تعلیم الاسلام کا لج کے تین شہید طالبعلم – محمد منیر خان شامی، میاں جمال احمد، مبشر احمد چدھڑ

(تعارف و انتخاب: فرخ سلطان محمود)

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین ستمبر و اکتوبر2015ء)

تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے سابق طلباء کی برطانیہ میں‌قائم تنظیم کے ماہنامہ ’’المنار‘‘ مئی 2011ء میں مکرم پرو فیسر محمد شریف خان صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں کالج کے تین شہید طلباء کا ذکرخیر کیا گیا ہے۔
محترم محمد منیر خان شامی شہید
مضمون نگار اپنے حقیقی بھائی محترم محمد منیر خان شامی شہید کا ذکرخیر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے والدڈاکٹر حبیب اللہ خان صاحب ابوحنیفی مرحوم کا تعلق ایک کٹر حنفی خاندان سے تھا۔ آپ نے احمدیت کا ذکر بھی سنا تھا تو مخالفت میں۔ جب آپ افریقہ گئے اور وہاں احمدیوں کو قریب سے دیکھا تو دعا کے بعد انشراح صدر ہوا اور آپ نے احمدیت قبول کرلی۔ پھر جب آپ افریقہ گئے تو اپنے بیوی بچوں کو دینی ماحول میں تربیت کی خاطر قادیان میں چھوڑ گئے۔ میرے بڑے بھائی ڈاکٹر محمد حفیظ خان صاحب میڈیکل سکول امرتسر کے طالبعلم تھے جبکہ بھائی محمد منیر خان شامی تعلیم الاسلام کالج قادیان میں پڑھتے تھے۔ گھربار کی نگرانی انہی کے سپرد تھی۔ آپ 1922ء میں تنزانیہ میں پیدا ہوئے، وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ چونکہ واقف زندگی تھے اس لئے M.Sc کرنے کی ہدایت آپ کو کی گئی۔ 1947ء میں آپ B.Sc کے آخری سال میں تھے۔ صاف ستھرا علمی ذوق رکھتے تھے۔ مطالعہ کا بے حد شوق تھا۔ ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر تھی اور عربوں سے ہمدردی کی بناء پر شامی کہلاتے تھے۔
1947ء میں تقسیم ہند کے وقت حالات خراب ہوئے تو وہ سارا دن ڈیوٹی پر رہتے اور شام کو کچھ دیر کے لئے خیریت معلوم کرنے گھر آتے۔ رات کو گولیاں چلنے کی آوازیں آتیں۔ اسی دوران ایک خالہ زاد بھائی جو فوج میں ملازم تھے، ہمیں لینے کے لئے ٹرک لے کر آگئے۔ والدہ کے کہنے کے باوجود بھائی منیر گھر میں ہی ٹھہرے رہے کیونکہ یہی ہدایت تھی۔ اُن کے پاس ابّاجی کی دو نالی بندوق بھی تھی لیکن اُسی رات سکھوں نے حملہ کیا تو بھائی نے کچھ مقابلہ بھی کیا لیکن جب صبح خدام گئے تو دیکھا کہ آپ صحن میں خون میں لت پت پڑے تھے، پیٹ چاک تھا اور شہید ہوچکے تھے۔ اباجی نے افریقہ میں یہ صدمہ بہت بہادری سے سہا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے شہدائے احمدیت کا ایک ترتیب سے تذکرہ کرتے ہوئے اپنے خطبہ جمعہ 11؍جون 1999ء میں محترم محمد منیر شامی شہید کا ذکر بھی فرمایا تھا۔
مکرم میاں جمال احمد شہید
