جلسہ سالانہ 1960ء کی ایک یادداشت – بحوالہ حضرت مصلح موعودؓ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 22 فروری 2019ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5نومبر 2012ء میں مکرم عبدالسمیع خان صاحب کے قلم سے ایک تاریخی مضمون شامل اشاعت ہے جو جماعت احمدیہ کے 68ویں جلسہ سالانہ کے حوالہ سے لکھا گیا ہے۔ یہ جلسہ سالانہ (جو کہ دسمبر کے آخری ہفتہ میں 28,27,26 دسمبر 1959ء کو منعقد ہونا تھا لیکن) ملکی حالات کے پیش نظر 24,23,22 جنوری 1960ء کو منعقد ہوا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے تینوں دن خطاب فرمانا تھا لیکن پہلے روز افتتاحی تقریر، پیہم ملاقاتوں اور دیگر مصروفیات کے باعث حضورؓ کو ضعف کی شکایت ہو گئی۔ ڈاکٹری مشورہ کے تحت حضورؓ دوسرے روز 23 جنوری 1960 ء کو جلسہ میں تقریر کے لئے تشریف نہ لاسکے۔ احباب جماعت کو اس طرح شدید اشتیاق کے باوجود حضورؓ کے روح پرور کلمات سننے کی سعادت سے محروم رہنا پڑا۔
خلافت ثانیہ میں یہ پہلا موقع تھا کہ حضور جلسہ سالانہ کے دوسرے روز احباب سے خطاب نہ فرماسکے۔ ہر شخص نے حضور کی اس دن کی تشریف آوری نہ ہونے کو بہت محسوس کیا۔ مکرم ثاقب زیروی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی صحتیابی کے لئے دردمندانہ دعا پر مشتمل اپنی ایک نظم نہایت خوش الحانی سے پُرسوز انداز میں پڑھ کر سنائی جس سے حاضرین پر رقّت کا عالم طاری ہو گیا۔ اس نظم کے دوران سب احباب آبدیدہ ہو کر حضورؓ کی صحتیابی کے لئے متضرّعانہ دعائیں کرتے رہے۔ نظم کے چند اشعار یہ ہیں:

چشم میگوں میں یہ دلدوز سی حسرت کیا ہے
روئے روشن پہ پریشان سی نکہت کیا ہے
شمع افسردہ ہو پروانوں کی حالت معلوم؟
جانے اس کرب میں مالک کی مشیت کیا ہے
تیری دہلیز پہ جھک جھک کے دعائیں مانگوں
اس سے بڑھ کر مجھے طاقت، مجھے قدرت کیا ہے
“ساری دنیا کے مریضوں کو شفا دے یا ربّ
آج معلوم ہوا ہے کہ علالت کیا ہے”

اجلاس کا آخری خطاب صدر اجلاس محترم شیخ بشیر احمد صاحب جج ہائی کورٹ لاہور کا تھا۔ آپ نے احباب جماعت سے پُردرد لہجے میں ایک نہایت ہی اہم فرض کی طرف توجہ دلائی۔ آپ کی آواز میں اس قدر سوز اور اثر سمویا ہوا تھا کہ ایک ایک فقرہ احباب کے دلوں میں اترتا جاتا تھا۔ آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کے نئے مرکز ربوہ کے بنانے پر روشنی ڈالی اور وہ حالات بیان کئے کہ کس طرح قادیان کا مرکز ہاتھ سے نکل جانے کے بعد حضورؓ بے چین تھے۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ حضورؓ جلسہ سالانہ کے انتظار میں گن گن کر دن گزار رہے تھے۔ جلسہ کی تاریخیں تبدیل کرنے کے لئے بھی آپ تیار نہ تھے بلکہ لوگوں سے جلدی ملنے کے لئے بیتاب تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اب وقت ہے کہ ہم سب مل کر درد و الحاح کے ساتھ اپنے مولیٰ کو پکاریں اور یہ دعا مانگیں کہ اے ارحم الراحمین! تُو ہمیں اُس دعا کی توفیق عطا کرجو خطا نہیں جاتی اور جسے تیری جناب سے قبولیت عطا ہوتی ہے۔ ہم اللہ سے راہنمائی اور مدد مانگیں اور اس یقین کے ساتھ اس کے دروازے پر گریں کہ خالی ہاتھ نہیں لوٹیں گے۔
محترم شیخ صاحب نے بتایا کہ حضرت مصلح موعودؓ کے 52 سالہ دور خلافت میں بہت سی آزمائشیں آئیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر دفعہ آپ کو ڈَٹ کر مقابلہ کرنے کی توفیق دی کیونکہ پیشگوئی مصلح موعود میں ہے کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا، دل کا حلیم، علوم ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جائے گا۔ ہمارے زمانہ میں ہی 1956ء میں اللہ رکھا والا فتنہ اٹھا۔ جماعت نے بے چینی کے عالم میں حضورؓ سے تجدید بیعت کی اورفتنہ پردازوں کی مذمت کی۔ آج ان لوگوں کا نام ونشان نہیں۔ مگر جو خلافت سے وابستہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک خلافت کا انعام پارہے ہیں۔
احمدیوں کی خلافت سے محبت اس قدر تھی کہ ہر شخص کو حضور کی ایک دن کی جلسہ میں عدم شرکت نے ہلا کر رکھ دیا۔ ثاقب صاحب نے اپنی نظم میں یہ شعر زور دے کر پڑھا۔ ؎

جو کبھی دیکھ چکی ہو تیری سطوت کا کمال
ان نگاہوں میں بھلا دنیوی شوکت کیا ہے

محترم شیخ صاحب کے خطاب کے بعد حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ نے 20 منٹ تک دعا کرائی۔ آپؓ کی اقتداء میں اس درد و کرب اور اضطراب میں دعا مانگی گئی کہ ربوہ کی سرزمین مضطرب روحوں کی آہ و زاری اور چیخ و پکار سے گونج اٹھی۔ ایک سیلاب تھا ہچکیوں اور سسکیوں کا جو ہزارہا سینوں سے بیک وقت اٹھ رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس وقت آسمان میں ایک تلاطم برپا ہے۔ ہر شخص کی وارفتگی اور اس کی حالت زار اپنے آسمانی آقا سے فریاد کر رہی تھی ؎

شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر
خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا

یہ عجیب نظارہ تھا جو چشم فلک نے دیکھا۔
اللہ تعالیٰ اُس پیارے وجود پر ہزاروں رحمتیں نازل کرے۔ جیسا کہ آپؓ نے اپنے کلام میں خود فرمایا ہے ؎

اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ
ملّت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے

============================================
ایک ضروری تصحیح

مکرم سردار احمد چودھری صاحب آف ہیز لندن رقمطراز ہیں: ’’یکم نومبر 2002U کے شمارہ میں مکرم محمد صدیق ثاقب زیروی صاحب کے حوالہ سے ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کی علالت پر ایک نظم میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ شعر کہا تھا:

ساری دنیا کے مریضوں کو شفا دے یا ربّ
آج معلوم ہوا ہے کہ علالت کیا ہے

محترم ثاقب صاحب سے خاکسار کے ذاتی تعلقات اُس وقت قائم ہوئے جب وہ تقسیم ہند سے قبل زندگی وقف کرکے قادیان تشریف لائے اور اُن کی مشہور نظم

’’اے قادیاں دارالاماں! اونچا رہے تیرا نشاں‘‘

زبان زدِ عام تھی۔ یہ چند الفاظ اُن کے کارہائے نمایاں یا شاعری پر تنقیص کیلئے نہیں بلکہ صرف اور صرف اسلئے ضبط تحریر میں لا رہا ہوں کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لٹریچر میں کوئی ایسی بات راہ نہ پائے جو واقعتا صحیح نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ شعر مشہور شاعر اختر شیرانی کی اُس نظم کا حصہ ہے جو انہوں نے اپنی تخییلی یا حقیقی محبوبہ کی علالت کی خبر ملنے پر کہی تھی۔ محترم ثاقب مرحوم نے اپنے محبوب آقا کی علالت پر اسی نظم کے وزن قافیہ اور ردیف کو اپناکر جو اشعار رقم کئے اور ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ میں شائع کئے وہاں اخترؔ کا مذکورہ شعر Inverted Coma میں چھپا ہوا ہے جسے احباب نے غلطی سے ثاقب صاحب کی طرف منسوب کردیا۔ اختر شیرانی کی نظم کے دو شعر ابھی تک میرے حافظہ میں محفوظ ہیں، جنہیں شعر و شاعری کا ذوق رکھنے والے احباب کی نذر کردیتا ہوں:

اُن کی صحت کی خبر آئے گی جلد آئے گی
دل ناداں تجھے آخر کو یہ وحشت کیا ہے
سامنے ہوں تو فدا کردیں دل و جاں اُن پر
مَیں نہیں جانتا اخترؔ کہ عیادت کیا ہے‘‘

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں