جاپان میں احمدیت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2006ء میں مکرم مغفور احمد منیب صاحب کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
جاپان میں احمدیہ مشن کا قیام 4جون 1935ء کو عمل میں آیا جب مکرم صوفی عبدالقدیر صاحب جاپان پہنچے۔ 10؍جنوری 1937ء کو مکرم مولوی عبدالغفور ناصر صاحب بھی یہاں پہنچے اور 1941ء میں واپس قادیان تشریف لے گئے۔ پھر 8ستمبر 1969ء کو میجر عبدالحمید صاحب بطور مربی جاپان پہنچے۔ اس سے قبل 1959ء میں محمد اویس کوبیاشی صاحب (Kobyashi) ربوہ آئے اور جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔ 1968ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے جاپان جاکر احمدیہ مرکز کے قیام کاجائزہ لیا۔ میجر(ر) عبدالحمید صاحب 1975ء تک وہاں قیام پذیر رہے۔ آپ کے دور میں خاص طور پر لٹریچر کی فروخت کا کام ہوا۔ پھر مکرم عطاء المجیب راشد صاحب 1975ء سے 1983ء تک جاپان میں مقیم رہے۔ اس دَور میں جاپان کے انگریزی اخبارات میں خطوط اور مضامین کا سلسلہ جاری رہا۔ ٹوکیو، ناگویا اور کوماکی میں جماعتیں قائم ہوئیں اور ناگویا Nagoya میں مرکز خریدا گیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی ہدایات کی روشنی اور نگرانی میں جاپانی، کورین اور ویتنامی زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم اور ان کی طباعت کے ساتھ ساتھ تینوں زبانوں میں بنیادی لٹریچر تیار کرکے طبع کروایا گیا۔ 1983ء کے بعد مضمون نگار کو لمبا عرصہ بطور امیر و مبلغ انچارج خدمت کی توفیق عطا ہوتی رہی۔
1989ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بھی جاپان کا بھی دورہ فرمایا۔ اس وقت وہاں قریباً 200 احمدی تھے جن میں چند جاپانی بھی تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/YMjwH]

اپنا تبصرہ بھیجیں