جامعہ احمدیہ سے جڑی یادیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍اکتوبر 2008ء میں محترم مولانا محمد کریم الدین صاحب شاہد سابق ہیڈماسٹرمدرسہ احمدیہ قادیان نے اپنے مضمون میں جامعہ احمدیہ کے حوالہ سے اپنی یادوں کو قلم بند کیا ہے۔
خاکسار کا آبائی وطن محبوب نگر آندھرا پردیش ہے۔ والد مکرم برہان الدین صاحب مرحوم جب پولیس کی سروس سے ریٹائر ہوئے تو محترم سیٹھ محمد معین الدین صاحب مرحوم سابق امیر جماعت احمدیہ حیدر آباد و چنتہ کنٹہ کے بیڑی کے کارخانہ میں بطور کلرک ملازم ہوگئے اور اس دوران ہی قبول احمدیت کا شرف حاصل ہوا۔ خاکسار پانچویں جماعت تک تعلیم پانے کے بعد پڑھائی ترک کر چکا تھا۔ محترم سیٹھ صاحب نے ہم تین بچوں کو قادیان میں تعلیم کے لئے بھجوانے کا پروگرام بنایا اور جلسہ سالانہ قادیان دسمبر 1950ء میں ہمیں قادیان چھوڑ گئے۔ ان دنوں تعلیم الاسلام سکول اپنی ابتدائی حالت میں صرف چوتھی کلاس تک تھا۔ اس لئے خاکسار کو چوتھی کلاس میں داخلہ ملا۔ 1954ء میں جب میں آٹھویں کلاس میں تھاتو مدرسہ احمدیہ کا آغاز ہوا۔ پہلی کلاس چار طلباء پر مشتمل تھی۔ خاکسار محمد کریم الدین شاہد، محمد ولی الدین صاحب، عبداللطیف صاحب ملکانہ، سید بشیرالدین صاحب سونگڑوی۔ اور اس پہلی کلاس کے واحد استاد محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب قادیانی تھے جو بڑی محنت سے باری باری سارے مضامین پڑھاتے تھے۔ پھر ہر سال طلبہ اور اساتذہ کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ اس وقت جامعہ احمدیہ میں داخلہ کے لئے صرف قرآن مجیداور اردو پڑھنا لکھنا کافی سمجھا جاتا تھا۔ 1970ء تک مدرسہ احمدیہ کا نصاب پرانا چار سالہ ہی تھا جو تقسیم ملک سے قبل مقرر تھا۔ اس کورس کی تکمیل کے بعد دو سال مولوی فاضل کا نصاب پڑھایا جا تا تھا جو پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ میں مقرر تھا۔ مدرسہ احمدیہ کی چوتھی جماعت میں ہم دو طلبہ پاس ہوئے اور پھر دو سال مولوی فاضل کا نصاب پڑھا اور 1960ء میں مولوی فاضل پاس کیا۔ اس کے بعد خاکسارجامعہ احمدیہ ربوہ سے شاہد کا کورس مکمل کر کے 1963ء میں بطور مربی سری نگر کشمیر میں متعین رہا۔ بعد ازاں مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ میں 1965ء سے جولائی 1999ء تک 34 سال تدریس کا موقع ملا۔
محترم میر داؤد احمدصاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوہ کی خصوصی توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ مدرسہ احمدیہ قادیان کا تعلیمی معیار بلند کیا جائے لہٰذا 1970ء میں خاکسار کو بطور نمائندہ ربوہ بھیجا گیا اور ایک کمیٹی نے کئی دن کے باہم مشورہ سے چھ سالہ نصاب مرتب کیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے منظوری حاصل کی۔
مدرسہ احمدیہ میں ابتداء ً صرف بورڈنگ میں رہائش کا انتظام ہوا کرتا تھا اور سپرنٹنڈنٹ اور ہیڈ ماسٹر محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب فاضل ہی تھے۔ دو وقت لنگر خانہ سے کھانا ملتا۔ مدرسہ اور بورڈنگ کی عمارت بھی وہی پرانی اور کچی تھی جو تقسیم ملک سے قبل تعمیر شدہ تھی۔ کمروں میں بجلی کے صرف بلب لگائے جاتے۔ گرمیوں میں پنکھوں کا انتظام نہیں تھا۔ شدید گرمی کے وقت آخری جمعرات کی چھٹی میں تتلے کی نہر میں صبح سے شام تک تیراکی ہوتی۔ اس کے علاوہ رنگ و والی بال کی گیمز ہوتیں۔ مقامی DAV سکول اور خالصہ سکول نیز قادیان کی لوکل ٹیموں کے ساتھ مقابلے بھی ہوتے۔ اگرچہ بہت سی سہولیات سے ہم محروم تھے لیکن حالات کی جفا کشی اور فاقہ مستی نے ہمیں اپنے مقصد حصول تعلیم سے ہرگز بددل نہیں کیا۔ بلکہ یہ مشکلات ہمارے لئے مہمیز کا کام دیتی رہیں۔
1956ء میں لاہور میں ہند پاک کرکٹ میچ ہورہاتھا جسے دیکھنے کے لئے ایک ہفتہ کے لئے پرمٹ جاری ہوئے۔ اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم چار پانچ طلباء نے لاہور سے ہوتے ہوئے ربوہ پہنچ کر حضرت المصلح الموعودؓ سے شرف ملاقات حاصل کیا۔ اس کے بعد کئی سالانہ جلسوں اور اجتماعات میں ربوہ میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/SX3Vd]

اپنا تبصرہ بھیجیں