بھاٹی گیٹ لاہور کے نوجوان مکرم میاں جمال احمد صاحب ابن مکرم مستری نذر محمد صاحب 1953ء کے فسادات میں شہید ہوئے۔ آپ وہ خوش نصیب غیرموصی ہیں جن کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے ارشاد کے تحت بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کیا گیا۔
مستری صاحب کی رہائشگاہ محلہ گیٹ رنگہ میں تھی اور مستری نذر محمد صاحب کا لکڑی کا آرا چوک یادگار کے قریب ٹیکسالی گیٹ کے سامنے تھا ۔ فسادات کے دوران مستری صاحب نے اپنے گھر والوں کو رنگ محل میں منتقل کر دیا تھا اور خود اپنے صاحبزادے میاں جمال احمد صاحب کے ساتھ گھر کی رکھوالی کے لئے ٹھہرے ہوئے تھے۔ 6مارچ 1953ء کی صبح میاں جمال احمد صاحب اپنی سائیکل پر رنگ محل کی طرف چل پڑے۔ اسی دوران مستری صاحب کو پتہ چلا کہ ان کے آرا پر آگ لگا دی گئی ہے اور وہ اس سلسلہ میں مصروف ہوگئے ۔میاں جمال صاحب جب رنگ محل جارہے تھے تو سامنے سے شرپسندوں کا ایک جلو س آگیا جس میں میاں صاحب کے محلہ دار بھی تھے۔ انہو ں نے جمال احمد صاحب کو پکڑ لیا کہ یہ بھی مرزائی ہے۔ کچھ محلہ داروں نے کہا کہ تم کہہ دو کہ تم احمدی نہیں، تم کو چھوڑ دیتے ہیں ۔مگر آپ نے انکار کردیا۔ پھر ایک شخص نے آپ سے کان میں کہا کہ تم صرف مجھے کہہ دو کہ تم مرزائی نہیں ہو میں تم کو بچا لیتا ہوں۔ مگر آپ نے جان بچانے کیلئے جھوٹ بولنا گوارا نہ کیا۔ اس پر تمام مجمع آپ پر ٹوٹ پڑا اور پتھروں اور چاقوؤں سے وار کرکے آپ کو شہید کر دیا۔ اس واقعہ کا گھر والوں کو علم نہ تھا ،بعد میں آرمی والوں کو لاش ملی تو انہوں نے اعلان کیا کہ ایک نامعلوم لاش ملی ہے۔ مستری نذر محمد صاحب نے بوٹوں سے پہچانا کہ یہ تو میاں جمال احمد صاحب کی لاش ہے۔ اس وقت آرمی والے ہی لاش لے گئے اور امانتاً دفن کر دیا۔ تقریباً چھ ماہ بعد جب بہشتی مقبرہ میں آپ کی تدفین کا فیصلہ ہوا تو آرمی والوں نے ان کی لاش کا تابوت ٹیکسالی گیٹ کے سامنے ان کے آرے والی جگہ پرا ن کے گھر والوں کے حوالے کر دیا ۔تابوت کا کچھ حصہ خراب ہو چکا تھا۔ مستری نذر محمد صاحب نے ایک ساگوان کی لکڑی کا تابوت تیا ر کیا اور پرانے تابوت کو لاش سمیت اس میں ڈال دیا۔
میاں جمال احمد صاحب کے بھائی نصیرالدین صاحب اور ان کی ایک بہن کے بقول جب تابوت کی لکڑی لگائی گئی تو ایک خاص قسم کی مٹھاس والی خوشبو آرہی تھی جو پہلے انہوں نے کبھی نہیں سونگھی تھی۔
اس کے بعد میاں جمال احمد صاحب کا تابوت ربوہ پہنچایا گیا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔
میاں جمال احمدصاحب اُس وقت تعلیم الاسلام کالج لاہور میںF.Sc.کے طالبعلم تھے ۔ وہ سکاؤٹ تھے اور کھیلوں میں بھی بھر پور حصہ لیتے تھے ۔ جماعت کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔اپنے گھر کے باہر ایک بورڈ بناکر اس پر منارۃ المسیح کی تصویر بنائی ہوئی تھی اور ساتھ تحریر تھا کہ قادیان ہماری چیز ہے یہ ضرور ہمیں مل کر رہے گی۔
حضرت مصلح موعودؓ کی لاہور میں آمد پر جمال صاحب خوش دلی سے ڈیوٹیاں دیا کرتے تھے۔ آپ نرم مزاج کے تھے اور لڑائی سے پرہیز کیا کرتے تھے۔ اگر کوئی لڑ پڑتا تو اسے پنجابی میں کہتے ’’تیرا بھلا ہو‘‘۔ آپ کے دو تین بھائی بچپن ہی میں فوت ہوگئے تھے اس لئے آپ کی شہادت پر والدین اور خصوصاً والدہ صاحبہ کا ضبط قابل ستائش تھا۔ وہ غم سے اگرچہ کانپ رہی تھیں مگر بے صبری کا کلمہ منہ سے نہ نکالا اور نہ ہی کوئی آنسو بہایا۔ بلکہ انہوں نے باقی بچوں کو بھی سختی سے منع کردیا کہ کوئی نہ روئے۔ جمال صاحب کا تخلص محبوبؔ تھا۔
میاں جمال صاحب کے والدین 1986ء میں فوت ہوئے اور دونوں بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔
مکرم مبشر احمد صاحب چد ھڑشہید
گکھڑ منڈی ضلع گو جرا نوالہ کے چو ہدری اما نت علی صا حب کے ہو نہا ر بیٹے مبشر احمد تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں ایف ایس سی کے طا لب علم تھے ۔عزیزم خوبصورت، صحتمند، ہنس مکھ نوجوان تھا۔ طبیعت میں ہلکاپھلکا مزاح تھا لیکن بزرگوں کے سا تھ ہمیشہ مؤدّب رہتا۔ مجلس اور جماعت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا۔ا پنی لیاقت اور خوش خُلقی کے باعث کا لج میں ہردلعزیز تھا۔ موسمِ گرما کی چھٹیاں گزار نے گھر آ یا ہوا تھا۔ ایک دن بازار میں سے گزر رہا تھا کہ ایک اوباش قصائی نے چھری کے پے در پے وار کرکے شہید کردیا۔
ان دنوں حضرت صاحبزادہ مرزا نا صر احمدصاحبؒ پرنسپل تعلیم الاسلام کا لج ربوہ ، کراچی تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ جب انہیں مکرم مبشراحمد صاحب کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپؒ نے مکرم پروفیسر چو ہدری محمد علی صاحب کو آدھی رات کو فون کرکے دریافت فرمایا کہ اس خبر کی تفصیل بتا ئی جائے۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے نیند نہیں آرہی اور بے حدبے چینی ہے۔ کیا یہ مبشر احمد وہ تو نہیں جو ہروقت مسکراتا رہتا تھا؟‘‘۔ افسوس کہ یہ وہی مبشر احمد تھا جس کی وفات پر آپ اس طرح بے چین ہوگئے اور کرا چی سے فون کیا۔
مضمون نگار لکھتے ہیں کہ مَیں شہید مرحوم کو بچپن سے جانتا تھا اور اتنا عر صہ گزر جانے کے بعد بھی آج جب عزیزم مبشر احمد کی یاد آتی ہے تو طبیعت پر ایک خاص قسم کی افسرد گی چھا جا تی ہے اور بے اختیار دل سے دعا نکلتی ہے۔ ان جیسے جان نثا روں کے بارہ میں حضرت مولانا غلام رسو ل صاحب را جیکیؓ کا ایک فارسی شعر ہے جس کا ترجمہ یوں ہے:
اگرچہ محبت الٰہی سے سر شار ہو کر جان قر بان کرنے والوں کی روایات کو دنیا بھول چکی ہے ، مگر ہم نے قرونِ اولیٰ کی ان روایا ت کو از سرِ نو تا زہ کردیا ہے۔ حق و صداقت کے عاشق جہاں اپنی جا نیں نثار کر تے رہے ہیں ، اُ سی قربان گاہ تک رسائی تو ہماری زند گی کا نصب العین ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں