جدید دور کا خطرناک ترین طیارہ

امریکہ کا طیارہ بی۔2۔سٹیلتھ انتہائی تیز رفتار ہونے کے علاوہ راڈار پر دکھائی نہ دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اسے سب سے پہلے 1991ء میں خلیج کی جنگ میں استعمال کیا گیا تھا اور پھر افغانستان میں تربیتی کیمپوں اور یوگوسلاویہ پر بمباری کے لئے بھی نہایت کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ طیارہ چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر دنیا کے کسی بھی حصے میں، کسی بھی موسم میں، کسی قسم کا خطرہ لئے بغیر حفاظتی حصار میں رکھے ہوئے ہدف پر ایک لاکھ باسٹھ ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرا سکتا ہے۔ بعض حالات میں تو یہ طیارہ کروز میزائیل سے بھی زیادہ تیز رفتاری اور شدید حملہ کا مظاہرہ کرچکا ہے۔ اس طیارے کی تیاری میں چالیس ہزار ہنرمندوں نے کام کیا اور اس پر 44بلین ڈالر کی رقم خرچ کی گئی۔ اس کی لمبائی 69 فٹ اور پروں کا پھیلاؤ 172 فٹ ہے جبکہ اس کی دُم نہیں ہوتی۔ یہ ایسے پلاسٹک سے بنایا گیا ہے جس کا پتہ راڈار یا دیگر آلات سے نہیں لگایا جاسکتا اور نہ انسانی آنکھ اسے آسمان پر دیکھ سکتی ہے۔
یوگوسلاویہ پر حملے کیلئے یہ طیارے تیس گھنٹے کے مسلسل مشن پر براہ راست ٹکساس (امریکہ) سے پرواز کرکے آئے اور پہلے ہی حملہ میں بنکر، راڈار، مواصلاتی نظام، اہم پل اور اسلحہ ساز فیکٹریاں تباہ کردیں۔ ان طیاروں میں آتی اور جاتی دفعہ دو دو مرتبہ پرواز کے دوران ہی پٹرول بھرا گیا۔ چونکہ یہ طیارے سیٹلائیٹ سے راہنمائی لیتے ہیں اسلئے ہر قسم کے موسمی حالات میں کامیابی سے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اس طیارہ کیلئے ہواباز کا انتخاب اُسی طرح کیا جاتا ہے جس طرح کہ خلاباز کا انتخاب ہوتا ہے یعنی ایسے ہواباز جن میں تجزیہ کرنے اور ہدف کے بارہ میں موصول ہونے والی اُن معلومات کو بہترین طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت ہو جو زمین سے ماہرین ہر وقت انہیں مہیا کرتے رہتے ہیں۔
یہ معلوماتی مضمون مکرم سید ظہور احمد شاہ صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍اکتوبر 1999ء میں شامل اشاعت ہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/D0VvD]

اپنا تبصرہ بھیجیں