تعزیتی مجالس کے آداب

تعزیتی مجالس کے آداب بیان کرتے ہوئے ماہنامہ ’’اخبار احمدیہ‘‘ لندن مئی وجون 1996ء میں محترم بشیر الدین سامی صاحب رقمطراز ہیں کہ پسماندگان سے تعزیت اور ان کی تقویت کے لئے ارشاد الٰہی

اِنَّا لِلہ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعون

کی تکرار اور اس آیت مبارکہ کے معانی کا بیان ہی افسوس کے سب کلمات سے ارفع و اعلیٰ اور موثر ہے اور اکابر کا بھی یہی دستور ہے اور اسی پر عمل کرنا چاہئے۔
اپنے بعض مشاہدات کی روشنی میں مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ تعزیت کے لئے جانے والے کچھ لوگ خوش گپیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں یا بہت دیر وہاں بیٹھ کر اہل خانہ پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ اس لئے مناسب وقت تک بیٹھیں، اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار اور اُنہیں صبر کی تلقین کریں اور متوفیّٰ کے لئے دعا کرتے ہوئے رخصت کی اجازت لیں اور آنے والے دوسرے لوگوں کے لئے جگہ خالی کر دیں۔ اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ گھر والوں کو بھی تنہائی اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں