مِٹ جائے اس جہاں سے
حاکم تمام دنیا پہ میرا مصطفیٰ ؐ ہو
پیشگوئی مصلح موعود میں آپ کی ایک علامت یہ بھی بیان کی گئی تھی کہ ’’دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی‘‘۔ چنانچہ جب 10؍مارچ 1944ء کو پیشگوئی مصلح موعود کا اعلان کرنے کے لئے لاہور میں ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد ہوا تو اس موقع پر سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے متعدد مختلف ممالک کے اُن مربیان کو پیش کیا جو حضور کی ہدایت کے مطابق اُس وقت تک اکنافِ عالم میں پیغام حق پہنچانے کا فریضہ سر انجام دے چکے تھے اور انہوں نے اپنے ملک میں جہاں انہوں نے کام کیا تھا اپنے اپنے تأثرات بیان کئے۔ اس موقعہ پر حضرت مولوی ظہور حسین صاحب آف بخارا بھی تھے جن کا ذکر کرتے ہوئے حضورؓ نے فرمایا یہی مولوی ظہور حسین صاحب جنہوں نے ابھی روس کے حالات بیان کئے ہیں، جب انہوں نے مولوی فاضل پاس کیا تو اس وقت لڑکے ہی تھے۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ تم روس جائو گے؟ انہوں نے کہا مَیں جانے کو تیار ہوں۔ مَیں نے کہا جائو گے تو پاسپورٹ نہیں ملے گا۔ کہنے لگے بے شک نہ ملے مَیں بغیر پاسپورٹ کے ہی اُس ملک میں تبلیغ کے لئے جائوں گا۔ آخر وہ گئے اور دو سال جیل میں رہ کر انہوں نے بتا دیا کہ خدا نے کیسے کام کرنے والے مجھے دئیے ہیں۔ خدا نے مجھے وہ تلواریں بخشی ہیں جو کفر کو ایک لمحہ میں کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔ خدا نے مجھے وہ دل بخشے ہیں جو میری آواز پر ہرقربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مَیں انہیں سمندر کی گہرائیوں میں چھلانگ لگانے کے لئے کہوں تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہیں۔ مَیں انہیں پہاڑوں سے اپنے آپ کو گرانے کے لئے کہوں تو وہ پہاڑوںکی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرا دیں۔ میں انہیں جلتے ہوئے تنوروں میں کود جانے کا حکم دوں تو وہ تنوروں میں کود کردکھادیں۔ اگر خود کشی حرام نہ ہوتی۔ اگر خود کشی اسلام میں حرام نہ ہوتی تو میں اس وقت تمہیں یہ نمونہ دکھا سکتا تھاکہ جماعت کے سو آدمیوں کو اپنے پیٹ میں خنجر مار کر ہلاک ہو جانے کا حکم دیتا اور وہ سو آدمی اسی وقت اپنے پیٹ میں خنجر مار کر مر جاتے۔
٭ حضرت مصلح موعودؓ نے 23؍ اکتوبر1959ء کو مجلس خدّام الاحمدیہ کے مرکزی اجتماع میں تمام خدّام کو کھڑا کرکے یہ عہد لیا تھا کہ:
’’ ہم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم اسلام احمدیت کی اشاعت اور محمد رسول اللہ ﷺ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے چلے جائیں گے اور اس مقدس فریضہ کی تکمیل کے لئے اپنی زندگیاں خدا اور اس کے رسول ﷺ کے لئے وقف رکھیں گے اور ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کر کے قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اونچا رکھیں گے۔‘‘
پھر حضورؓ نے فرمایا کہ:
’’یہ عہد جو آپ لوگوں نے اس وقت کیا ہے متواتر چار صدیوں بلکہ چار ہزار سال تک جماعت کے نوجوانوں سے لیتے چلے جائیں اور جب تمہاری نئی نسل تیار ہو جائے تو پھر اسے کہیں کہ وہ اس عہد کو اپنے سامنے رکھے اور ہمیشہ اسے دہراتی چلی جائے اور وہ نسل یہ عہد اپنی تیسری نسل کے سپرد کر دے۔ اور اس طرح ہر نسل اپنی اگلی نسل کو تاکید کرتی چلی جائے۔اسی طرح بیرونی جماعتوں میں جو جلسے ہوا کریں ان میں بھی مقامی جماعتیں خواہ خدام کی ہوں یا انصار کی یہی عہد دوہرایا کریں۔ یہاں تک کہ دنیا میں احمدیت کا غلبہ ہو جائے اور اسلام اتنا ترقی کرے کہ دنیا کے چپّہ چپّہ پر پھیل جائے‘‘۔
اپنی تقریر ’’سیرروحانی‘‘ میں آپؓ نے احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اب خدا کی نوبت جوش میں آئی ہے اور تم کو، ہاں تم کو ، ہاں تم کو خدا تعالیٰ نے پھر اس نوبت خانہ کی ضرب سپرد کی ہے ۔ اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤکہ دنیا کے کان پھٹ جائیں۔ ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قَرنا میں بھردو۔ ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قَرنا میں بھردو کہ عرش کے پائے بھی لرز جائیں اور فرشتے بھی کانپ اُٹھیں تاکہ تمہاری دردناک آوازیں اور تمہارے نعرہ ہائے تکبیر اور نعرہ ہائے شہادتِ توحید کی وجہ سے خداتعالیٰ زمین پرآجائے اور پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت اس زمین پر قائم ہو جائے۔ اسی غرض کے لئے مَیں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اور اسی غرض کے لئے مَیں تمہیں وقف کی تعلیم دیتا ہوں۔ سیدھے آئو اور خدا کے سپاہیوں میں داخل ہو جائو … پس میری سنو اور میری بات کے پیچھے چلو کہ مَیں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ خدا کہہ رہا ہے۔ میری آواز نہیں ہے۔ مَیں خدا کی آواز تم کو پہنچا رہا ہوں۔ ‘‘

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں