تعارف کتاب : ’’پردہ‘‘

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 15 فروری 2019ء)

سرورق : پردہ (اردو)
مصنّفہ : انتخاب از ارشادات حضرت مرزا مسرور احمد
خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
پبلشر : لجنہ سیکشن مرکزیہ لندن
شائع شدہ : لندن
ایڈیشن : اوّل
تاریخ طباعت: نومبر 2018ء
تعداد : 16000
تعداد صفحات: 220
تصاویر : ایک عدد رنگین
قیمت : 1£ ۔ ایک پاؤنڈ سٹرلنگ (برطانیہ میں)

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

 


(مبصر: فرخ سلطان محمود)

اِس دَورِ آخرین میں معاندینِ اسلام جس شدّت کے ساتھ ہر جہت اور ہر زاویہ سے اسلامی تعلیم پر حملہ آور ہیں اور بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن اُسوۂ حسنہ کو گدلا کرنے کی ناپاک اور ناکام سازشوں میں مصروف ہیں اُس کا اظہار کبھی تو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نازیبا خاکوں کی اشاعت کی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی کسی عیسائی پادری کی طرف سے قرآن کریم جیسی مقدّس ترین الہامی کتاب کی بے حُرمتی کرنے سے نیز حضرت خاتم النبیین ﷺ اور خاتم الکتب قرآن کریم کی مقدّس تعلیم پر جارحیت کے مرتکب کبھی دجّالی مصلحتوں کا شکار وہ منتخب عوامی نمائندے بھی ہوتے ہیں جو بعض ممالک کی قانون ساز اسمبلیوں کی نشستوں پر بیٹھ کر اسلام مخالف قوانین کی تشکیل میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ نیز مغربی ممالک میں نام نہاد آزادیٔ رائے کا مدّعی میڈیا اور اس کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے شُتر بے مہار قسم کے چند صحافی اور تجزیہ نگاربھی اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کی منفی تصویرکشی کرتے ہوئےکبھی اسلامی جہاد کی خودساختہ تشریحیں کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی انسانیت کے خلاف کئے جانے والے سنگین جرائم پر بیان شدہ قرآنی سزاؤں میں تشدّد کے عنصر کو ابھارتے ہوئے اُن کی تشہیر میں سرگرم عمل ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلامی پردہ اور اس جیسے دیگر قرآنی احکام پر استہزاء کرتے ہوئے نقاب اور حجاب پر پابندی کے نفاذ کا قانونی جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
علم و دانشوری کا خودساختہ دعویٰ رکھنے والے بعض متعصّب اخبار نویس ایک طرف تو باپردہ مسلمان خواتین کو ایک قیدی کے رُوپ میںبےبسی کی تصویر بناکر پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف تہذیب و تمدّن اور ثقافت (civilisation) کے ارتقاء کے نام پر مسلمان عورتوں کی نام نہاد آزادی (یعنی بے حیائی اور عریانی) کی حمایت میں اپنی آوازیں بلند کرتے چلے جارہے ہیں۔
امرواقعہ یہ ہے کہ آج کسی بھی مسلمان ریاست میں اگر عورت مجبور و محصور نظر آتی ہے تو اس کی وجہ اُس معاشرہ کی وہ بے جان روایات ہیں جن کا اسلام سے دُور کا بھی تعلق نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ عورتوں کو جو حقوق ڈیڑھ ہزار سال قبل حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائے تھے دنیا کا کوئی دوسرا مذہب، معاشرہ ، تمدّن یا تہذیب اُس سے بڑھ کر حقوق دینے کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ عورتوں کو دی جانے والی حقیقی آزادی کا جو تصوّر اسلام نے اپنی تعلیمات میں پیش کیا ہے اور جسے ہمارے آقا و مولا حضرت رسول کریم ﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ نے اپنے پاکیزہ نمونہ سے دنیا کے سامنے عملاً پیش کیا اور جس کے نتیجہ میں عورتوں کو مدینہ کے عرب معاشرہ میں وہ احترام اور مقام ملا ہے جس کا عُشرعشیر بھی کسی دوسرے مذہب کی تعلیم یا کسی جدید تہذیب میں دکھائی نہیں دیتا۔
اسلام پر اعتراضات کے حوالہ سے مغرب کے مزاج کو پیش نظر رکھتے ہوئےحضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفائے کرام نے متعدد مواقع پر ہمیں وہ مربوط دلائل عطا فرمائے ہیں جن کے نتیجہ میں صرف احمدی مسلمان ہی ہیں جو اسلام پر کئے جانے والے ہر حملے کا جواب دینے اور دیگر مذاہب کی تعلیمات پر اسلامی تعلیم کی واضح برتری کو ثابت کرسکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند سالوں سے اسلام کے خلاف بغض و عناد کا اظہار جس شدّومد سے کیا جارہا ہے اُس کے پیش نظر احمدی مردوں، عورتوں اور بچوں کے ذہنوں میں اسلام کی عالمگیر تعلیمات کی فوقیت اُجاگر کرنے کے لئے ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے ارشاد کی تعمیل میں لجنہ سیکشن مرکزیہ کو پردہ کے موضوع پر ایک کتاب شائع کرنے کی توفیق مل رہی ہے جس میں خلافتِ خامسہ کے آغاز سے لے کر 2017ء تک کےمنتخب خطباتِ جمعہ، خطابات، پیغامات اور کلاسوں میں نیز مختلف ممالک میں لجنہ اماءاللہ کی نیشنل مجالس عاملہ کو دی گئیں حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ کی زرّیں نصائح اور پُر معارف ارشادات شامل ہیں۔
اگرچہ یہ کتاب بالخصوص احمدی خواتین کے لئے تیار کی گئی ہے جس کو پڑھنے سے پردہ کے اسلامی حکم کی اہمیت و برکت کا بخوبی علم ہوتا ہے۔تاہم اِس کتاب کی افادیت صرف عورتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ مَردوں کے لئے بھی یہ یکساں اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں پاکبازی اور غضِّ بصر کی جو پُر حکمت قرآنی تعلیم بیان ہوئی ہے اُس پر عمل کرکے مرد اور عورت دونوں ہی عصرِ حاضر میں پھیلی ہوئی اخلاقی برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت بلاشبہ اُن چند فقرات سے بخوبی عیاں ہوسکتی ہے جو سیّدنا حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے پیش لفظ کے طور پر تحریر فرمائے ہیں۔ حضورانور فرماتے ہیں:

’’پردے کے متعلق مَیں نے قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےارشادات کے حوالہ سے مختلف مواقع پر بہت کچھ کہا ہوا ہے۔اس کتاب میں پردے کے متعلق جو امور ہیں ان کو لجنہ اور ناصرات کو ہمیشہ اپنی زندگیوں میں پیشِ نظر رکھنا چاہئےاور اس بارہ میں ہر موقع پر انہیں اپنے نیک نمونے پیش کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق دے۔آمین‘‘

سرِدست یہ کتاب اردو زبان میں شائع ہوئی ہے جس کے دیگر زبانوں (انگریزی، عربی، جرمن، فرنچ، بنگلہ اور انڈونیشین وغیرہ) میں تراجم کئے جارہے ہیں۔ A5 سائز کے قریباً سوا دو صد صفحات پر مشتمل اس کتاب کے پہلے باب میں پردے کے شرعی حکم کی حِکمت بیان کرتے ہوئے مَردوں اور عورتوں کو غضِّ بصر سے کام لینے کے حکم کا پس منظر بیان کیا گیا ہے نیز عورت اور مرد کی پاکدامنی، نیز فروج سے اصل مراد اور ان کی حفاظت کی تشریح بھی اس باب میں شامل ہے۔ دوسرے باب میں بتایا گیا ہے کہ چہرے کا پردہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے اور یہ کہ عورت کا تقدّس زینت چھپانے میں ہے۔ تیسرے باب میں اسلامی پردے کی حدود تفصیل سے بیان کی گئی ہیں مثلاً محرم رشتہ داروں سے پردہ کی چھوٹ میں حکمت و فلسفہ، گھروں میں داخل ہونے والوں کے لئے مشروط اجازت کا بیان، عورتوں اور مَردوں کی مخلوط مجالس نہ لگانے کی ہدایت، عورتوں کا مَردوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کی ممانعت، ملازمین سے بھی پردہ کرنے کی نصیحت۔ نیز تقریبات میں عورتوں کی طرف لڑکوں کا کھانا serveنہ کرنے، خوشی کی تقریبات کے موقع پر عورتوں کے رقص اور دلہن اور شادی میں شریک خواتین کو بھی پردہ کا خیال رکھنے کی بابت بصیرت افروز ارشادات اور ان کی حکمتیں مذکور ہیں۔
کتاب کے چوتھے باب میں اسلامی پردہ پر غیروں کی طرف سے اٹھائے جانے والے مختلف اعتراضات کا ردّ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہر مہذّب معاشرہ میں معززین کا لباس باوقار ہوتا ہے ۔ اسی طرح پردہ کی قرآنی تعلیم کا مقابلہ انجیل کے اسی قسم کے احکامات سے کیا گیا ہے نیز مشرقی اور مغربی معاشروں کا تقابلی جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ اسلامی روایات پر پابندی کی کوششوں کے ضمن میں عورتوں اور مَردوں کی علیحدہ نشستوں پر کئے جانے والے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ نیز مسلمان عورتوں اور مَردوں کے علیحدہ نماز ادا کرنے پر اعتراض کا پُرحکمت جواب بھی اس باب میں شامل ہے۔ اسی طرح غیروں کی طرف سے عورتوں کے حقوق کے نام پر پردہ پر کی جانے والی تنقیدکا مؤثر جواب دیا گیا ہے۔ آخر میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ پردے میں کسی قسم کا تشّدد جائز نہیں۔ پانچواں باب لِبَاسُ التَّقْوٰی کے موضوع سے شاملِ کتاب ہے جس میں لباس کے دو بنیادی مقاصد بیان کئے گئے ہیں یعنی اوّل ہماری کمزوریوں کو ڈھانکتا ہے اور دوم زینت عطا کرتا ہے۔ اس کے بعد لفظ ریش کا مفہوم پیش کیا گیا ہے جس کے لُغوی معانی ہیں ’’پرندوں کے پَر‘‘ (جنہیں نوچ دیا جائے تو وہی پرندہ بے حد بدصورت نظر آتا ہے) اور انسانوں کے حوالہ سے اس سے مراد ہے ’’خوبصورت لباس‘‘۔ اس کے بعد حیادار لباس کی تعریف کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ عربوں اور ترکوں میں بھی برقع کا رواج تھا۔ یہاں یہ نصیحت بھی کی گئی ہے کہ برقعے حیادار ہونے ضروری ہیں نیز سوئمنگ کے لباس میں بھی احتیاط کے پہلوؤں کو مدّنظر رکھا جانا چاہئے۔
کتاب کا چھٹا باب ’’سوشل میڈیا اور پردہ‘‘ سے معنون ہے۔ اس باب میں سوشل میڈیا کے بے پردگی بڑھانے میں کردار کا ذکر کرنے کے بعد سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے بارے میں نصائح شامل ہیں۔ ساتویں باب میں احمدی عورت کی ذمہ داریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ خصوصاًاحمدی ماؤں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اپنی بچیوں میں پردے کا احساس پیدا کریں نیز بتایا گیا ہے کہ احمدی بچی کی آزادی کی حدود اور پردہ کا معیار کیا ہونا چاہئے۔ عمومی طور پر احمدی خواتین کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ پردہ کے معاملے میں احساسِ کمتری کا شکار ہونے کی بجائے جرأت اور دعاؤں سے کام لیں۔ حضورانور کی طرف سے نَومبائع احمدی خواتین سے بھی عمدہ نمونے قائم کرنے کی توقع کی گئی ہے۔ یہ نصیحت کی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں میں پردہ کا معیار قائم رکھیں نیز ملازمت کی راہ میں پردہ روک نہیں ہے۔ آخر میں حضورانور کی یہ نصیحت شامل اشاعت ہے کہ اسلامی پردہ اسلام کی تبلیغ کے لئے بہترین عملی نمونہ ہونا چاہئے۔ کتاب کے آٹھویں باب میں واقفاتِ نَو کے لئے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی ارشادات شامل اشاعت ہیں۔ اس حوالہ سے واقفاتِ نَو کی ماؤں کو اچھا نمونہ دکھانے کی نصیحت کی گئی ہے اور مربیان اور اُن کی بیویوں کے لئے پردہ کرنے کی خاص ہدایت کے علاوہ لجنہ عہدیداران کو بھی نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اپنا عمدہ نمونہ دیگر ممبراتِ لجنہ کے لئے قائم کریں۔
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےمتعدّد مواقع پر احمدی خواتین کے پردہ کے حوالہ سے قابل تقلید نمونوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جن چند خواتین کے انفرادی مثالی نمونے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مختلف خطابات میں بیان فرمائے ہیں اُن میں حضورانور ایدہ اللہ کی والدہ محترمہ حضرت سیّدہ ناصرہ بیگم صاحبہ (اہلیہ محترمہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب)، حضرت صاحبزادی امتہ القیوم بیگم صاحبہ (اہلیہ محترمہ حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب) ، محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ (واقف زندگی)، مکرمہ ناصرہ سلیمہ رضا صاحبہ (افریقن امریکن احمدی)، مکرمہ تانیہ خان صاحبہ (لبنانی نژاد کینیڈین نَواحمدی)، محترمہ فاہمی صاحبہ (مراکش کی نَواحمدی)، محترمہ الحاجہ سسٹر نعیمہ لطیف صاحبہ (1974ء میں احمدیت قبول کرنے والی امریکن احمدی)، محترمہ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ (واقف زندگی) اور مکرمہ سلیمہ میر صاحبہ (سابق صدر لجنہ کراچی) شامل ہیں۔ اسی باب میں حضورانور کے وہ ارشادات بھی شامل ہیں جن میں مختلف ممالک میں آباد احمدی خواتین اور بچیوں کی طرف سے پردے کی پابندی کرنے اور پردہ کے اسلامی حکم پر جرأت کے ساتھ لبّیک کہنے کے قابل فخر عمل کو حضورانور نے سراہا ہے۔ نیز حضورانور ایدہ اللہ کے بیان فرمودہ وہ تأثرات بھی اس باب میں شامل ہیں جن میں غیراز جماعت مہمان خواتین کی طرف سے احمدی عورتوں کے پردے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے متعلق کلماتِ تحسین پیش کئے تھے۔
اس نہایت مفید کتاب کا اختتام حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے احمدی خواتین سے ارشاد فرمودہ ایک اہم خطاب کے اقتباس پر کیا گیا ہے جس میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃالحدید کی آیات21 و 22(جن میں قرآنی حکم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جنت کی ضمانت دی گئی ہے) کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی پاک کتاب قرآن کریم میں مختلف طریقوں سے، مختلف پیرایوں سے توجہ دلائی ہے کہ اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھو اور میری طرف آؤ۔ اور اس زمانے میں اس مقصد کی طرف ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی ہے۔ پس ہم پر خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں مسیح محمدیؐ کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہوں کو پانے کی طرف توجہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر غور کرنے والے اور ان پر عمل کرنے والے ہوں اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے والے ہوں۔‘‘

(خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یوکے 30؍جولائی 2005ء۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 11؍مئی 2007ء)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے آقا کی انمول نصائح وارشادات کو مشعلِ راہ بنانے اور اُن پر کما حقّہٗ عمل پیرا ہونےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں