تلاشِ گمشدہ

مزاحیہ مضمون:

(مطبوعہ رسالہ ’’طارق‘‘ جلدنمبر3 شمارہ نمبر3)

(تحریر: محمود احمد ملک)

ہم ناشتہ کرکے جو گھر سے نکلے تو سارا دن بکروں کو ٹٹولنے اور اُن کے منہ کھول کر دانت گننے میں گزر گیا لیکن گوہر مقصود پھر بھی ہاتھ نہ آیا جبکہ بڑی عید میں صرف دو روز باقی رہ گئے تھے۔ بکرے کی تلاش یوں تو ہفتہ بھر سے جاری تھی لیکن جوں جوں عید کا دن قریب آ رہا تھا اس تلاش میں شدت آ رہی تھی اور بکروں کی قیمتیں روز افزوں روبہ ترقی تھیں۔ چنانچہ جس بکرے کو گزشتہ دن ہم تین ہزار روپے میں خریدنے کی ہمّت نہ کر پائے تھے وہ آج سوا تین ہزار روپے میں مل رہا تھا چنانچہ ہم نے مجبوراً یہ فیصلہ کرلیا کہ اب کی بار بکرا عید کی بجائے ’’بقرہ عید‘‘ یعنی گائے عید منالی جائے۔ یہ سوچ کر ہم واپس گھر کو روانہ ہوئے۔ سورج غروب ہو رہا تھا اور ہم اگلے روز کا پروگرام ذہن میں بناتے ہوئے تھکے ہارے چلے جا رہے تھے۔ گھر کے قریب پہنچے تو کیا دیکھا کہ کچھ ہی دور ہمارے ہمسائے صاحب ایک اسمارٹ سے بکرے کی رسّی تھامے چلے آ رہے ہیں۔ مارے اشتیاق کے ہم اپنے گھر کے دروازے پر ہی کھڑے ہوگئے۔ چونکہ اندھیرا پھیل چکا تھا اس لئے یہی اندازہ ہوسکا کہ بکرا بہت ہی دبلا پتلا ہے اور اس طرح قیمت کا ہلکا پھلکا اندازہ لگاکر ہم اُن کا انتظار کرنے لگے۔ البتہ اس خیال سے گونہ اطمینان ہوا کہ بکرا خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو، موصوف اپنے ہمسایہ کو تو گوشت سے محروم نہیں رکھیں گے۔ چنانچہ ہم نے بڑھ کر انہیں سلام کیا اور بکرے کے سر پر دست شفقت پھیرا اور اس طرح یہ اندازہ بھی لگالیا کہ بکرا چونکہ اپنی ساخت میں بھی کچھ عجیب سا ہے اس لئے عجب نہیں کہ بے حد سستا ملا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ شرعاً قربانی کے قابل ہی نہ ہو۔ خیر ہمیں تو ہمسایہ ہونے کے ناطے صرف اپنے حقوق کی ہی فکر تھی، قربانی کی قبولیت کے معاملہ سے کچھ بھی سروکار نہ تھا۔


اتنے میں بکرے نے بڑھ کر ہمارا ہاتھ چاٹنا شروع کیا اور ہم نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا ’’کتنے میں لیا؟‘‘۔ جواب ملا ’’ایک ہزار میں آج ہی لیا ہے‘‘۔
ہم نے خوشی کا اظہار کیا کہ یہ تو بہت ہی سستا مل گیا ہے۔ موصوف کہنے لگے ’’جلدی میں لیا ہے لیکن ہے واقعی بہت سستا‘‘ … انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’ابھی چند روز پہلے ہمارے ایک دوست نے اسی نسل کا خریدا تھا، وہ کل چوری ہوگیا ہے چونکہ عید سے اگلے روز ہمارے دوستوں کا شکار کا پروگرام بن چکا تھا اس لئے یہ آج ہی خریدنا پڑا‘‘۔
شکار کا لفظ سُن کر ہم حیرت سے بکرے کی طرف متوجہ ہوئے جس کی حرکات و سکنات پہلے سے ہی مشکوک نظر آ رہی تھیں۔ دیکھا کہ وہ قریب ہی ایک درخت کے ساتھ ٹانگ اٹھائے حوائج ضروریہ سے فارغ ہو رہا تھا۔ تب عقدہ کھلا کہ یہ بڑے سائز کا شکاری کتا ہے جو موصوف کے دوستوں کی شکار پارٹی کے ہمراہ جائے گا۔ خود کو بکرا نما کتے کے اس قدر قریب دیکھ کر ہمارے اوسان خطا ہوگئے اور پاجامہ گیلا ہونے سے پہلے تک کی ساری علاماتِ خوف دفعۃً ظاہر ہوگئیں۔ چنانچہ اس روز کے بعد سے ہم نے کبھی اندھیرے میں کسی جانور کو بکرا سمجھ کر پیار نہیں کیا۔
دراصل کتے سے ہم عموماً خوفزدہ نہیں ہوا کرتے سوائے اس کے کہ وہ مادرپدر آزاد قسم کا کتا ہو اور اُس کی شکل بھی کتے جیسی ہو۔ چنانچہ اگر کسی کتے کی صورت کتے کی سی ہو تو وہ اپنی ہزار سعادتمندی، مہذبانہ چال چلن اور محلہ بھر میں نیک نامی کے باوجود بھی ہمارے دل کے خوف کو دور نہیں کر سکتا۔ یہ خوف شاید بچپن کے اس واقعہ کی یادگار ہے جب ہمارے ہمسایہ کے پالتو کتے نے ایک دوپہر اپنی نیک نامی سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ چنانچہ یہ کتا جو ہمیشہ غض بصر سے کام لیتے ہوئے نیم وا آنکھوں سے اپنے مالک کے گھر کے دروازے پر لیٹا اونگھتا رہتا تھا اور زندگی بھر بھونکنا تو دُور کی بات ہے، غرا کر بھی اُس نے کسی کا دل نہ دکھایا تھا، جانے اس کے جی میں کیا آئی کہ گرمیوں کی دوپہر میں قیلولہ کرتی ہوئی بطخ سے اُس نے لنچ کیا اور اِس خاموشی سے یہ کارِ خیر انجام دیا کہ کسی کو شک تک نہ گزرا … چونکہ مکافاتِ عمل سے کسی کو مفر نہیں اس لئے چند ہی روز بعد ٹریفک کے قوانین سے نابلد یہ کتا کسی مرغی کا تعاقب کرتے ہوئے ایک کار تلے آکر کُچلا گیا اور اپنی عاقبت نااندیشی کے ہاتھوں انجام کو پہنچا ؎

دیکھو اسے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو

اسی قسم کا ایک اور کتا ہمیں اکثر یاد آتا ہے جو شاید بہت زیادہ کتا نہ ہوتا اگر اُس کی پرورش گھٹیا ماحول میں نہ ہوئی ہوتی۔ وہ ایک متوسّط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے کے گیارہ بچوں کا اکلوتا کتا تھا۔ روزمرہ کے معمول کے مطابق وہ دن بھر بچوں کے ساتھ کھیلتا اور بات بے بات پر بُری طرح پٹتا۔ دو بچوں کی لڑائی ہوتی تو انجام کار کتے کی ٹھکائی پر صلح ہوتی۔ آتے جاتے ٹھوکر، جوتی سے اُس کی تواضع ہوتی۔ چنانچہ ایسے ’’جنگل کے قانون‘‘ میں پرورش پانے والا کتا تہذیب و تمدن سے بے بہرہ اور شرافت و شائستگی سے ناآشنا رہا۔ گھر سے باہر نکلتا تو ہر کمزور، غریب پر چڑھ دوڑتا، موقع ملتا تو بے چارے فقیر کا پائنچہ تک لے بھاگتا، جو مدّمقابل طاقتور ہوتا تو فوراً بھیگی بلّی بن جاتا اور خوشآمدانہ لہجے میں دُم ہلاتے ہوئے مسکین صورت لے کر کونے میں دبک جاتا۔ گویا اس میں ایک بڑے سیاستدان کی ساری خوبیاں موجود تھیں اور ایک اچھا شہری ہونے کی تمام خوبیاں مفقود۔ چنانچہ جلد ہی گلی محلّے کی مرغیوں کی گمشدگی پر مورد الزام ٹھہرایا گیا اور جلاوطنی کی سزا پاکر دور دیس سدھارا۔… اُس کے جاتے ہی گلی کی رونق لَوٹ آئی۔ کئی بھکاری اور پھیری لگانے والے جو کتے کی مہمان کُش حرکتوں سے تنگ آکر راستہ بدل گئے تھے پھر سے آ موجود ہوئے اور وہ عاشق مزاج جو اس کتے کی بے تکلّفانہ حرکات کے باعث گریز کرتے کرتے کوچۂ جاناں سے گزرنا ہی ترک کر بیٹھے تھے پھر سے اپنی جمالیاتی حِس کی تسکین کرنے لگے جس سے یقینا مقامی شاعری پر بھی دُور رس عمدہ اثرات مرتّب ہوئے ہوں گے لیکن یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر آئندہ کبھی روشنی ڈالی جائے گی۔
اب لگے ہاتھوں ہم ایک شریف النّفس کتے کا ذکر خیر بھی کئے دیتے ہیں جس کے ساتھ اور فقط اُسی ایک کتے کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ پُرامن اور دوستانہ رہے۔ بلکہ ہمارے اِس کالم کی وجۂ تحریر بھی دراصل ہمارا یہی کتا ہے۔

وہ فقط چند روز کا پلاّ تھا جب ہمارے ہاں پناہ گزیں ہوا لیکن جلد ہی دوسرے درجہ کے شہری کے طور پر گھر بھر میں تسلیم کرلیا گیا۔ خوش خوراک تو تھا ہی لیکن نمک خوار بھی خوب تھا۔ چنانچہ اُس کی موجودگی میں کبھی کسی قرض خواہ کو ہمارے دروازہ پر دستک دینے کی جرأت نہ ہوئی بلکہ ہمارے بے فکرے دوستوں کا وقت بے وقت ہمارے ہاں آکر کھانا پینا بھی موقوف ہوگیا۔ ذہین اتنا تھا کہ اشارہ پاتے ہی مہمان کو ریلوے سٹیشن تک چھوڑ آتا۔ اگر مہمان جانے پر رضامند نہ ہو تو یہ کتا مہمان اور اُس کے بچوں سے لپٹ لپٹ جاتا اور بڑھ بڑھ کر اُن کے منہ اور ہاتھوں کے بوسے لیتا۔ خصوصاً بچوں کی ناک صاف کرنا تو اُس کا مرغوب مشغلہ تھا۔ مہمان بستر پر استراحت فرماتے تو یہ اُن کے جوتے باہر بہنے والی بدرَو میں ڈال آتا۔ مہمان کو پیش کئے جانے والے کھانے میں سے اپنا حصّہ خود پسند کرکے وصول کرلیتا۔ کئی بار ہم نے اسے بیچا بھی لیکن جلد ہی وفاپرستی کے مارے واپس آگیا۔ دوبار چوری ہوا مگر خود ہی گھر پہنچ گیا۔ انہی خصوصیات کے باعث ہمارا کتا خاص و عام میں مقبول تھا اور کئی بار ہمارے جاننے والوں کے لئے بھی خدمات انجام دے چکا تھا۔
چنانچہ گزشتہ ماہ اپنے ایک عزیز دوست کی خواہش پر چند روز کے لئے اُنہیں یہ کتا عاریۃً دیا گیا تاکہ نصف درجن بچوں کے ہمراہ اُن کے ہاں دو ماہ سے قیام پذیر خالو جان کی خدمت کرسکے۔ لیکن اب کی بار یہ کتا خالو سمیت ایسا غائب ہوا ہے کہ ہر دو کے لواحقین تلاش میں ہیں۔ خالو تو خیر اور بھی مل جائیں گے مگر ایسا کتا تو زہے مقدّر، زہے نصیب۔
جب سے ہمارے ایک کزن نے اِمسال چھٹیاں بچوں سمیت ہمارے ہاں گزارنے کی اطلاع دی ہے، ہم سب از حد پریشان ہیں اور ہمیں رہ رہ کر اپنا کتا یاد آ رہا ہے۔ پس یہ کالم اگر پیارا کتا پڑھے یا سنے تو خود ہی گھر واپس آ جائے، اُسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور اُس کا پتہ دینے والے معقول انعام کی توقّع کر سکتے ہیں۔
(نوٹ: ہمیں خوف ہے کہ اِس کالم کی اشاعت پر ہمارے بعض دوست اظہارِ افسوس کے بہانے ہمارے ہاں آنا چاہیں گے اور کئی کئی روز قیام کریں گے۔ اُن سب کی خدمت میں نہایت ادب سے عرض ہے کہ براہ کرم وہ زحمت نہ فرمائیں بلکہ بلاتکلّف اپنے شہر تک کا کرایہ آمدورفت ہمیں بھجوادیں، ہم خود حاضر ہوکر اُن کے پُرخلوص جذبات اور تعزیت وصول کرلیں گے۔)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں