جزائر برمودہ کی پر اسراریت

بعض باتوں کا جواب ابھی سائنس اور ٹیکنالوجی کے دَور میں بھی انسان کو نہیں مل سکا۔ ان امور میں زمین کی تخلیق کے علاوہ اہرام مصر کی تعمیر، برمودہ ٹرائی اینگلز اورUFOs (Unidentified Flying Objects) یعنی اڑن طشتریوں کا وجود بھی شامل ہیں۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم نومبر 2008ء میں مکرم سید محمود صادق شیرازی صاحب کے قلم سے ایک معلوماتی مضمون اس حوالہ سے شامل اشاعت ہے۔
برمودہ کے جزائر امریکہ کے مشرقی ساحل سے بحر اوقیانوس کے شمال مغربی خطے میں 570 میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہ 145جزائر کا مجموعہ ہیں جن کا کل رقبہ 21مربع میل ہے۔ یہ جزائر برطانوی نوآبادی ہیں لیکن دو مربع میل کی ایک پٹی امریکہ کو فوجی مقاصد کے لئے 99سالہ لیز پر دی گئی ہے۔ جزائر کے اس مجموعے میں سے صرف بیس پر انسانی آبادی ہے۔ گریٹ برمودہ سب سے بڑا جزیرہ ہے جس کی لمبائی چودہ میل ہے۔ یہ جزیرہ ایک ہسپانوی ملاح خوان برمودہز نے 1503ء میں دریافت کیا تھا اور اسی کے نام پہ اس جزیرے کا نام ر کھا گیا۔
برمودہ کی آب و ہوا سارا سال معتدل رہتی ہے۔ پہلے اس جزیرے کا دارالحکومت سینٹ جارج تھا لیکن اب ہیملٹسن ہے جو سیاحوں کے لئے بڑی کشش رکھتا ہے۔ برمودہ میں منتخب پارلیمنٹ اور حکومت کا قیام 1620ء میں عمل میں آیا تھا۔ برمودہ کے جزائر کی زمین زیادہ تر کوہستانی ہے جس کی سطح سمندر سے زیادہ سے زیادہ 260 فٹ بلند ہے۔ جزائر برمودہ میںپھولدار درختوں اور پودوں کی 950 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ایک مقامی پودا صنوبر یہاں کثرت سے پایا جاتا ہے جس نے ان جزائر کو ڈھانپ رکھا ہے۔ ان جزائرمیں مقامی طورپر کوئی ممالیہ، نقصان دہ حشرات اور رینگنے والے جانور نہیں پائے جاتے۔ یہاں کا ایک مقامی پرندہ Cahow پہلے معدوم ہو چلا تھا مگر اب اس کی دوبارہ افزائش نسل کی گئی ہے۔
جزائر برمودہ یا مثلث برمودہ کو حادثات اور معموں کی زمین کہا جاتا ہے۔ کئی بحری اور ہوائی جہاز یہاں غرقاب ہوئے جس کی وجہ کبھی معلوم نہیں ہوسکی۔ 1977ء میں روس اور امریکہ نے ایک مشترکہ معاہدے کے تحت بھی تحقیقات شروع کی لیکن ڈیڑھ سالہ مشن بھی بے نتیجہ رہا۔
اڑن طشتریاں مختصراً UFOs کہلاتی ہیں یعنی Unidentified Flying Objects۔ گویا یہ ایک غیر شناخت شدہ اڑتی ہوئی شئے ہے جسے دنیا کے کئی حصوں میں کثرت سے دیکھا گیا ہے۔ان کی مختلف شکلیں اور سائز ہوتے ہیں۔ ان کو دیکھنے سے متعلق سب سے زیادہ رپورٹس برمودہ ٹرائی اینگل سے ملی ہیں۔ مثلاً پیورٹوریکو میں 1976ء میں اتنے تسلسل سے اڑن طشتریاں آسمان پر نمودار ہوئیں کہ ہائی وے پر ٹریفک جام ہو کر رہ گیا اور TV پریس اور ریڈیو کے سینکڑوں نمائندے رات کے وقت آسمان پر ان کے کرتب دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے۔ یہ مظاہرہ ایک مخصوص علاقے میں بار بار ہوتا رہا اور اسے ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔ تین ماہ تک اس علاقے میں اڑن طشتریوں کے پورے پورے بیڑے بار بار نمودار ہوتے رہے۔ اپنے دونوں جانب سے روشنی کی شعاعیں پھینکتیں، ایک ہزار فٹ جتنی کم بلندی پر ایک خاص فارمیشن میں اڑتیں، 90 ڈگری کے زاویے پر گھوم جاتیں، اور فضا میں معلق ہو جاتیں جیسے ان کا وجود ہی نہیں تھا۔
ایک اور علاقہ جہاں UFOs بکثرت دیکھی گئی ہیں Arecibo کا ہے جہاں امریکی حکومت نے ایک بہت بڑی ریڈیائی دور بین نصب کر رکھی ہے۔
جب جزائر غرب الہند (West Indies) کا علاقہ دریافت کیا گیا تو برمودہ ٹرائی اینگل ایک خطرناک اور پُراسرار علاقہ بلکہ ’’موت کی وادی‘‘ بنا ہوا تھا۔ اولین سپینی بحری کپتانوں (جن کی ابتداء کولمبس سے ہوتی ہے) کی سمندری سفر کی رپورٹوںسے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے میں غیر معمولی برقی مقناطیسی یا کسی اور قسم کی حیرت انگیز قوتیں موجود ہیں۔
کولمبس اپنے پہلے بحری سفر کے دوران خشکی پر پہنچنے سے پہلے ہی ایک فوق العقل تجربے سے دو چار ہو گیا تھا۔ سب سے پہلے اس نے بہاماز میں ’’چمکتے پانیوں‘‘ (Glowing waters) کا منظر دیکھا پھر اس نے آگ کے گولے جیسی کوئی چیز دیکھی جس نے اس کے اپنے جہاز کے گرد کئی چکر لگائے اور پھر سمندر میں غوطہ لگاکر غائب ہو گئی۔ اس وقت اس کے ملاح جو پہلے ہی سفر جاری رکھنے کے خلاف تھے اور بغاوت پر تلے ہوئے تھے یہ منظر دیکھ کر سراسیمہ ہوگئے اور اس سفر کی نحوست پر ان کا شک یقین میں بدل گیا۔ جہاز ران بھی اپنے کمپاس کو پورے دائرے میں گردش کرتا ہوا دیکھ کر دہشت زدہ تھے اور ملاحوں کو مزید مشتعل کرنے کا سبب بن رہے تھے۔
پھر اس علاقے میں چند اور ایسے ہی حیرت انگیز واقعات پیش آئے تھے جس کی وجہ سے یہ علاقہ منحوس اور خوفناک مشہور ہو گیا تھا۔
ستمبر 1494ء میں کولمبس نے Haiti santo Domingo کے ساحلوں سے دُور ایک سمندری عفریت دیکھا جسے اس نے طوفان کی تنبیہ جانا اور اپنے جہاز کو بچا لے گیا۔ جون 1494ء میں ایک غیرمعمولی بھنور نے اس کے تین جہازوں کو پہلے ہی ڈبو دیا تھا اور اس کے اپنے الفاظ یوں ہیں: ’’سمندر بالکل پر سکون تھا۔ طوفان کا شائبہ تک نہ تھا۔ پھر بھی جہازوں کو گویا کسی عظیم غیر مرئی قوت نے تین چار مرتبہ اٹھا اٹھا کر اور گھما گھما کر پٹخا اور آخر کار وہ تہہ میں بیٹھ گئے۔‘‘
مئی1502ء میں ایک اور سمندر ی مہم کے دوران طوفان کا اندازہ لگاکر کولمبس نے ہسپانیہ کے گورنر سے استدعا کی کہ سانتو ڈومنگو کی بندرگاہ پر اپنے جہاز لنگر انداز کرنے کی اجازت دی جائے۔ ساتھ ہی اس نے گورنر بوب ڈیلا (Boob Dilla) کو خبردار بھی کیا کہ ان تیس بادبانی جہازوں کو جن پر خزانہ تھا سپین کے لئے روانہ ہونے سے روک لیا جائے مگر گورنر نے اس کی تنبیہ پر توجہ نہ دی۔ نتیجہ میں اس کے خزانے سے لدے ہوئے چھبیس جہاز اچانک آنے و الے شدید طوفان کی نذر ہو گئے۔ مگر اس مقام کے جائزہ سے اندازہ ہوتا تھا جیسے وہاں ایک خوفناک بحری جنگ لڑی گئی تھی۔ کیونکہ ’’لگتا تھا جیسے مسلسل بمباری کی وجہ سے فضا میں جلے ہوئے بارود کی بُو رچی ہوئی ہو‘‘۔
چھ ماہ بعد خزانے سے لدے ہوئے سترہ جہازوں کا ایک اور بحری بیڑا اچانک آنے والے طوفان میں غائب ہو گیا مگر اس کے غائب ہونے کی تمام علامات ایسی ہی تھیں جیسے آج کے دور میں غیرمعمولی برقی مقناطیسی اثر ات کے سبب غائب ہونے والے جہازوں کی تھیں۔ بلاشبہ کولمبس اپنی غیر معمولی اور اعلیٰ ترین جہاز رانی کی صفات کی وجہ سے ان طوفانوں کے شکار ہونے سے محفوظ رہا۔ لیکن بادشاہ کے ظلم و ستم کا شکار ہو گیا جس نے اس پر بدانتظام مفرور اور لالچی اور ضرورت سے زیادہ عاقل و فہیم ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس عظیم مہم جو کے اس حیرت ناک انجام کو دیکھ کر آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ برمودہ ٹرائی اینگل کے سلسلے کا یہ پہلا تاریخی المیہ تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں