جلسہ سالانہ برطانیہ 2007ء کے موقع پر سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا اختتامی خطاب

آنحضرتﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ مسیح و مہدی کی خلافت جو علیٰ منہاج نبوت قائم ہوگی وہ عارضی نہیں بلکہ تاقیامت اس کا سلسلہ رہنا ہے۔
ہر احمدی کو یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس میں اور اس کے غیر میں تقویٰ ایک واضح لکیر کھینچتا ہے۔
مسیح موعود کے زمانہ میں شیطان کا مغلوب ہونا مقدر ہے مگر اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حقیقی تابعدار بننا ہوگا، اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔
دعا میں ایک مقناطیسی اثر ہوتا ہے۔ وہ فیض اور فضل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
اے مسیح محمدی کے غلامو! تم وہ نمازیں ادا کرو، وہ عبادات بجالاؤ جس کے اسلوب ہمیں مسیح محمدی نے سکھائے۔
اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑا انعام نظام خلافت کا انعام ہے۔ جو بھی اس انعام کی قدر کرتے ہوئے اس انعام سے منسلک رہے گا اور جو دعاؤں سے اس کی آبیاری کرتا رہے گا، وہ شیطان کے وسوسوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے گا۔ وہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی الٰہی وعدوں کے مطابق اپنی جنت کا سامان کرنے والا ہوگا۔
خلافت احمدیہ کی نئی صدی میں داخل ہونے کے لئے بھی خالصۃً اس کا ہوکر دعاؤں میں وقت گزارنا چاہئے۔ دعاؤں کے ساتھ اور پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے اس صدی کو الوداع کہیں اور نئی صدی میں داخل ہوں۔
(صدسالہ خلافت جوبلی منصوبہ کے روحانی پروگرام میں شامل دعاؤں کی تفصیل و تشریح اور اس حوالہ سے
احباب جماعت کو نہایت اہم تاکیدی نصائح)
جلسہ سالانہ برطانیہ 2007ء کے موقع پر امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اختتامی خطاب

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جلسہ سالانہ 2007ء کی تقریر میں سے چند باتیں بیان کروں گا۔ پورا بیان تو ممکن نہیں ہے اور جو بیان کروں گا وہ بھی مکمل طور پر اُن امور کا احاطہ نہیں کرتا جو آپ نے بیان فرمایا ہے۔ وہ تو علم و معرفت کا ایک خزانہ ہے جس کو کھول کر آپ نے ہمارے سامنے رکھا ہے۔ بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اس عظیم خزانہ سے فیض پانے کے لئے ہمیں آپ کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ پس ایک احمدی کو ہمیشہ اس مقصد کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے تاکہ ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے، پاک دل کے ساتھ، ان نصائح پر عمل کرنے والے بنتے چلے جائیں اور ان توقعات پر پورا اترنے کی سعی کرتے چلے جائیں جس کے قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا۔
بعثت مسیح موعود کی غرض
آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں :
’’سو میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔ سو یہی افعال میرے وجود کی علّت غائی ہیں۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین کے نزدیک ہوگا۔ بعد اس کے کہ بہت دُور ہوگیا تھا‘‘۔
(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 3۔ حاشیہ 293-294)
آپ نے جو یہ فرمایا کہ میرے آنے کا مقصد یہ ہے کہ سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے۔ کیا یہ سچائی اور ایمان کا زمانہ صرف آپ کی زندگی تک محدود تھا؟ کیا ایمان کو ثریا سے واپس لانا صرف اس وقت تک ہی تھا جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کے وجود کو اس دنیا میں رکھنا تھا۔ نہیں ، بلکہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا اور آنحضرتﷺ نے اس کی پیشگوئی فرمائی تھی کہ میرے مسیح اور مہدی کا دور قیامت تک چلنا ہے۔ وہ مسیح اور مہدی جو خاتم الخلفاء ہے۔ اس کے بعد اس کی خلافت جو علیٰ منہاج نبوت قائم ہوگی، وہ عارضی نہیں بلکہ تا قیامت اس کا سلسلہ رہنا ہے تاکہ جس ایمان کا واپس لانا اُس مسیح و مہدی کے لئے مقدر ہے، جو یقینا خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ ہی انجام پاسکتا ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ سے وعدے فرمائے تھے اور کئی دفعہ الہام ہوا کہ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ یعنی میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ وہ ایمان زمین پر آنے کے بعد پھر قائم ہوگا اور اپنے مسیح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اس نے قائم رہنا ہے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ خلافت سے وابستہ رہ کر جماعت احمدیہ نے اس ایمان کی حفاظت بھی کرنی ہے اور اسے قائم بھی رکھنا ہے۔ لیکن اس ایمان کا رہنا ان کے ساتھ مقدر ہے جن کے دل تقویٰ سے پُر ہوں گے۔ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور یہی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیارے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ میں تیرے ساتھ اور تیرے پیاروں کے ساتھ ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کے بعد آپ کے ماننے والوں ، آپ کی تعلیم پر عمل کرنے والوں ، اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنے والوں کی بھی مدد کرنی ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے زندہ خدا سے ہمارا تعلق جوڑنے کے جو اسلوب ہمیں سکھلائے ہیں ان پر عمل کرکے ہی آسمان زمین کے نزدیک ہوگا۔ ہماری دعاؤں کو ہمارا خدا سنے گا اور ہم دنیا کو دعوت دے سکیں گے کہ آؤ اس خدا کے فضلوں کے نظارے دیکھو جو آج اپنے وعدوں کے مطابق اپنے مسیح و مہدی کے ماننے والوں کو بھی وہ نظارے دکھا رہا ہے۔ ہر دن جماعت احمدیہ پر اپنی برکات و فیوض لے کر طلوع ہوتا ہے اور آسمان سے زمین کے نزدیک ہونے کے نظارے ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ پس آؤ اور ہم سے اس تمام طاقتوں کے مالک خدا سے زندہ تعلق قائم کرنے کے طریقے سیکھو۔
حقیقی تقویٰ کیا ہے؟
حقیقی تقویٰ کیا ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’حقیقی تقویٰ کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہوسکتی۔ حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے جیسا کہ اللہ جلّشانہٗ فرماتا ہے:

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَتَّقُوْااللہ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّیُکَفِّرْعَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (الانفال:30) وَ یَجْعَلْ لَکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ (الحدید:29)

یعنی اے ایمان والو اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتّقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا۔ وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نُور دیا جائے گا جس نُور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلوگے۔ یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قویٰ اور حواس میں آجائے گا۔ تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہوگا ، اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا اور جن راہوں میں تم چلوگے وہ راہ نورانی ہوجائیں گی۔ غرض جتنی تمہاری راہیں ، تمہارے قویٰ کی راہیں ، تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلوگے‘‘۔
(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5۔ صفحہ 177-178)
پس ہر احمدی کو یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس میں اور غیر میں تقویٰ ایک واضح لکیر کھینچتا ہے اور اگر اس واضح فرق کے ساتھ ایک احمدی اپنے شب و روز گزار رہا ہوگا تو تبھی وہ خود بھی نورانی راہوں پر چلنے والا ہوگا اور دوسروں کو وہ وہی راہیں دکھا سکے گا جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہیں۔ آپؑ نے اپنی تقریر میں ایک جگہ فرمایا کہ ’’جو متقی نہیں وہ قرآن کے نُور سے کچھ روشنی نہ پاسکے گا‘‘ کیونکہ یہی بات ہمیں قرآن کریم نے بتائی ہے۔ جیسا کہ فرمایا:

الٓمٓ۔ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِلْمُتَّقِیْن (البقرہ:2-3)

یعنی یہ کتاب اُنہی کو ہدایت نصیب کرتی ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جب اور جن میں تقویٰ نہیں وہ اندھے ہیں۔ پس یہ روحانی ہتھیار ہے جس کی فی زمانہ ضرورت ہے۔ اور اس سے ہم نے شیطان کا مقابلہ کرنا ہے۔ مسیح موعود کے زمانہ میں شیطان کا مغلوب ہونا مقدر ہے مگر اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حقیقی تابعدار بننا ہوگا، اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔
آپ ؑ نے ہمیں بتایا کہ اس زمانہ میں شیطان نے ایسے دجل سے کام لینا ہے جس کی پہلے مثال نہیں مل سکتی لیکن شیطان سے مقابلہ اور اسے شکست دینا بھی اس زمانہ میں مقدر ہے۔ اور اب وہ جری اللہ فی حلل الانبیاء ہی ہے جس نے شیطان کے تمام دجل پاش پاش کرنے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں :
’’یاد رکھنا چاہئے کہ دجّال اصل میں شیطان کے مظہر کو کہتے ہیں جس کے معنے ہیں راہ ِہدایت سے گمراہ کرنے والا۔ لیکن آخری زمانہ کی نسبت پہلی کتابوں میں لکھاہے کہ اس وقت شیطان کے ساتھ بہت جنگ ہوں گے لیکن آخر کار شیطان مغلوب ہو جائے گا‘‘۔
فرماتے ہیں کہ:
’’گو ہر نبی کے زمانہ میں شیطان مغلوب ہوتا رہا ہے مگر وہ صرف فرضی طورپر تھا۔ حقیقی طورپر اس کا مغلوب ہونا مسیح کے ہاتھوں سے مقدر تھا اور خدا تعالیٰ نے یہاں تک غلبہ کا وعدہ دیاہے کہ

جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ (آل عمران:56)

فرمایا ہے کہ تیرے حقیقی تابعداروں کو بھی دوسروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ غرض شیطان اس آخری زمانہ میں پورے زور سے جنگ کر رہا ہے مگر آخری فتح ہماری ہی ہوگی‘‘۔
آپ نے فرمایا کہ شیطان سے فتح تو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق مجھے ملنی ہی ہے لیکن شیطان پر وہی غلبہ پاسکیں گے جو تیرے حقیقی تابعدار ہوں گے، وہ ہر دجل سے بچنے والے ہوں گے جو اس تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں گے جس کے ساتھ مَیں بھیجا گیا ہوں۔
آپؑ کشتیٔ نوح میں فرماتے ہیں کہ:
’’واضح رہے کہ صرف زبان سے بیعت کا اقرار کرلینا کچھ چیز نہیں جب تک دل کی عزیمت سے اس پر پورا پورا عمل نہ ہو۔ پس جو شخص میری تعلیم پر پورا پورا عمل کرتا ہے وہ اُس میرے گھر میں داخل ہوجاتا ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ کے کلام میں یہ وعدہ ہے

اِنِّی اُحَافِظُ کُلَّ مَنۡ فیِ الدَّارِ۔

یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے مَیں اُس کو بچاؤں گا‘‘۔
(کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 19۔ صفحہ 10۔ مطبوعہ لندن)
پس ہر مصیبت سے، ہر مشکل سے، ہر بلا سے، ہر حملہ سے بچنے کے لئے یہ ایک نسخہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے۔ پس اگر ہم سچے دل سے آپ کی تعلیم پر عمل پیرا ہوں گے تو خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق ہمیں ہر بلا اور دجل اور شیطان کے حملہ سے بچائے گا بلکہ اپنے فضل سے ہمارے ہاتھوں میں وہ روحانی ہتھیار دے گا جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا فرمائے اور جن کے استعمال سے اس زمانہ میں ہم نے شیطان پر غالب آنا ہے۔
آپ فرماتے ہیں ’’مگر یاد رکھنا چاہئے کہ اس کا مارنا‘‘ یعنی شیطان کا مارنا ’’صرف اسی قدر نہیں ہے کہ صرف زبان سے ہی کہہ دیا جائے کہ شیطان مر گیا ہے اور وہ مر جائے۔ بلکہ تم لوگوں کو عملی طورپر دکھانا چاہئے کہ شیطان مر گیا۔ شیطان کی موت قال سے نہیں بلکہ حال سے ظاہر کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ آخری مسیح کے زمانہ میں شیطان بالکل مر جائے گا۔ گوشیطان ہر ایک انسان کے ساتھ ہوتاہے مگرہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان مسلمان ہو گیا تھا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس زمانہ میں شیطان کی بالکل بیخ کنی کر دی جائے گی۔ یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ شیطان لَاحَوْل سے بھاگتا ہے۔ مگروہ ایسا سادہ لوح نہیں کہ صرف زبانی طورپر لَاحَوْل کہنے سے بھاگ جائے۔ اس طرح سے تو خواہ سو دفعہ لَاحَوْل پڑھا جاوے وہ نہیں بھاگے گا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جس کے ذرہ ذرہ میں لَاحَوْل سرایت کر جاتاہے اورجو ہر وقت خدا تعالیٰ سے ہی مدد اور استعانت طلب کرتے رہتے ہیں اور اس سے ہی فیض حاصل کرتے رہتے ہیں وہ شیطان سے بچائے جاتے ہیں اور وہی لوگ ہوتے ہیں جو فلاح پانے والے ہوتے ہیں۔ مگر یاد رکھو کہ یہ جو خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتدا بھی دعا سے ہی کی ہے اور پھر اس کو ختم بھی دعا پر ہی کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایسا کمزور ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر پاک ہو ہی نہیں سکتا اور جب تک خدا تعالیٰ سے مدد اور نصرت نہ ملے، یہ نیکی میں ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ سب مُردے ہیں مگر جس کو خدا زندہ کرے اور سب گمراہ ہیں مگر جس کو خدا ہدایت دے اور سب اندھے ہیں مگر جس کو خدا بینا کرے‘‘۔
ایک جگہ فرمایا کہ:
’’تم اپنے تئیں پاک مت ٹھہراؤ کیونکہ کوئی پاک نہیں جب تک خدا پاک نہ کرے‘‘۔
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 399۔ جدید ایڈیشن)
دعا کی ضرورت اور حقیقت
پھر آپ فرماتے ہیں کہ:
’’غرض یہ سچی بات ہے کہ جب تک خدا کا فیض حاصل نہیں ہوتا تب تک دنیا کی محبت کا طوق گلے کا ہار رہتاہے اور وہی اس سے خلاصی پاتے ہیں جن پر خدا اپنا فضل کرتاہے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ خدا کا فیض بھی دعا سے ہی شروع ہوتاہے۔ لیکن یہ مت سمجھو کہ دعا صرف زبانی بک بک کا نام ہے بلکہ دعا ایک قسم کی موت ہے جس کے بعد زندگی حاصل ہوتی ہے جیسا کہ پنجابی میں ایک شعر ہے ؎ جو منگے سو مر رہے۔مرے سو منگن جا‘‘۔ یعنی اپنا سب کچھ فناکر کے خدا کے حضور حاضر ہوگے جس طرح ایک فقیر ہوتا ہے تو پھر فیضیاب ہوگے۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ:
’’دعا میں ایک مقناطیسی اثرہوتاہے۔ وہ فیض اور فضل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔یہ کیا دعا ہے کہ منہ سے تو

اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ

کہتے رہے اور دل میں خیال رہا کہ فلاں سودا اس طرح کرنا ہے، فلاں چیز رہ گئی ہے، یہ کام یوں چاہئے تھا، اگر اس طرح ہوجائے توپھریُوں کریں گے۔ یہ تو صرف عمر کا ضائع کرناہے۔ جب تک انسان کتاب اللہ کو مقدم نہیں کرتا اور اسی کے مطابق عملدرآمد نہیں کرتا تب تک اس کی نمازیں محض وقت کا ضائع کرناہے۔
دعا کے لوازمات اور نتائج
قرآن مجید میں تو صاف طور پر لکھاہے کہ

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤمِنُوْنَ۔الَّذِیْنَ ھُمْ فِی صَلَا تِھِمْ خَاشِعُوْنَ (المومنون:2-3)۔

یعنی جب دعا کرتے کرتے انسان کا دل پگھل جائے اور آستانۂ الوہیت پر ایسے خلوص اور صدق سے گر جاوے کہ بس اسی میں محو ہوجاوے اور سب خیالات کو مٹا کر اسی سے فیض اور استعانت طلب کرے اور ایسی یکسوئی حاصل ہو جائے کہ ایک قسم کی رقّت اور گداز پیدا ہو جائے تب فلاح کا دروازہ کھل جاتاہے جس سے دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ دو محبتیں ایک جگہ جمع نہیں رہ سکتیں جیسے لکھا ہے

ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دُوں
ایں خیال است و محال است و جنوں

اسی لئے اس کے بعد ہی خدا فرماتاہے

وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْن (المومنون:4)

یہاں لغو سے مراد دنیا ہے یعنی جب انسان کو نمازوں میں خشوع اور خضوع حاصل ہونے لگ جاتاہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دنیا کی محبت اس کے دل سے ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔ اس سے یہ مرادنہیں کہ پھر وہ کاشتکاری ، تجارت، نوکری وغیرہ چھوڑ دیتاہے بلکہ وہ دنیا کے ایسے کاموں سے جو دھوکا دینے والے ہوتے ہیں اور جو خدا سے غافل کر دیتے ہیں اعراض کرنے لگ جاتاہے‘‘، کام ساتھ ساتھ چلتے ہیں لیکن اللہ کا خوف اور اللہ کی یاد ہر وقت دل میں رہتی ہے۔
فرماتے ہیں :

’’رِجَالٌ لَاتُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہ (النور:38)

یعنی ہمارے ایسے بندے بھی ہیں جو بڑے بڑے کارخانۂ تجارت میں ایک دم کے لئے بھی ہمیں نہیں بھولتے۔ خدا سے تعلق رکھنے والا دنیادار نہیں کہلاتا بلکہ دنیادار وہ ہے جسے خدا یاد نہ ہو‘‘۔
(ملفوظات جلد پنجم۔ صفحہ 401۔ حاشیہ۔ جدید ایڈیشن)
فرمایا:
’’اور ایسے لوگوں کی گریہ و زاری اور تضرع اور ابتہال اور خدا کے حضور عاجزی کرنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص دین کی محبت کو دنیا کی محبت، حرص لالچ اور عیش و عشرت سب پر مقدم کرلیتا ہے کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک نیک فعل دوسرے نیک فعل کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور ایک بد فعل دوسرے بد فعل کی ترغیب دیتاہے۔ جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ طبعاً وہ لغو سے اعراض کرتے ہیں اوراس گندی دنیا سے نجات پا جاتے ہیں اور اس دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو کر خدا کی محبت ان میں پیدا ہو جاتی ہے‘‘۔
(ملفوظات جلد پنجم۔ صفحہ 401۔ جدید ایڈیشن)
پس عبادات ہیں جن کا اثر جسم و روح دونوں پر پڑتا ہے۔ پس اس طرف توجہ پیدا ہوگی تو ظاہری اخلاق بھی پیدا ہوں گے۔ روح بھی پاک ہوگی اور یہ چیزیں بھی ہر قسم کے دجل اور شیطان کے حملہ سے بچانے والی ہوں گی۔ عبادات ہیں جو جسم و روح میں انقلاب پیدا کردیتی ہیں۔
آپؑ نے فرمایا: ’’نماز عبادت کا مغز ہے‘‘۔ پس اس مغز کی حفاظت کریں گے تو اپنی عبادت کے حق ادا کرنے والے ہوں گے اور اپنے جسم و روح میں ایک انقلاب پیدا کرنے والے ہوں گے۔ ورنہ نمازیں پڑھنے والے تو ہم ہزاروں دیکھتے ہیں جن کے اخلاق ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ایک شریف آدمی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتا اور ان سے بچتا ہے۔ آج کل ہم کیا کچھ نہیں مشاہدہ کر رہے۔ بظاہر تو مسجدوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جنہوں نے کشت و خون کے بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ پس ایسے لوگ شیطان کو بھگانے والے نہیں ہوسکتے کیونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ مسیح کے زمانہ میں مسیح موعود کے ذریعہ سے شیطان پر غلبہ کا تھا۔
پس اے مسیح محمدی کے غلامو! تم وہ نمازیں ادا کرو ، وہ عبادات بجالاؤ جس کے اسلوب ہمیں مسیح محمدی نے سکھائے۔ آپؑ فرماتے ہیں :
’’یاد رکھنا چاہئے کہ نماز ہی وہ شے ہے جس سے تمام مشکلات آسان ہو جاتے ہیں اورسب بلائیں دور ہوتی ہیں۔ مگر نمازسے وہ نماز مراد نہیں جو عام لوگ رسم کے طورپر پڑھتے ہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے جس سے انسان کا دل گداز ہوجاتاہے اور آستانہ ٔ احدیت پر گر کر ایسا محو ہو جاتاہے کہ پگھلنے لگتاہے۔ اور پھر یہ سمجھنا چاہئے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے۔ خداتعالیٰ کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو غَنِیٌ عَنِ الْعَالَمِیْن ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتاہے اور اسی لئے وہ خدا سے مدد طلب کرتاہے۔ کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خداتعالیٰ سے تعلق ہو جانا حقیقی بھلائی کا حاصل کرلینا ہے۔ ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اس کی ہلاکت کے درپے رہے تو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی ہلاک کرنے پڑیں تو کر دیتاہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتاہے۔ یاد رکھو! یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔ لیکن اکثر لوگ جو نماز پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے‘‘۔
(ملفوظات جلد پنجم۔ صفحہ 402-403۔ جدید ایڈیشن)
پس آج اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بننے کے لئے جن کا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لئے اور ہر قسم کی بھلائیوں کے حصول کے لئے اور اپنی اور اپنی نسلوں کی حفاظت اور بقا کے لئے ایسی عبادتیں کرنی ہوں گی جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہوں ، نہ کہ وہ نمازیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے جو کہ نمازیوں پر لعنت بھیجتی ہیں اور جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے۔
پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا دنیا کا کوئی دجل ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔شیطان کا کوئی حملہ ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ دنیا ہزار ہماری تباہی اور بربادی کے منصوبے باندھے، ذرّہ بھر بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ بلکہ آپؑ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں کو بھی ہلاک کرنا پڑے تو کردیتا ہے۔ اور یہ کوئی پرانے قصے نہیں ہیں۔ آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق کہ میں تیرے اور تیرے پیاروں کے ساتھ ہوں ، نشانات دکھاتا چلا جارہا ہے اور آپؑ کی جماعت کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والا ہر ہاتھ ہم نے فنا ہوتا دیکھا ہے۔ پس جب تک ہم حقیقی طور پر آپ کی طرف منسوب ہوتے ہوئے، آپ کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے سچے عابد بنے رہیں گے، اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھتے رہیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدوں نے تو ضرور پورا ہونا ہے۔ اگر ہم میں سے ایک بھی اپنی عبادتوں کے معیار سے نیچے جائے گا تو اللہ تعالیٰ دس ایسے لوگ جو عبادتوں کا معیار قائم کرنے والے ہیں اپنے مسیح کو عطا فرمادے گا کیونکہ اب دجّال پر اور شیطان پر غلبہ اس مسیح کے ہاتھوں مقدر ہے اور کوئی طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس فیصلے میں روک ڈال سکے۔
پس آج ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے اور قائم رکھنے کے لئے مدد اور استعانت چاہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا اور جیسا کہ آپؑ نے فرمایا ہے کہ گریہ و زاری اور تضرع اور ابتہال خدا تعالیٰ کے حضور عاجزی کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ اور اس کے حصول کا نسخہ بیان کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ:
’’چاہئے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو‘‘۔
(ملفوظات جلد پنجم۔ صفحہ 403۔ جدید ایڈیشن)
پس جب یہ حالت ہوگی تو ہم اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے وارث بننے والے ہوں گے۔ ایک جگہ اس عبادت کی حقیقت جسے اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے، بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’واضح ہوکہ اس عبادت کی حقیقت جسے اللہ تعالیٰ اپنے کرم و احسان سے قبول فرماتا ہے، (وہ درحقیقت چند امور پر مشتمل ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی بلند و بالا شان کو دیکھ کر مکمل فروتنی اختیار کرنا، نیز اس کی مہربانیاں اور قسم قسم کے احسان دیکھ کر اس کی حمدوثنا کرنا۔ اس کی ذات سے محبت رکھتے ہوئے اور اس کی خوبیوں ، جمال اور نور کا تصور کرتے ہوئے اسے ہر چیز پر ترجیح دینا اور اس کی جنت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دل کو شیطان کے وسوسوں سے پاک کرنا ہے‘‘۔
(اعجاز المسیح، عربی عبارات کا اردو ترجمہ بحوالہ تفسیر سورۃ الفاتحہ از حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ صفحہ 201)
پس یہ حقیقت ہر احمدی کو پیش نظر رکھنی چاہئے کہ نمازوں کی احسن رنگ میں ادائیگی کے بعد یہ کیفیت ایک مومن پر طاری ہوگی تو وہ حقیقی مومن کہلائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی اور بلندوبالا شان کا تصور اس کو ہوگا تو پھر ہی ان امور اور ان احکامات کی طرف توجہ رہے گی جن کے سرانجام دینے کا اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کو حکم دیا ہے۔ پھر ہر وقت اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور انعامات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی حمدوثنا کرنا، اس کا شکرگزار ہونا، ایک احمدی کا خاصہ ہونا چاہئے۔ ایک احمدی کو اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور انعامات کا جتنا تجربہ ہے وہ کسی دوسرے کو ہو ہی نہیں سکتا۔
اس زمانہ میں خداتعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک احمدی پر یہ کتنا عظیم احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔ دنیا کی اکثر آبادی جسے شیطان نے وسوسوں میں ڈبویا ہوا ہے اور جس کے نتیجے میں وہ زمانے کے امام کے انکاری ہیں ،ان وساوس سے ہمیں پاک کیاہوا ہے۔ پس یہ ایسی باتیں ہیں جو ہمارے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت میں بڑھانے والی اور اس کی عبادتوں کی طرف توجہ دلانے والی ہیں اور ہونی چاہئیں۔ مسیح آخر الزمان کو اللہ تعالیٰ نے خاتم الخلفاء بناکر بھیجا ہے۔ پس اللہ نے اپنے پیارے نبی حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیؐ کے اس عاشق صادق کو امام الزمان اور خاتم الخلفاء بناکر جوبھیجا ہے تو اسی خاتم الخلفاء کی خلافت کا زمانہ بھی اب تا قیامت رہنا ہے۔
پس اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کو اپنے دلوں میں بٹھانے والے، عاجزی انکساری میں بڑھنے والے، اللہ تعالیٰ کی ذات کا صحیح فہم و ادراک کرتے ہوئے اسے قادر و توانا سمجھنے والے، اسے طاقتوں کا سرچشمہ سمجھنے والے آج احمدی ہی ہیں جو اس یقین پرقائم ہیں کہ تمام نوروں کا منبع خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی ہے جس نے اس زمانے کی تاریکی کو دور کرنے کے لئے اس خاتم الخلفاء کو دنیا میں بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر اس کی حمدوثنا کے گیت گاتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جانے والے احمدی ہی ہیں۔ پس جب تک ہم اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جائیں گے، اپنی زندگیاں گذارتے چلے جائیں گے، اپنے دلوں کو غیراللہ سے کلیۃً پاک رکھیں گے، اس کی عبادتوں میں خالص رہیں گے، اپنی زبانوں کو اس کے ذکر سے تر رکھیں گے، تب تک اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے انعامات اور احسانات سے نوازتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام نظام خلافت کا انعام ہے
جیسے میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑا انعام جو اس خاتم الخلفاء کے ذریعے سے اس نے جماعت احمدیہ کو دیا ہے وہ نظام خلافت کا انعام ہے۔ جو بھی اس انعام کی قدرکرتے ہوئے اس انعام سے منسلک رہے گا شیطان کے وسوسوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے گا اورجو دعاؤں سے اس کی آبیاری کرتا رہے گا وہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی الہٰی وعدوں کے مطابق اپنی جنت کا سامان کرنے والا ہوگا۔
آج ہم حضرت مسیح موعودؑ کی خلافت کے سوویں سال سے گزر رہے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ اگلے سال ہم نے خلافت احمدیہ کی نئی صدی کا استقبال کرتے ہوئے اس میں داخل ہونا ہے۔ جیسے کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ان دعاؤں کی وجہ سے ہی بنا جا سکتا ہے جو خالصتًا اللہ تعالیٰ کا ہو کرکی جائیں۔
خلافت احمدیہ کی نئی صدی میں دعاؤں اور عبادات کے ساتھ داخل ہوں
پس خلافت احمدیہ کی نئی صدی میں داخل ہونے کے لئے بھی خالصتًا اس کا ہوکر دعاؤں میں وقت گذارنا چاہئے تاکہ ہمیشہ اس کے انعامات کے وارث بنتے چلے جائیں۔ اس لئے میں نے تقریباًدوسال ہوئے خطبہ جمعہ میں خلافت کی نئی صدی کے استقبال کے لئے دعاؤں اور بعض نفلی عبادتوں کے ساتھ داخل ہونے کی تحریک کی تھی جس میں تقریباً دس ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے جب جماعت پر اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو سو سال پورے ہو جائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ اس پر عمل بھی ہو رہا ہو گا۔
آج میں ان دعاؤں سے متعلق یاددہانی کرواتے ہوئے ہر احمدی سے کہتا ہوں کہ بقایا عرصے میں ایک توجہ کے ساتھ ان دعاؤں کو پڑھیں تاکہ جب ہم اگلی صدی میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے داخل ہوں تو اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات سے پہلے سے بڑھ کر جماعت احمدیہ فیض پا رہی ہو اور اللہ تعالیٰ اپنے احسانات جماعت پر نازل فرما رہاہو۔
پس ہراحمدی پہلے سے بڑھ کر اپنی دعاؤں کے نذرانے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے والا بن جائے۔ ہر دعا جس کے پڑھنے کی تحریک کی گئی تھی اپنے اندر برکات سمیٹے ہوئے ہے اور خلافت کے حوالے سے بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔ ان کا میں مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔
صد سالہ خلافت جوبلی منصوبہ کے روحانی پروگرام میں شامل دعاؤں کی تفصیل و تشریح
سورۃالفاتحہ
ان دعاؤں میں سورۃ الفاتحہ ہے۔ کچھ تفصیل کے ساتھ اس پر غور کریں تو اس کا ہر ہر لفظ دین کے قیام و استحکام، اسی طرح خلافت کی مضبوطی اور ہر احمدی کے اپنے ایمان میں ترقی کے لئے ایک عظیم الشان دعا ہے۔ یہ ایک ایسا نور کا مینار ہے جو ہمیں خداتعالیٰ سے زندہ تعلق جوڑنے کاراستہ دکھاتاہے اور یہ سورت قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :
’’سورۃ الفاتحہ کاایک نام ام القرآن بھی ہے کیونکہ وہ تمام قرآنی مطالب پر احسن پیرایہ میں حاوی ہے اور اس نے سیپ کی طرح قرآن کریم کے جواہرات اور موتیوں کو اپنے اندر لیا ہوا ہے اور یہ سورۃ علم و عرفان کے پرندوں کے لئے گھونسلوں کی مانند بن گئی ہے۔‘‘
(اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد18صفحہ74۔ عربی عبارت کا اردو ترجمہ از تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ3)
پھر آپ فرماتے ہیں :
’’سورت فاتحہ کے بہت سے نام ہیں جن میں سے پہلا نام فاتحۃالکتاب ہے اور اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ قرآن مجید اسی سورت سے شروع ہوتا ہے نماز میں بھی پہلے یہی سورت پڑھی جاتی ہے اور خداتعالیٰ سے جو رب الارباب ہے دعا کرتے وقت اسی( سورت) سے ابتدا کی جاتی ہے اورمیرے نزدیک اس سورت کو فاتحہ اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کوقرآن کریم کے مضامین کے لئے حَکَم قرار دیا ہے اور جو اخبارِ غیبیہ اور حقائق و معارف قرآن مجید میں احسان کرنے والے خدا کی طرف سے بیان کیے گئے ہیں وہ سب اس میں بھر دئیے گئے ہیں اور جن امور کا انسان کو مبدء و معاد( دنیا و آخرت) کے سلسلے میں جاننا ضروری ہے وہ سب اس میں موجود ہیں مثلاً وجود باری، ضرورت نبوت اور مومن بندوں میں سلسلہ خلافت کے قیام پر استدلال اور اس سورت کی سب بڑی اور اہم خبریہ ہے کہ یہ سورت مسیح موعودؑ اور مہدی معہود کے زمانے کی بشارت دیتی ہے۔‘‘
(اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد18صفحہ70-71۔ عربی عبارت کا اردو ترجمہ از تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ1)
پس اس کے ہر ہر لفظ پر غور کرکے پڑھنا روحانی ترقی کا باعث ہے اور روحانیت میں ترقی پھر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بناتی ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔ یعنی رب العالمین، رحمان، رحیم، مالک یوم الدین۔ ان صفات کا ذکرمیں کافی حد تک اپنے خطبات میں کر چکا ہوں اس وقت میں مختصراً حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے سے اس کا تعلق بیان کردیتا ہوں جو کہ حضرت مسیح موعودؑ کے اپنے الفاظ میں ہی بیان کروں گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’الحمدللہ کا مظہر رسول اللہ ﷺکے دو ظہوروں محمدؐ اور احمدؐ میں ہوا۔اب نبی کاملؐ کی ان صفات اربعہ کو بیان کر کے صحابہ کرام کی تعریف میں پورا بھی کر دیا۔ گویا اللہ تعالیٰ ظلّی طور پر اپنی صفات دینا چاہتا ہے۔ اس لئے فنافی اللہ کے یہی معنی ہیں کہ انسان الہٰی صفات کے اندر آجائے۔ اب دیکھو کہ ان صفات اربعہ کا عملی نمونہ صحابہؓ میں کیسا دکھایا۔ جب رسول اللہؐ پیدا ہوئے تو مکہ کے لوگ ایسے تھے جیسے بچہ دودھ پینے کا محتاج ہوتاہے۔گویا ربوبیت کے محتاج تھے۔ وحشی اور درندوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے۔ آنحضرتﷺ نے ماں کی طرح دودھ پلاکر ان کی پرورش کی۔ پھر رحمانیت کا پرتو کیا۔ وہ سامان دئیے کہ جن میں کوشش کوکوئی دخل نہ تھا۔ قرآن کریم جیسی نعمت اور رسول کریمؐ جیسا نمونہ عطا فرمایا۔پھر رحیمیت کا ظہور بھی دکھلایا کہ جو کوششیں کیں ان پر نتیجے مترتب کیے۔ ان کے ایمانوں کو قبول فرمایا اور نصارٰی کی طرح ذلالت میں نہ پڑنے دیا بلکہ ثابت قدمی اور استقلال عطا فرمایا۔ کوشش میں یہ برکت ہوتی ہے کہ خدا ثابت قدم کر دیتاہے۔ رسول اللہﷺ کے صحابہ میں کوئی مرتد نہ ہوا، دوسرے نبیوں کے احباب میں ہزاروں ہوتے تھے۔ ‘‘
(الحکم 24؍جنوری1901ء صفحہ4۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ171)
فرماتے ہیں :
’’غرض رسول اللہﷺ کی رحیمیت کا اثر تھا کہ صحابہ میں ثبات قدم اور استقلال تھا۔ پھر مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کا عملی ظہور صحابہ کی زندگی میں یہ ہوا کہ خدا نے ان میں اور ان کے غیروں میں فرقان رکھ دیا یا جو معرفت اور خدا کی محبت دنیا میں ان کو دی گئی یہ ان کی دنیا میں جزا تھی۔ اب قصہ کوتاہ کرتا ہوں کہ صحابہ رضی اللہ عنھم میں ان صفاتِ اربعہ کی تجلی چمکی لیکن بات بڑی غور طلب ہے کہ صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گذر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیاہے وہ بھی صحابہ میں داخل ہے جو احمد کے بروزکے ساتھ ہوں گے۔ چنانچہ فرمایا ہے

وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّایَلْحَقُوْابِھِمْ

یعنی صحابہ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو بلکہ مسیح موعود کے زمانے کی جماعت بھی صحابہ ہی ہوگی۔ اس آیت کے متعلق مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود کی جماعت ہے مِنْھُمْ کے لفظ سے پایا جاتاہے کہ باطنی توجہ اور استفاضہ صحابہؓ ہی کی طرح ہوگا۔ صحابہؓ کی تربیت ظاہری طور پر ہوئی تھی مگر ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔وہ بھی رسول اللہﷺ ہی کی تربیت کے نیچے ہوں گے۔ اس لئے سب علماء نے اس گروہ کا نام صحابہ ہی رکھا ہے۔ جیسے ان صفات اربعہ کا ظہور ان صحابہ میں ہوا تھا ویسے ہی ضروری تھا کہ

اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّایَلْحَقُوْابِھِمْ

کی مصداق جماعت صحابہ میں بھی ہو۔‘‘
(الحکم 24؍جنوری1901ء صفحہ4۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ172)
پس آنحضرت ﷺ کے اس عاشق صادق سے فیض پانے والے اور آپؑ کے حلقہ بیعت میں آپؑ کی زندگی میں شامل ہونے والے بھی اس زمانے میں جب آپ کو ظہور ہوا کسی ایسے مسیحا کی تلاش میں تھے جو روحانی دودھ لانے والا ہو۔ ایک بہت بڑی تعدادمسلمانوں کی قرآن کریم کی تعلیم سے دور جا پڑی تھی۔ ایمان آنحضرتؐ کی پیشگوئیوں کے مطابق ثریا پر جا چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر اپنی صفت ربوبیت کا پرتو بنا کر مسیح الزمان کو دنیامیں بھیجا اور اس نے بھی اپنے آقا و مطاعؐ کی طرح اپنے صحابہ کی اس دودھ سے پرورش کی جس کے سوتے درحقیقت قرآنی تعلیم سے ہی پھوٹ رہے تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے کہ آپ کو بھی اس کا مظہر بناتے ہوئے قرآن کریم کے علوم ومعارف کادریا حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے اس زمانے میں جاری فرما دیا اور پھر یہ بھی اس رحمانیت کا نتیجہ ہے کہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا فیض بھی حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے جاری فرمایا جس کے تاقیامت رہنے کاوعدہ دیا ہے اور پھر رحیمیت کی صفت کا اظہار ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھی اپنے وعدوں کے مطابق پہلوں سے جوڑتے ہوئے وہ جماعت صحابہ عطا کی جنہوں نے ثبات قدم اورقربانیوں کی اعلیٰ مثالیں قائم فرمائیں ، عبادتوں میں بڑھنے کی کوششیں کیں اور یوں ان کوششوں کی وجہ سے وہ رحیمیت سے فیض پانے والے بھی ہوئے اوراللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو حاصل کرنے والے بھی ہوئے۔
رحیمیت کا یہ فیض آج بھی جاری ہے اس حَکَم اور عدل سے تعلق جوڑنے والے اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم پرعمل کرنے والے آج بھی ان انعامات کو اور ان فضلوں کو پانے والے ٹھہریں گے جن سے پہلوں نے فیض پایا تھا۔ پس یہ فیض اس وقت تک ملتا رہے گا جب تک

مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن

کے مضمون کو سمجھتے ہوئے اپنے عملوں کو اس کی تعلیم کے مطابق ڈھالتے رہیں گے اور اس کے نتیجے میں خدا کی محبت اور معرفت کو ہر چیز پر مقدم رکھیں گے اور یہ معرفت اور محبت الہٰی ہے جو پھر جزابن کر ہمیں دوسروں سے ممتاز کرنے والی ہوگی اور یہ انعامات کا سلسلہ نسلًا بعد نسلٍ چلتا رہے گا۔
پس سورۃ الفاتحہ میں بیان شدہ ان چار صفات کے اس مضمون کو بھی سامنے رکھتے ہوئے ہر احمدی کو اپنی زندگی گذارنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ ہمیں فیضاب کرتا رہے۔
پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان ہے کہ اس نے اپنی نعمتوں سے ہمیں فیض پہنچانے کے لیے، ہمیں یہ بتانے کے لیے کہ تمہاری عبادتیں بھی میرے فضل کے بغیر تمہارے کسی کام نہیں آسکتیں یہ دعا سکھائی ہے کہ

اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

حضرت مسیح موعودؑ اس ضمن میں فرماتے ہیں :
’’ دیکھو اللہ تعالیٰ نے

اِیَّاکَ نَعْبُدُ ُ

کی تعلیم دی ہے۔ اب ممکن تھا کہ انسان اپنی قوت پر بھروسہ کرلیتا اور خدا سے دور ہو جاتا اس لئے ساتھ ہی

اِیَّاکَ نَسۡتَعِیْنُ

کی تعلیم دے دی کہ یہ مت سمجھو کہ یہ عبادت جو میں کرتا ہوں اپنی قوت اور طاقت سے کرتا ہوں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی استعانت جب تک نہ ہو اور خود وہ پاک ذات جب تک توفیق اورطاقت نہ دے کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔‘‘
(الحکم 24؍جنوری1901ء صفحہ4۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ204)
پس اس دعا کو بھی باربار دہرانا چاہئے کہ اے اللہ تیرے انعامات جو مسیح موعودؑ کے ساتھ مخصوص ہیں ، ان کاحصول تو نے اپنی تعلیم پر عمل اور عبادتوں کے ساتھ مشروط کیا ہے اور یہ دعائیں اور عبادتیں کرنے کا ہم حق ادا نہیں کر سکتے اگرتیری مدد شامل حال نہ ہو۔پس ان عبادتوں کے معیار حاصل کرنے کے لئے بھی ہماری مدد فرما تاکہ ہم تیرے انعامات سے ہمیشہ حصہ لیتے چلے جائیں۔ پس ہمیں اپنی مدد سے ہمیشہ متمتع کرتے رہنا تاکہ ہم تیری عبادت کرتے ہوئے ہمیشہ راہِ ہدایت پر چلتے رہیں اور اس راہِ ہدایت پر چلنے کے لئے یہ دعا سکھائی کہ

اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ:
’’کلام الہٰی

اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ

کے معنی یہ ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں سیدھا راستہ دکھا اور ہمیں اس راستے پر قائم رکھ جو تیری جناب تک پہنچاتا ہو اور تیری سزا سے بچاتا ہو۔‘‘
(اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد18صفحہ175۔عربی عبارت کا اردو ترجمہ از تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ219)
اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کے راستے ان لوگوں کی پیروی سے حاصل ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ ہیں۔ پس ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے اس انعام یافتہ اور تائید یافتہ کے ماننے والے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور اس کی تائید میں وہ نشانات دکھائے جن کا اعلان آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا، جس کی اطلاع آنحضرتﷺ نے دی تھی۔ جن میں سے ایک عظیم الشان نشان چاند اور سورج کا گرہن تھا جو اپنے وقت پر لگا۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس یقین پر قائم نہ ہوں کہ آنے والا مسیح اور خاتم الخلفاء آگیا جس کی پیشگوئی آنحضرتﷺ نے فرمائی تھی اور اس کو ماننا یقینا سزا سے بچانے والا ہے۔ ہم حضرت مسیح موعودؑ کو مان کر نہ صرف سزا سے بچائے جانے والے بنے بلکہ اس دعا کی بدولت دائمی طور پر ان انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہوگئے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق ہمیشہ کے لئے خلافت کا نظام جاری فرما دیا۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ
’’اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اپنے فضل اور عنایت سے اسی دنیامیں ضرور خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے قبل نیکو کاروں اور متقیوں کو خلیفہ بنایا تھا۔‘‘
(اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد18صفحہ176۔ عربی عبارت کا اردو ترجمہ از تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ222)
قرآن کریم میں سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَعَدَﷲ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْامِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (النور:56)۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ :
’’پس قرآن کریم سے ثابت ہوگیا کہ مسلمانوں میں روزِ قیامت تک خلفاء آتے رہیں گے اور یہ کہ آسمان سے کوئی نہیں آئے گا بلکہ یہ سب لوگ اس امّت سے مبعوث کئے جائیں گے۔‘‘
(اعجازالمسیح۔روحانی خزائن جلد18صفحہ177۔ عربی عبارت کا اردو ترجمہ از تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ222-223)
اور پیشگوئی کے مطابق جس مسیح اورمہدی اور خاتم الخلفاء نے آنا تھا اس نے بھی اسی امت سے مبعوث ہونا تھا۔ پس آنحضرتﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق چودہویں صدی میں وہ مسیح اور مہدی اور خاتم الخلفاء مبعوث ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کو پورا کر دیا۔ اس کو ماننے والے امن میں آگئے اور جیسا کہ آپ نے رسالہ الوصیت میں فرمایا تھا کہ میرے جانے کے بعد تم دوسری قدرت بھی دیکھو گے جس کا سلسلہ دائمی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی پورا ہوتے ہم گذشتہ سوسال سے دیکھ رہے ہیں۔ پس دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس انعام سے ہمیشہ فیض یاب کرتا رہے اور کبھی ایسے عمل سرزد نہ ہوں جس سے اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آنے والے بنیں یا اس گروہ میں شامل ہوں جو گمراہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آئے۔ پس سورۃ الفاتحہ ایک ایسی دعا ہے جو خلافت کے حوالے سے بھی بڑے غور سے پڑھنے والی دعا ہے۔
درودشریف کی اہمیت و برکات
پھر دعاؤں میں درود شریف پڑھنے کی تحریک کی گئی تھی۔ درودشریف کی بھی کتنی اہمیت ہے، اس سے کیا برکات ہم حاصل کرتے ہیں۔اس بارہ میں آنحضرتﷺ نے فرمایا مجھ پر درود بھیجا کرو۔ تمہارا مجھ پر درود بھیجنا خود تمہاری پاکیزگی اور ترقی کا ذریعہ ہے۔
(جلاء الافھام مؤلفہ ابن قیم الجوزیہ۔ بابا ما جاء فی صلوۃ علیٰ رسول اللّہ۔ الفصل الأول۔ حدیث نمبر 22)
پس مسیح موعودؑ کی جماعت میں شامل ہو کر دلوں کو پاک کرنا ہی اصل مقصود ہے اور اس کا نسخہ آنحضرتﷺ نے ہمیں بتایا کہ مجھ پر درود بھیجو جو تمہاری پاکیزگی کا باعث بنے گا اور تمہاری دینی، دنیاوی اور روحانی ترقی ہوگی اور اللہ تعالیٰ ان راستوں کی طرف تمہاری راہنمائی فرمائے گا جو جنت کی طرف لے جانے والے راستے ہیں۔
اس بارہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:’’ جس شخص نے مجھ پر درود بھیجنا چھوڑ دیا وہ جنت کی راہ کھو بیٹھا‘‘۔
(سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃالصلوات والسنۃ فیھا باب صلاۃ النبیؐ)
جنت کی راہ کیا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہ ہے۔ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وراث بننا ہے لیکن یہ درود بھی اس کے الفاظ کو سمجھتے ہوئے اور دلی خلوص سے بھیجنا ضروری ہے۔ آنحضرتﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ ’’جو شخص مجھ پر دلی خلوص سے درود بھیجے گااس پر اللہ تعالیٰ دس بار درود بھیجے گااور اسے دس درجات کی رفعت بخشے گا اور اس کی دس نیکیاں لکھے گا‘‘۔
(جلاء الافھام مؤلفہ ابن قیم الجوزیہ۔ بابا ما جاء فی صلوۃ علیٰ رسول اللّہ۔ الفصل الأول۔ حدیث نمبر 145)
پس یہ درود ہے جو اعلیٰ معیاروں کی طرف لے جانے والا ہے۔ اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ نے درود کی اہمیت کس طرح ہم پر واضح کی اس بارے میں آپ اپنے ایک الہام میں فرماتے ہیں

وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ مَفْعُوْلًا

یعنی ’’اور جو کچھ خدا نے چاہاوہ ہونا ہی تھا ‘‘کا ذکر کرنے کے بعد پھر آگے فرماتے ہیں کہ:
’’ پھر بعد اس کے جو الہام ہے وہ یہ ہے کہ

صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ سَیّدِ وُلدِآدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّینِ

اوردرود بھیج محمدؐ اور اٰل محمدؐ پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم الانبیاءؐ ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب مراتب اور تفضلات اور عنایات اسی کے طفیل سے ہیں اور اسی سے محبت کرنے کا یہ صلہ ہے۔ سبحان اللہ اس سرورِکائنات کے حضرت احدیت میں کیا ہی اعلیٰ مراتب ہیں اور کس قسم کا قرب ہے کہ اس کامحب خدا کامحبوب بن جاتا ہے اور اس کا خادم ایک دنیا کا مخدوم بنایا جاتا ہے (یعنی اس سے محبت کرنے والے سے خدا بھی محبت کرتا ہے اورجو اس کے نبی کا خادم ہے ایک دنیا اس کی خادم بن جاتی ہے۔ فرماتے ہیں ) اس مقام میں مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درودشریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہوگیا اسی رات خواب میں دیکھا کہ آبِ زلال کی شکل پرنور کی مشقیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔( فرشتے لے کر آتے ہیں صاف و مصفّٰی پانی) اور ایک نے ان میں سے کہا یہ وہی برکات ہیں جوتونے محمدؐ کی طرف بھیجی تھیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور ایسا ہی عجیب ایک اور قصہ یاد آیا ہے کہ ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں یعنی ارادۂ الہٰی احیائے دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پرشخصِ مُحۡیی کے تعیّن ظاہر نہیں ہو ئی۔ اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔ اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مُحۡیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے کہا

ھٰذَا رَجُلٌ یُّحِبُّ رَسُوۡلَ اللّٰہِ

یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے۔ سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ598۔597 حاشیہ در حاشیہ)
پس اس زمانے میں اس زمانے کے امام اور مسیح آخرالزمان جن کو اللہ تعالیٰ نے احیاء دین کے لئے مبعوث فرمایا ہے ان کو یہ مقام اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عشق و محبت میں ڈوبنے اور آپ پر درود بھیجنے سے ملا۔پس آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں سے فیض اٹھانے کے لئے مسیح موعود کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد یہی نسخہ ہمیں استعمال کرنا ہوگا۔ ان انعامات کا تا قیامت وارث رہنے کے لئے ہمیں سچے دل سے اور خلوصِ نیت کے ساتھ آنحضرتﷺ پر سلام بھیجنا ہوگا اور درود بھیجنا ہوگا۔پس ہراحمدی اپنی تمام دعاؤں پر اس دعا کو مقدم رکھے تو جہاں وہ روحانی ترقی کی منزلیں طے کرنے والا ہوگا وہاں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے اپنی دعاؤں کی قبولیت کے نشان بھی دیکھنے والا ہوگا۔ اللہ کے رسولؐ نے ہمیں اس بات کی ضمانت دی ہے کہ جو دعا اللہ کی ثناء اور مجھ پر درود بھیجتے ہوئے کی جائے وہ تمہاری حاجات پوری کرنے کا باعث بنے گی۔لیکن جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ خلوص شرط ہے اور اگر خلوص کے ساتھ ان الفاظ کی گہرائی اور حکمت کا بھی علم ہوجائے تو دل کے درد کے ساتھ دعا نکلتی ہے۔ اس لئے میں اس کی کچھ تھوڑی سی وضاحت لُغوی طور پر بھی کر دیتا ہوں۔ اہل لغت کے نزدیک

اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

کی دعاکا معنی یہ ہوگا کہ اے اللہ! تو محمدؐ کو اس دنیا میں ان کا ذکر بلند کرکے، ان کے پیغام کو کامیابی اور غلبہ عطا فرماکر اور ان کی شریعت کے لئے بقا اور دوام مقدر کرکے عظمت عطا فرما جبکہ آخرت میں ان کی امت کے حق میں شفاعت کو قبول فرما کراو ر ان کے اجروثواب کو کئی گنابڑھا کر دینے کے ذریعہ انہیں عظمت سے ہمکنار فرما۔ پھر اہل لغت کہتے ہیں کہ نبی کریمؐ پر درود شریف کے متعلق حدیث میں

بَارِکۡ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ

کے الفاظ آئے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ تو نے جو بھی عزت و عظمت اور عظیم شان اور بزرگی آنحضرتﷺ کے لیے مقدر فرمائی ہوئی ہے اس کو ان کے لئے قائم فرما دے اور اسے ہمیشگی اور دوام بخش دے۔ تقریباً ملتے جلتے الفاظ ہیں۔ بعض کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا ہمیں آنحضورﷺ پر درود بھیجنے کا جو حکم ہے تو ہم اس کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں اس لئے ہم اس بات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہوئے یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ تو ہی محمدؐ پر رحمت نازل فرما کیونکہ تجھے سب سے زیادہ اس بات کا علم ہے کہ وہ کس بات کا زیادہ مستحق ہے، تو اس دعا کومحدود نہیں کیاجا سکتا۔
قرآن کریم کی آیت

اِنَّ اللہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰاَ یُّھَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا (الاحزاب:57)

کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو!تم درود وسلام بھیجو نبیؐ پر۔ اس آیت سے ظاہر ہوتاہے کہ رسول اکرمؐ کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف یااوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا‘‘ (یعنی ان کو محدود کرنے کے لئے کوئی لفظ مخصوص نہیں کیا) ’’آپ کی روح میں وہ صدق وصفا تھا اورآپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکرگزاری کے طور پر درود بھیجیں۔‘‘
(رپورٹ جلسہ سالانہ 1897صفحہ 51۔50۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد3صفحہ730)
پس جتنی چاہے ’’صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ‘‘ کے معنی کو وسعت دے دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ مانگا جائے کہ تمام قسم کے افضال و برکات جن کا احاطہ ہماری سوچ نہیں کرسکتی محمدؐ پرنازل فرما اور اس طرح درود بھیجتے ہوئے شکرگذاری کے جذبات ایک مومن کے دل میں پیدا ہوں گے تو یہی خلوص دل سے بھیجا جانے والا درودہوگا جو اس کے اپنے فائدہ کے لئے بھی اور اس کی دعاؤں کی قبولیت کے لئے بھی اس کے کام آئے گا۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اس بات پر ایک اور رنگ میں درود شریف کی بڑی لطیف تشریح فرمائی ہے۔ بعض سوال کرتے ہیں ، اس لئے میں نے یہ بھی لے لیا ہے۔ مختصراً بیان کردیتا ہوں کہ یہ سوال اٹھتاہے کہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں آپ کی تعلیم تمام انبیاء کی تعلیم کااحاطہ کیے ہوئے ہے بلکہ قرآن کریم نے وہ باتیں بھی بیان فرمائی ہیں جن کاپہلی قوموں کو فہم و ادراک ہی نہیں تھا اورآپ کا زمانہ اب قیامت تک پرمنتج ہے پھر یہ کیوں درود شریف میں ہمیں دعا سکھائی گئی کہ

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ

تو یہ کَمَا کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے یعنی جس طرح ابراہیمؑ پر تیرے فضل ہوئے اس طرح آنحضرتﷺ پر بھی اپنا فضل نازل فرما۔ تو یہاں یہ واضح ہو کہ کَمَا کا مفہوم یہاں برابری کانہیں ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح ابراہیمؑ اپنی جنس میں کامل وجود بنے اسی طرح آنحضرتﷺ اپنی جنس میں کامل وجود بنے۔
حضرت ابراہیمؑ اسرائیل کے نبی تھے اور قومی نبیوں میں سے حضرت ابراہیمؑ کمال کو پہنچ گئے تھے۔ آنحضرتﷺ جو تمام عالم کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں ان پر بھی تیرے ایسے فضل اور برکتیں ہوں جو اپنے کمال کو پہنچ جائیں اور کیونکہ آنحضرتﷺ ایک قوم کے لئے نہیں بلکہ کل عالم کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ پس کل عالم میں آپ کاکمال کو پہنچنا یقینادرجہ میں اس سے بڑا ہے جو حضرت ابراہیمؑ کا تھا۔حضرت مصلح موعود نے ایک یہ نکتہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے دل کی اس تڑپ کی وجہ سے کہ خداتعالیٰ کی واحدانیت اس علاقے میں قائم ہو، ایک بیٹے کو آباد ملک میں اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے بھیجا اور دووسرے بیٹے کو مکہ کی غیرذی زرع وادی میں چھوڑ آئے تاکہ وہ اس بیابان علاقے میں مستقبل میں آباد ہونے والی آبادی میں بھی اللہ کاپیغام پہنچائے۔ آتے جاتے مسافر جوہیں ان کو بھی اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ تو ان کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ شہروں اور بیابانوں میں خدائے واحدکا بول بالا ہو اور ان کی اس تڑپ کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ایک لمبے عرصے بعد اس بیابان میں آبادی پیدا کردی۔ پس جب ہم درود پڑھتے ہیں تو

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

کہتے ہیں تو ابراہیمؑ کی یہ تڑپ اور یہ جذبہ بھی یاد آجاتاہے اور آنا چاہئے اور اس کے ساتھ ہمارے دل میں یہ خواہش معجزن ہونی چاہئے کہ جس طرح ابراہیمؑ نے اپنے علاقہ میں اللہ کانام بلند کرنے کے لئے کوشش کی، آج ہم آنحضرت ﷺ کو ماننے والے ہیں تو اسی طرح ہم آپ کا پیغام شہروں اور ویرانوں میں پہنچادیں۔ تمام دنیا کے کونے کونے میں پہنچا دیں اور ہر جگہ اللہ اکبر کا نعرہ لگادیں۔ پس ہم اس درود کے پڑھنے کے ساتھ جب یہ سوچ رکھیں گے کہ ابراہیمؑ کی اولاد نے اپنے سپرد کام کا حق ادا کیا۔ آج ہم جو آنحضرتﷺ کی روحانی اولاد کہلاتے ہیں آپ پر درود بھیجنے کا حق تب ادا کریں گے جب دنیا کے چپے چپے میں آنحضرتﷺ کا پیغام پہنچانے والے اور اللہ اکبر کانعرہ لگانے والے ہوں گے۔ورنہ درود تو اللہ تعالیٰ اوراس کے فرشتے آنحضرتﷺ پر بھیج ہی رہے ہیں ہمارے درود کے محتاج آنحضرتﷺ نہیں ہیں۔یہ درود ہمارے ذہنوں میں انقلاب پیداکرنے کے لئے ہے،ہماری سوچوں کو صحیح راستے پر چلانے کے لئے ہے، آنحضرتﷺ سے محبت کے اظہار کے لئے ہے، ہمیں یہ یاد دلانے کے لئے ہے کہ اگر ابراہیمؑ کی اولاد قربانیاں کر سکتی تھی تو آنحضرتﷺ کی روحانی اولاد کیوں قربانیاں نہیں کرسکتی۔ہمیں اس سے زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا میدان عمل پوری دنیا ہے ہم اس نبی کے ماننے والے ہیں جو تمام دنیا کے لئے مبعوث ہو کر آیا۔
پس اے وہ سب احمدیو! جنہوں نے اس نبی کے غلام کی جماعت میں شامل ہوکر یہ عہد کیا ہے کہ ہم آنحضرتﷺ کی تعلیم کو نہ صرف اپنے پر لاگو کریں گے بلکہ تمام دنیا کو اس سے آگاہ کریں گے اپنے ملکوں میں جاکر، حضرت ابراہیمؑ اور ان کی اولاد کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے قربانیوں میں آگے بڑھیں اور خدائے واحد کا پیغام اپنے ہم وطنوں کو پہنچائیں اور پہنچانے میں پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ

کی دعا کی اہمیت
پھر ان دعاؤں میں یہ دعا کرنے کے لئے بھی کہا تھا جو حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے الہامی طور پر سکھائی تھی جس سے آپؑ کو ایک خطرناک بیماری سے شفا ہوئی تھی۔ وہ دعایہ تھی کہ

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ۔

اور اس شفا کے بعد پھر حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا تھا۔ عربی الہام ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو جو شفا دے کر ہم نے دکھلایا تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفا پیش کرو۔ اس الہامی دعا کے پہلے حصے کے الفاظ کہ

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔

کے بارہ ایک حدیث میں یوں ذکر آتاہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ دو کلمے ایسے ہیں جو( بولنے کے لحاظ سے) زبان پر نہایت ہی ہلکے ہیں لیکن( وزن کے لحاظ سے) ترازو میں بہت وزنی ہیں اور خدائے رحمان کو بہت ہی پیارے ہیں وہ ہیں۔

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔

یعنی پاک ہے وہ اللہ، پاک ہے اللہ تعالیٰ اپنی حمد کے ساتھ اور پاک ہے خدا تعالیٰ کی عظمتوں والی ذات۔
(بخاری کتاب التوحید )
پس اللہ تعالیٰ نے اس الہامی دعا میں اپنی حمد اورعظمت کو آنحضرتﷺ پر دورد کے ساتھ ملا کر شفا کا ذریعہ بنا دیا ہے جو جسمانی اور روحانی شفا کا ذریعہ بھی ہے، اس کو بہت پڑھنا چاہیے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بھی فرمایا تھا اور بعض علماء کے نزدیک بھی جب ’’علیٰ ‘‘ کا صلہ اڑا کر براہِ راست اٰل محمدٍ کہہ کر آل محمد کو آنحضرتﷺ سے ملا دیا ہے جس سے آنحضرتؐ سے روحانی قربت کا بیان کرنا مقصود ہے اور یہ روحانی قربت سب سے بڑھ کر حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی اور یہی قربت کا فیض تا قیامت اب چلنا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں اور مومنین کی جماعت میں خلافت کے نظام کے تحت جاری رہناہے۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا … الخ کی دعا کی اہمیت
پھر یہ دعا تھی کہ

’’رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ‘‘

یعنی اے اللہ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دینا بعد اس کے کہ تو ہمیں ہدایت دے چکا ہے او ر ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا کر۔ یقینا تو ہی ہے جو بہت عطا کرنے والا ہے۔
جیسا کہ پہلے بھی بتاچکا ہوں کہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو جو حضرت مسیح موعودؑ کی بڑی بیٹی تھیں آپ ؑکی وفات کے فوراً بعد خواب آئی تھی، ان کے خواب میں حضرت مسیح موعودؑ آئے اور آپؑ نے بڑی تاکید فرمائی کہ یہ دعا بہت پڑھا کرو۔ آپ نے خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کو یہ خواب سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ آج کے بعد میں اس کو کبھی پڑھنا نہیں چھوڑوں گا بہت زیادہ پڑھوں گا اس میں جہاں ایمان کی مضبوطی کے لئے اللہ تعالیٰ سے التجا ہے، دعا ہے وہاں نظام خلافت سے جڑے رہنے کے لئے بھی دعا ہے۔
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنی ایک ملازمہ کو بھی یہ خواب بتائی تو اس نے کہا میں تواب یہ دعا ضرورکیا کروں گی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک وقت ایسا آیا کہ اس ملازمہ کا خاوند جو جماعت سے دور ہٹ گیا بلکہ جماعت چھوڑ دی تھی لیکن اس دعا کی برکت سے یہ ملازمہ محفوظ رہیں اور خلافت سے چمٹی رہیں اور اپنے بچوں کولے کر خاوند سے علیحدہ ہو کر قادیان آگئیں اور بچے بھی اس شخص کے شر سے محفوظ ہوگئے۔
پس یہ دعا خلافت کے ساتھ جڑے رہنے کے لئے بڑی اہم دعا ہے۔ گمراہ ہونے سے بچنے کے لئے بڑی اہم دعا ہے۔ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے جو وہ انسان پر فرماتا ہے بجائے شکرگزاری کے جذبات کے ٹیڑھاپن پیدا ہوجاتاہے۔ کسی کو چار سچی خوابیں آجائیں تو وہ سمجھتا ہے کہ اب میں بڑا ولی بن گیا ہوں مجھے خلافت کی بیعت کی کیا ضرورت ہے۔ کسی کو قرآنِ کریم کے بعض مضامین کاعلم ہوجائے تو تکبر اسے پکڑ لیتا ہے کہ تو بڑا عالم بن گیا ہے تیرا مقام بھی خلافت کے برابر ہے۔غرضیکہ مختلف قسم کے شیطان ہیں جو دل میں جگہ لیتے ہیں اور اپنے انہی قسم کے شیطانوں کو مارنے کے لئے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا تھا۔ پس یہ تکبر تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور تباہی کے گڑھے میں پھینکتا ہے۔ اس تکبر نے آج مسلمانوں کو خاص طور پر جو علماء ہیں مسیح ومہدی کے ماننے سے دور رکھا ہوا ہے، روکا ہوا ہے۔ لیکن سب سے بڑی بدقسمتی ان لوگوں کی ہوگی جو سیدھا راستہ دیکھنے کے بعد پھر اس سے دور جائیں گے۔ پس خود کو بھی مسیح موعودؑ کی جماعت سے جڑے رکھنے کے لئے اور اپنی اولاد کو بھی اس جماعت سے ہمیشہ جوڑے رکھنے کے لئے یہ انتہائی اہم دعا ہے ، اس کی عادت ڈالیں۔
روایات میں آتا ہے کہ آنحضرتﷺ بھی یہ دعا مستقل پڑھا کرتے تھے۔ آپؐ توصاف دل رکھنے والے تھے۔ آپؐ کا اوڑھنا بچھونا خداتعالیٰ کی رضا کا حصول تھا۔ اصل میں تو آپؐ نے اپنے عمل سے بھی ہمیں بتایا کہ دلوں کی کجی دور کرنے کے لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو تبھی تم اس کی رضاحاصل کرنے والے بنو گے اور تبھی تم اس کے انعامات کے وارث ٹھہرو گے اور مسیحِ آخرالزماں کے مقاصد میں اس کے مددگار ہو گے۔
صبر کے حصول اور ثباتِ قدم عطا ہونے کے لئے ایک اہم دعا
پھر ایک دعا تھی کہ

رَبَّنَااَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ

کہ اے ہمارے رب ہم پر صبر نازل کر اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش اور کافر قوم کے خلاف ہماری مدد کر۔
صبر کے حصول اور ثباتِ قدم کے لئے یہ انتہائی اہم دعا ہے۔ فَرَغَ کا مطلب ہے کہ انڈیل دیا یعنی ہمیں اتنا صبر دے کہ ہم کامل طور پر صبر کرنے والے ہوں اور ہر مشکل میں ثابت قدم رہیں۔ منکرینِ مسیح موعودؑ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والوں کو ایسی تکالیف دیتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو ایمان کی حفاظت مشکل ہے۔ ایسی ایسی تکلیفوں سے گزرنا پڑتاہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کافضل نہ ہو تو ثبات مشکل ہے۔ اس لئے دعا سکھائی کہ ہمیں کامل صبر عطا فرما، ہم تیری رضا پر راضی رہنے والے ہوں۔ہمارے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہ آئے۔
اور پھر لغات میں اُنۡصُرۡنَا کے معنے لکھے ہیں کہ اس نے مظلوم کی مدد کی، اسے دشمن سے نجات دی۔ تویہ دعا ہے کہ اے اللہ! ہمیں کامل صبر کرنے والا بنا۔ تیرے دین کی راہ میں اگر کوئی تکلیفیں ہمیں آئیں تو ہم بے صبری نہ دکھائیں۔ تیرے رسولؐ کے عاشقِ صادق کی بیعت میں آئے ہیں اور اس کے بعد خلافت کی اطاعت کی ہے تو یہ نمونہ ہمیں دکھانے کی توفیق دے جو کامل الایمان لوگوں کا نمونہ ہوتاہے لیکن اے خدا اپنی نصرت کے نظارے ہمیں دکھا اور مخالفین سے بھی ہمیں جلد نجات بخش۔
دشمنوں کے حملوں سے حفاظت کے لئے دعا
پھر ایک دعا جوبلی سال کے استقبال کی دعاؤں میں یہ تھی کہ

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔

ایک روایت میں آتا ہے ابوبردہؓ بن عبداللہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ کو جب کسی قوم کی طرف سے کوئی خطرہ محسوس ہوتا تھا تو آپؐ یہ دعا پڑھتے تھے کہ

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔

اے اللہ! ہم تجھے ان کے سینوں میں ڈالتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔
(سنن ابو داؤد۔کتاب الصلوۃ۔باب مایقول الرجل اذا خاف قوماً)
اس کی وضاحت حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ایک دفعہ دعا کی تحریک میں فرمائی تھی۔ اس کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دعا آنحضرتﷺ اس وقت مانگتے تھے جب قومی طور پر کوئی فساد دیکھتے تھے۔ کئی حدیثوں میں ہے کہ جب آپؐ کو کسی قوم سے خوف ہوتا اور اسلام کے مقابلے پر کھڑی ہوئی قومیں جواسلام کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں تو آپؐ اس وقت یہ دعا مانگا کرتے تھے

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔

یہ دعا آنحضر ت ﷺ کے دستور میں شامل ہے اور ایسے ہی موقع کے لئے ہے جب اقوام ایک جتھہ کے طور پر جمع ہو کراسلام پر حملہ آور ہوں اور چونکہ ہماری حالت بھی آجکل ایسی ہے کہ سب قومیں حتّٰی کہ بعض جگہ کی حکومتیں بھی متحد ہو کر جماعت کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہی ہیں توہمیں بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔کبھی کسی ملک کی حکومت کے ساتھ مُلّاں مل جاتا ہے اور کبھی کسی ملک کے ساتھ۔بعض اسلامی ملک نہیں بھی ہیں تو وہاں بھی بعض دفعہ ایسی دقّتیں پیش آرہی ہیں۔تو بہت دعا کرنی چاہئے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے دشمن کے مقابلوں میں امدادچاہی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے۔دشمن کا حملہ بھی دو طرح کا ہوتا ہے اور اس میں دونوں طرح کے حملوں کا بیان کیا گیا ہے۔ایک وہ جو سامنے سے حملہ ہو۔ایک وہ جو پیچھے سے ہواور شرارتیں کی جائیں۔جوحملہ سامنے سے کیا جائے اس کی زد چھاتی اور سینہ پر ہوتی ہے اور پھرجیساکہ میں نے کہا دشمن چھپ کر بھی کئی رنگ میں حملہ کرتے ہیں۔تو اس دعا میں دونوں کومدنظر رکھا گیا ہے۔

نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ

ظاہر ی حملہ کے لئے ہے۔ نحر چھاتی کے اوپر کے حصہ کو کہتے ہیں۔اس دعا میں پہلے اللہ تعالیٰ سے اس حملہ میں مدد مانگی گئی ہے جو سامنے سے ہوتا ہے۔ یعنی وہ حملہ جو ہم پر یہ لوگ کرنا چاہتے ہیں وہ ان کے سینوں کی طرف الٹادے۔ اور دوسرے جملہ میں اس حملہ میں مدد مانگی گئی ہے جو شریروں کی شرارتوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو اندر ہی اندر وہ مختلف قسم کے منصوبے بناتے رہتے ہیں اور جماعت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ، افرادجماعت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس ہر قسم کے حملوں سے بچنے کے لئے خواہ وہ دشمن سامنے سے ہم پر کر رہا ہے یا پیٹھ پیچھے سے شرارتوں سے کر رہا ہے۔ان کے شر سے بچنے کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ اس سوچ کے ساتھ یہ دعا کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکناہی ہے جو ہمیں ان کے شر سے بچاسکتا ہے۔ہمارے پاس تو کوئی طاقت نہیں۔پس اس زمانہ میں مسیح و مہدی کی جماعت کے پاس دعاؤں کا وسیلہ ہے، دعاؤں کا ہتھیار دیاگیاہے جس کو استعمال کرنا ہے اور دشمن سے بچناہے، جس سے شیطان کے ہر حملہ کا مقابلہ کیا جاسکتاہے اورشیطان کے حملہ سے بچناہے۔اس لئے عبادات کی طرف بہت توجہ دیں اور بہت دعائیں کریں۔
استغفار کی اہمیت اور حقیقت
اور پھر ایک دعا تھی۔ استغفار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ

پڑھیں کہ میں تمام گناہوں سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت طلب کرتاہوں جو میرا رب ہے اور اس کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکتا ہوں۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ:
’’استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کمزوری ظاہر نہ ہواور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اند ر لے لے۔یہ لفظ غَفَرَ سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سو اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخصِ مُسْتَغْفِرْ کی فطری کمزوری کو ڈھانک لے۔لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے ہیں۔اور یہ بھی مراد ہے کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہو ڈھانک لے۔لیکن اصل اور حقیقی معنے یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مُسْتَغْفِرْ کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے۔ کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قویٰ اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے۔یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والاہے۔
پس جب کہ خدا کانام قیّوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والااس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قیومیت کے ذریعہ بگڑنے سے بچاوے۔… پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے۔اس کی طرف قرآن شریف میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ

اَللہُ لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ …

سو وہ خالق بھی ہے اور قیوم بھی اور جب انسان پیدا ہو گیاتو خالقیت کا کام تو پورا ہوگیا مگر قیومیت کاکام ہمیشہ کے لئے ہے اس لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے اور استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے ہے۔اسی کی طرف اشارہ سورۂ فاتحہ کی اس آیت میں ہے

اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کر سکیں ‘‘۔
(ریویو آف ریلیجنز اردو مئی 1902۔جلد اول نمبر5صفحہ 187-189)
پس شیطان کے حملے جو قدم قدم پر ہو رہے ہیں ان سے بچنے کے لئے استغفار ایک انتہائی اہم دعا ہے۔قدم قدم پر جو شیطان کھڑا ہے اس کو مارنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ اللہ سے طاقت چاہی جائے اور خدا تعالیٰ سے طاقت چاہنے کا طریقہ خدا تعالیٰ نے خود بتایا ہے کہ استغفار کرو۔جو آئندہ شیطانی حملوں سے بھی بچائے گا اور گزشتہ گناہوں سے بھی پاک کرے گا،بشری کمزوریوں سے بچائے گااور شیطان کے مقابلہ کے لئے طاقت بخشے گا اور جو اس کی طرف جھکنے والے ہوں گے،جو دعائیں کرنے والے ہوں گے،جو عبادتوں کی طرف توجہ دینے والے ہوں گے،جو استغفار کرنے والے ہوں گے انہیں اپنی صفتِ قیومیت میں لپیٹتے ہوئے ان کے ساتھ ہوگا‘‘ ان کو ہر برائی سے بچائے گا۔
پس اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو جو اللہ تعالیٰ نے خلافت کی صورت میں اتاراہے ہمیشہ جاری رکھنے کے لئے استغفار کا مسلسل ورد اور توجہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا بھی بڑا ضروری ہے تا کہ یہ انعام ہماری نسلوں میں تا قیامت چلتا رہے۔
اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو حضرت مسیح موعودؑ کے مقصد کوپورا کرنے کے لئے اور آپ کے اس فیض سے جو اللہ تعالیٰ نے خلافت کے ذریعہ ہم میں جاری فرمایا فیضیاب ہونے کے لئے دعاؤں کے ساتھ،ایسی دعائیں جو اللہ تعالیٰ کی محبت کو جذب کرنے والی ہوں ،ایسی دعائیں جو عرش کے پائے ہلا دینے والی ہوں ،ایسی دعائیں جو مردہ دلوں میں جان ڈال دینے والی ہوں ،خلافت کی اس صدی کو الوداع کہیں اور اپنی دعاؤں کے ساتھ خلافت کی نئی صدی میں قدم رکھیں۔جب اس طرح اس صدی کو دعاؤں کے ساتھ اور پاک تبدیلیا ں پیدا کرتے ہوئے الوداع کریں گے اور نئی صدی میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کو اپنی زندگیوں میں پہلے سے بھی بڑی شان کے ساتھ پورا ہوتا دیکھیں گے کہ

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ

یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔
پس اے مسیح محمدی کے پیارو! آج اس مسیح نے جوامانت تمہارے سپرد کی ہے اللہ تعالیٰ کے مومنین سے کئے گئے وعدہ سے فیض اٹھانے کے لئے اس امانت کی حفاظت کرو۔اپنے عمل سے اس کی حفاظت کرو،اپنی دعاؤں کے ساتھ اس کی حفاظت کرو اور اپنی دعاؤں کے ساتھ اس انعام کو نئی صدی میں داخل کروتا کہ پھر ان قربانیو ں کی وجہ سے جو تمہارے آباؤاجداد نے کیں ،ان قربانیوں کی وجہ سے جو تم نے کیں ، اس کو نئے سے نئے پھل لگتے چلے جائیں۔اپنے بڑوں کے پھینکے ہوئے بیج کے پھل تم نے کھائے ،اب ایسے کھیت تیار کرو اور دعاؤں سے ان کی ایسی آبیاری کرو کہ اس کے شیریں پھل آئندہ خلافت کی صدی میں تمہاری نسلیں بھی کھائیں اور یہی خلافت کی صدی کو الوداع کہنے اور نئی صدی کے استقبال کا صحیح طریق ہے۔ورنہ ان مومنوں میں شمار نہ ہوں گے جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے عہدوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جلسہ تو دعا کے بعد ختم ہورہا ہے، اللہ تعالیٰ آپ سب کو، ہم سب کو خیریت سے اپنے اپنے گھروں میں لے کر جائے، ہر تکلیف و پریشانی سے بچائے اور وہ تمام دعائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کے لئے اور جلسہ پر آنے والوں کے لئے کی ہیں آپ کے حق میں پورا فرمائے۔ خیریت سے جائیں۔ موسم کی وجہ سے، ٹریفک کی وجہ سے بھی بعض مہمانوں کو تکلیف اٹھانی پڑی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے جو تکلیف کے باوجود بھی دوبارہ یہاں آتے رہے۔ بچوں کو اور عورتوں کو کئی گھنٹے بارش میں بھیگتے ہوئے میں نے دیکھا۔ مجھے خیال تھا کہ شاید وہ کل نہ آئیں ، اگلے دن نہ آئیں ، لیکن اگلے دن پھر اسی طرح حاضری تھی۔ پس یہ جوش ایمانی ہے جو ایک احمدی کا خاصہ ہے، اس کی ہمیشہ حفاظت رکھیں اور کبھی اس کو ختم نہ ہونے دیں۔ پولیس نے بھی احمدیوں کے بارہ میں غلط اندازہ لگایا ہے۔ بعض افسران پولیس نے ٹریفک میں روک ٹوک کی ہے حالانکہ بڑے آرام سے گزارا جاسکتا تھا۔ بہرحال انہوں نے تو دنیاوی فنکشن دیکھے ہیں۔ ان کو پتہ نہیں ہے کہ احمدیہ جماعت کا مزاج بالکل مختلف ہے۔ اگر ہمارے والنٹیئرز سے تھوڑی سی مدد لے لیتے تو اتنی مشکلات پیش نہ آتیں۔ بہرحال اس وجہ سے بھی اکثر ان لوگوں کو جو باہر سے آنے والے تھے، دقّت ہوئی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے چھوٹی موٹی تکلیفیں برداشت بھی کرنی پڑتی ہیں ، آبھی جائیں تو کوئی حرج نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑھ کر جزا دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی امان میں رکھے اور حفظ و امان سے اپنے اپنے گھروں میں لے کر جائے۔
حاضری، جو انہوں نے مجھے بتائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کُل 25128 ہے۔ موسم کے لحاظ سے ان کا خیال تھا کہ(شاید) اتنی نہ ہوسکے، اس میں سے پاکستان سے آنے والے 2193 اور جرمنی کے 4815۔ باقی مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگ ہیں۔ باقی حاضری یہاں کی ہے۔بہرحال اللہ تعالیٰ سب شاملین کو اپنے فضلوں کا وارث بنائے، تمام دعائیں ان کے حق میں قبول ہوں۔ دعا کرلیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/LTGgq]

اپنا تبصرہ بھیجیں