جس گھڑی معبدوں کو سجا کے چلے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍جون 2011ء میں مکرم اطہر حفیظ فراز صاحب کی ایک نظم لاہور میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالہ سے شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

جس گھڑی معبدوں کو سجا کے چلے
کتنی شدّت سے جھونکے ہوا کے چلے
ان کے لب پہ ترانے تھے توحید کے
ہاں وہ ایماں کی شمعیں جلا کے چلے
اے شہیدوں کی روحو! مبارک تمہیں
تم ہو مولا کی جنّت کما کے چلے
اُن کی میّت کو مٹی نے گوہر کیا
تم نے سمجھا کہ اُن کو رُلا کے چلے
سب اُسی نے تھے بخشے وہی لے گیا
تذکرے پھر خدا کی رضا کے چلے
ان کی ڈھارس بندھائی تھی ’مسرورؔ ‘ نے
جیسے رِندوں کو ساقی پِلا کے چلے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں