جماعت احمدیہ اور مولانا عبید اللہ سندھی

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اپریل 2005ء میں مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب نے جناب مولانا عبیداللہ سندھی کے جماعت احمدیہ کے ساتھ تعلقات پر روشنی ڈالی ہے۔
مولانا عبید اللہ سندھی چیانوالی ضلع سیالکوٹ کے ایک سکھ گھرانے میں پیداہوئے۔ پیدائشی نام بوٹا سنگھ تھا اور خاندان زرگری کے پیشہ سے متعلق تھا۔
جب آپ سکول میں پڑھتے تھے تو 1884ء میں آریہ سماج کے ایک لڑکے سے کتاب ’’تحفۃ الہند‘‘ از نو مسلم عالم مولانا عبیداللہ صاحب مالیر کوٹلہ پڑھنے کو ملی۔ اس کتاب کے مطالعہ سے راہ حق کی جانب راغب ہوئے۔ پھر ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور ’’احوال الآخرۃ‘‘ کتب سے متاثر ہوکر اسلام قبول کر لیا۔ اپنے ایک دوست محمد رفیق کے ساتھ 15؍اگست 1887ء جام پور سے نکل کھڑے ہوئے کچھ دن کوٹلہ رحیم شاہ ضلع مظفر گڑھ میں گذارے اس کے بعد سندھ چلے گئے جہاں حافظ محمد صدیق صاحب چونڈی کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے۔ وہاں سے مولانا غلام محمد صاحب کے پاس دین پور چلے گئے۔ اکتوبر 1888ء میں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ملا اور مولانا ابوسراج، مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا محمودالحسن شیخ الہند سے تلمذ کیا۔ مولانا نذیر حسین دہلوی سے صحیح بخاری اور جامع ترمذی پڑھیں۔ کانپور میں مولانا احمد حسن کانپوری سے حکمت و فلسفہ کی تعلیم پائی اور رامپور میں مولوی ناظر الدین سے منطق کا درس لیا۔ 1891ء میں تعلیم مکمل کر کے اروٹ شریف آکر درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران مولوی محمد عظیم خاں کی دختر سے ان کی شادی ہوگئی۔ 1901ء میں سندھ کے ایک بڑے دینی اور روحانی مرکز گوٹھ پیر جھنڈا منتقل ہوگئے اور وہاں مدرسۃ الرشاد کی بنیاد رکھی۔
مولانا سندھی مولانا محمود الحسن کے شاگرد رشید تھے اور انہی کی طرح برطانوی حکومت کے خلاف خفیہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ اس لئے دیوبند کے ارباب حل و عقد مولانا سندھی کی سیاسی سرگرمیوں کو خطرہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کے مخصوص نظریات کا بہانہ بنا کر علمائے دیو بند مولانا محمد انور شاہ کشمیری اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ مولانا سندھی اس حوالہ سے لکھتے ہیں: ’’یہ جو تاریخ اسلام میں تم اکثر پڑھتے ہو کہ فلاں ملحد تھا۔ فلاں زندیق تھا۔ فلاں نے اسلام کو یوں نقصان پہنچایا۔ فلاں سے مسلمانوں کو یہ گزند پہنچا وغیرہ وغیرہ۔ تو یاد رکھو ان میں سے اکثر ایسے تھے جو اپنے اپنے زمانے میں مروّجہ مفاسد کی اصلاح کرنا چاہتے تھے لیکن برسر اقتدار طبقے کے مفادات پر اس سے زَد پڑتی تھی۔ چنانچہ اس کی طرف سے ان کے خلاف مذہبی حربہ استعمال کیا گیا اور اس کے جواب میں بھی مذہب ہی میدان میں آیا۔ اور اس طرح معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی اصلاح کی کشمکش مذہبی کشمکش بن گئی اور ایک دوسرے کو ملحد اور زندیق ٹھہرایا گیا۔ ‘‘
آپ 1912ء میں دہلی منتقل ہوگئے یہاں نظارۃ المعارف کی بنیاد رکھی۔ اگست 1915ء میں ہجرت کر کے کابل چلے گئے۔ قیام کابل کے دوران آپ نے آزادیٔ ہندوستان کی سکیم تیار کی جس نے تاریخ آزادی پاک و ہند میں ’’ریشمی رومال کی تحریک‘‘ سے شہرت پائی۔ اکتوبر 1922ء تا جولائی 1923ء ماسکو میں قیام رہا۔ 10؍نومبر 1923ء تا 23؍جون 1926ء ترکی میں قیام پذیر رہے۔ اگست 1926ء میں مکہ معظّمہ چلے گئے اور مارچ 1939ء کو ہندوستان میں مراجعت ہوئی۔ 22؍اگست 1944ء میں وفات پائی اور دین پور سندھ میں تدفین عمل میں آئی۔
مولانا بہت معاملہ فہم عالم تھے اور مذہبی تنگ نظری کے بہت خلاف تھے۔ چنانچہ جس بات کو حق سمجھتے اس سے نہ ٹلتے۔ جماعت احمدیہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ سے دلی محبت رکھتے تھے جس کا برملا اظہار کرتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے بھی 1909ء سے تاوفات تعلقات رہے۔ جس کا حضورؓ نے کئی بار ذکر فرمایا۔ مولانا کئی مسائل میں جماعت احمدیہ کا مؤقف اختیار کئے ہوئے تھے اور اس کا برملا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ مثلاً
٭ ایک دن حرم میں بیٹھے ہوئے آپ نے مختلف ملکوں کے حاجیوں کی ٹولیاں دیکھیں جو خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھیں۔ ہر ٹولی کے آگے آگے معلم کا ایک آدمی تھا جو اونچی آواز سے عربی میں مسنونہ دعائیں پڑھتا اور اکثر حاجی بغیر سمجھے اور بعض دفعہ غلط ملط یہ دعا دہرادیتے۔ اس پر مولانا نے بڑے دکھ کے ساتھ فرمایا کہ اپنے رب کو اپنی مادری زبان میں پکارنا انسان پر بڑا اثر کرتا ہے۔ یہ پکار انسان کے دل سے نکلتی ہے اور جسم اور روح کے اندر اس کی تاثیر سرایت کرجاتی ہے۔ ان عرب معلموں نے صرف عربی زبان میں دعاؤں پر زور دے کر حج اور اس کے مناسک کو بے روح بنا دیا ہے۔
٭ ایک روز عام علماء کا ذکر ہورہا تھا مولانا نے فرمایا کہ: ’’اگر کوئی مولوی مجھے کافر کہے تو میں کہوں گا کہ کافر وہ خود ہے کیونکہ وہ جن عقائد و مبادی کی بناء پر مجھے کافر ٹھہراتا ہے وہ ان عقائد و مبادی کو عملی شکل دینے کے لئے کچھ نہیں کرتا۔ اس کے برخلاف میں جس چیز کو حق سمجھتا ہوں اسے اس زندگی میں بروئے کار لانے کے لئے سرگرم کار ہوں۔ لیکن وہ مولوی جس بناء پر مجھ پر کفر کا حکم لگاتا ہے وہ اسے نافذ کرنے کے لئے ذرا بھی کوشش نہیں کرتا‘‘۔
٭ اپنی تفسیر القرآن میں وفات مسیح علیہ السلام کے سلسلہ میں لکھتے ہیں: ’’بل رفعہ اللّہ یہ کلمہ قرآن میں ایک بار مستعمل نہیں ہوا بلکہ اس کلمہ کی بہت سی مثالیں اور نظائر ہیں جیسے اجتماعات میں مقام عالی حاصل ہو تو قرآن اسے رفع کے ساتھ موصوف کرتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے مسیح کا درجہ بلند کیا۔ اب ہم موسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات نہیں جان سکتے جب تک کہ ابن مریم کی اتباع نہ کریں۔ یقینا اللہ نے اس کا مقام بلند کیا۔ نیز ہمیں یہ ضرورت نہیں کہ قرآن کی تفسیر میں اس کے رفع جسمانی کے قائل ہوں‘‘۔
٭ جماعت احمدیہ کی غیرمذاہب کے مقابلہ کے سلسلہ میں خدمات و مساعی کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں: جمیع اقوام عالم سے چند آدمی ایک خالص دینی اور مذہبی کانفرنس (مؤتمر) منعقد کرنے کی غرض سے ہمارے شہروں کی طرف آئے۔ جو اس بارہ میں انگریزی میں بحث کرنا چاہتے تھے کہ انسانیت عامہ کے لئے کونسا دین مناسب ہے۔ تو مَیں نے علمائے وقت سے سوال کیا کہ اُن پر واجب نہیں تھا کہ اس مؤتمر میں کوئی ایسا شخص بھیجتے جوان لوگوں پر اسلام پر پیش کرتا؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ کوئی فرض نہیں۔ میں نے کہا: وہ تو چل کر ہندوستان میں تمہارے گھروں تک پہنچے ہیں۔ تو (علماء) کہنے لگے کہ ہم ان کی انگریزی زبان نہیں جانتے۔ مَیں نے کہا اگر تم اولادِ مسلمین کو علم دین کی تعلیم دے کر پہلے اس فریضہ کو ادا کرچکے ہوتے تو وہی آج تمہاری طرف سے وکیل بن کر اسلام پیش کرتے۔ لیکن ہوا یہ کہ مرزا قادیانی کے پیروکاروں سے ایک شخص اس مؤتمر میں گیا جس نے ان پر اسلام پیش کیا۔ تو پھر میرے پوچھنے پر اہل علم گویا ہوئے کہ یہی کافی ہے۔ مَیں نے کہا: کیا تم قادیانیوں کی تکفیر سے رجوع کرتے ہو لیکن وہ اسکے بعد بھی ان کی تکفیر پر مصر رہے۔ اس پر مَیں نے کہا کہ تمہاری طرف سے فرض کفایہ کیسے ایک کافر انسان ادا کر سکتا ہے؟ یا تو تم قادیانیوں کو کافر نہ کہو تا کہ تم انہیں اسلام میں اپنا وکیل بنا سکو یا اہل اسلام کے ان لوگوں کو جو انگریزی زبان کے ماہر ہیں دینی تعلیم دیدو۔ لیکن انہوں (علماء) نے تو نہ یہ بات مانی اور نہ وہ مانی۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ علماء ان مسلمان جوانوں کو (جو انگریزی تعلیم رکھتے ہیں) دین کی تعلیم نہیں دے سکتے کیونکہ یہ خود دینی حکمت اور فلسفہ سے ناواقف اور بے بہرہ ہیں۔
٭ پروفیسر محمد سرور صاحب اپنی مرتّبہ کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ مولانا نے ایک بار فرمایا: ’’ابھی کل کی بات ہے یہیں مرزا غلام احمد تھے۔ ان کے زمانے میں مسلمانوں کی چند ضرورتیں تھیں اور اس دَور کے کچھ تقاضے تھے۔ مرزا غلام احمد نے قرآن اور اسلام کی خاص طرح سے تعبیر کر کے انہیں پورا کیا۔ انہوں نے قادیان میں ایک مدرسہ بنایا، لنگرخانہ کھولا اور لوگوں کو اپنے اردگرد جمع کیا۔ آج تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ ان کی ایک جماعت ہے اور وہ کام کر رہی ہے۔ اس کا اچھا خاصا اثر بھی ہے۔
٭ پروفیسر محمد سرور مزید بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب مولانا حرم میں بیٹھے ہوئے کسی سوال پر کہنے لگے کہ حکیم نورالدین بہت بڑے عالم قرآن تھے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب ناراض ہوکر کہنے لگے کہ مولانا! وہ تو قادیانی تھے۔ مولانا مسکرائے اور بڑے تحمل سے کہا کہ میں نے کب کہا ہے کہ حکیم نورالدین قادیانی نہیں ہے۔ میں نے جو بات کہی ہے وہ تو صرف اتنی ہے کہ وہ بہت بڑے عالم قرآن تھے۔ دوسرے دن فرمانے لگے کہ میں حکیم صاحب سے قادیان میں متعدد بار ملا۔ واقعی وہ بہت بڑے عالم قرآن تھے۔ میں تو ہندوستان سے باہر کئی اسلامی ملکوں میں رہ چکا ہوں اور یہاں مکہ معظمہ میں مختلف ملکوں سے بڑے بڑے مسلمان علماء آتے رہتے ہیں۔ مجھے ان سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے میں کہتا ہوں کہ میں نے آج تک علوم قرآن کا اتنا بڑا عالم نہیں دیکھا جتنے حکیم نور الدین تھے۔ ایسے بے نظیر عالم اور صاحب فضل شخص کا مرزا غلام احمد جیسے شخص کا مرید اور عقیدتمند بن جانا بظاہر عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس معاملے میں قدرے تعمق سے کام لیا جائے تو یہ بات ناقابل فہم نہیں رہتی۔ مولوی نور الدین کو قرآن سے انتہائی شغف تھا۔ انہیں یہ لگن تھی کہ جس طرح بھی ہو، قرآن کی اشاعت ہو۔ اس کی خوبیوں سے لوگوں کو آشنا کیا جائے۔ مولوی صاحب کے اندر یہ تڑپ تھی لیکن ان کو خود اپنے اوپر اتنا اعتماد نہ تھا کہ وہ اس دعوت کے بنفس نفیس علم بردار بنتے اور اس کے قائد اور امام بن کر لوگوں کو اپنے پیچھے چلاتے۔ بے شک ان میں علم تھا اور ان کی نظر وسیع تھی حقیقت شناس دل اور دماغ کے مالک تھے… حسن اتفاق سے ان کو مرزا صاحب جیسی جرأت، اولوالعزم اور اپنے اوپر اعتماد رکھنے والی شخصیت مل گئی چنانچہ مرزا صاحب کو پیشوا اور امام ماننے میں مولوی صاحب کو مطلق کوئی تامل نہ ہوا کیونکہ ان کی قیادت میں اپنے نقطۂ نظر کے مطابق قرآنی دعوت کو عام اور دین حق کی خدمت کر سکتے تھے اور اس کام کے لئے جن اوصاف کی وہ اپنے اندر کمی پاتے تھے مرزا صاحب کی شخصیت میں وہ خوبیاں انہیں بدرجہ ٔ اتم مل گئی تھیں۔
٭ ایک اور موقع پر مولانا نے کہا: میں مولوی نورالدین کو واقعی بڑا آدمی سمجھتا ہوں۔ ان کے علم، تفقہ فی الدین، خلوص، ایثار، بے غرض خدمت دین اور سب سے بڑھ کر ان کے اپنے آپ کو ایک مقصد کے لئے وقف کر دینا ان چیزوں کا میں بڑا معترف ہوں۔
٭ معروف انقلاب پسند جناب اقبال شیدائی کے نام اپنے خط محررہ 2؍ اکتوبر1924ء میں مولانا لکھتے ہیں: ’’آپ کو معلوم نہیں کہ مَیں مولانا نورالدین مرحوم کی خدمت میں کس طرح حاضر ہوا۔ آپ مولانا محمد علی اور مولانا صدرالدین سے دریافت کرسکتے ہیں کہ مولانا مرحوم میرے متعلق کیا خیال رکھتے تھے۔ ان کی دعاؤں کو مَیں اپنے لئے ایک ذریعہ نجات سمجھتا ہوں۔ اس وجہ سے میرے دیوبندی کشمیری دوستوں نے میری تکفیر سے گریز نہیں کیا۔ مگر میری محبت اس پارٹی سے کم نہیں ہوئی۔
٭ نیز لکھا کہ مولانا نورالدین مرحوم کو علمائے اسلام میں بہت بڑے درجے پر مانتا ہوں… اُن کے خاص شاگردوں کی بہت عزت کرتا ہوں۔ میری اس تفریق کو جو لوگ نہیں سمجھتے وہ مجھے برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔
٭ مولانا عبید اللہ صاحب سندھی قادیان میں حضرت مولانا نور الدین صاحبؓ کے پاس آیا کرتے تھے اور کئی کئی ہفتے قیام کرکے قرآن کریم کے علوم ومعارف سیکھتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں کہ جب میری عمر کوئی اکیس سال کی تھی کہ ایک سندھ کے مولوی صاحب غالباً مولانا عبید اللہ صاحب سندھی جو اکثر قادیان آتے رہتے تھے، استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سے ملنے کے لئے آئے اور یہ آیت آپؓ کے سامنے حل کرنے کے لئے رکھی کہ قرآن نے یہ کیا کہا ہے کہ اگر کئی معبود ہوتے زمین و آسمان میں فساد پیدا ہوجاتا حالانکہ معبود تو کہتے ہی اسے ہیں جو کامل القویٰ ہو…۔
حضرت مولوی صاحبؓ نے ان کو کئی جواب دیئے مگر ان کی تسلی نہ ہوئی۔ بڑی دیر تک وہ اعتراض کرتے چلے گئے۔ جب بحث لمبی ہوگئی اور سندھی صاحب نے کہا کہ اعتراض کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔ تو حضرت مولوی صاحبؓ نے بڑے جوش سے کہا آپ مجھ سے کہتے ہیں کہ مَیں جواب نہیں دے سکتا، ذرا اس بچہ سے جو میرا شاگرد ہے بحث کر کے دیکھ لیں۔ مولوی عبیداللہ صاحب کو معلوم تھا کہ مَیں بانی ٔ سلسلہ کا بیٹا ہوں۔ وہ تھے تو دیوبندی مگر ایک لمبے عرصے تک مختلف پیروں کے مرید بھی رہ چکے تھے اور پیروں کا ادب ان کے دل میں بڑا تھا۔ استاذی المکرم کی بات سن کر کہنے لگے ان سے میں بحث نہیں کروں گا یہ تو مرزا صاحب کے بیٹے ہیں۔ معلوم نہیں اگر بحث ہوجاتی تو میں اس وقت کیا جواب دیتا لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ بے شک اللہ کامل القویٰ ہوتے ہیں لیکن ان کا کامل القویٰ ہونا ہی بتاتا ہے کہ وہ ایک وقت ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتے۔ مذکورہ بالا واقعہ تو 1909ء کا ہے۔ یہی جواب سندھی مولوی صاحب کو دینا مناسب تھا۔ مگر اس وقت انہوں نے بحث سے انکار کر دیا۔
٭ حضرت مر زابشیرالدین محمود احمدؓ 1912ء میں ہندوستان کے مشہور دینی مدارس کے دوروں کے سلسلہ میں دیوبند بھی گئے جہاں مولانا عبید اللہ سندھی صاحب سے آپؓ کی ملاقات ہوئی۔ اس سلسلہ میں آپؓ فرماتے ہیں کہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے بیٹے حافظ محمد احمد صاحب نے میرا بڑا ادب کیا اور مدرسہ والوں کو حکم دیا کہ جب یہ لوگ آئیں تو ان سے اعزاز کے ساتھ پیش آئیں۔ میری دعوت بھی کی۔ بعد میں انہوں نے مولوی عبید اللہ سندھی کو ہمارے پاس بھجوادیا اور معذرت کی کہ مجھے پتہ لگا ہے کہ بعض مولویوں نے آپ سے گستاخانہ کلام کیا ہے، مجھے اس کا بڑا افسوس ہے۔ اس وقت مولوی عبید اللہ سندھی جو بڑے متمدن اور مہذب آدمی تھے ان کے مشیر کار تھے۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ مولانا عبیداللہ صاحب سندھی سے اپنے تعلقات کے بارہ میں فرماتے ہیں: ’’مولوی عبید اللہ صاحب سندھی ایک خدا ترس انسان تھے اور سادہ مزاج تھے۔ میرے وہ بچپن سے واقف تھے۔ جماعت احمدیہ کے پہلے امام کے زمانہ میں وہ قادیان بھی آیا کرتے تھے۔ اور باوجود اس کے کہ میں اس وقت ایک طالب علم کی حیثیت رکھتا تھا، میرا بہت ادب کرتے تھے۔ بعد میں بھی ان کے ساتھ تعلقات قائم رہے۔ چنانچہ میں دیوبند میں بھی ان سے ملا تھا۔ کبھی کبھی پیغام و سلام بھی آتا جاتا رہتا تھا۔ اس لئے میرے دل میں ان کا بہت ادب ہے۔ میں ان کو متصنع آدمی نہیں سمجھتا۔ لیکن ان کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ شدت سے کیمونسٹ خیالات سے متاثر تھے۔
ہجرت کی تحریک کے موقع پر وہ ہندوستان سے نکلے۔ رشیا میں بڑے بڑے کیمونسٹ لوگوں سے ان کے تعلقات رہے۔ لیکن پھر بگاڑ پیدا ہوگیا۔ اور وہاں سے آگئے۔ لیکن کیمونسٹ خیالات نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ بوجہ کیمونسٹوں سے بگاڑ کے وہ ظاہراً کیمونسٹ نہیں رہے تھے۔ مگر خیالات پر وہی رنگ تھا۔ حجاز میں رہتے ہوئے بھی جو رپورٹیں آتی تھیں وہ یہی تھیں کہ کیمونسٹ اصول کو انہیں نے ترک نہیں کیا ہے۔ چنانچہ غالباً 1927ء یا 1928ء کی بات ہے ان کے متعلق تحریک کی گئی کہ چونکہ کیمونسٹ حکومت ان کی مخالف ہے اس لئے ان کو ہندوستان میں آنے کی اجازت دی جائے۔ اس وقت غالباً سرماؤنٹ مورنس پنجاب کے گورنر تھے۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا میں ان کو جانتا ہوں اور آیا ان کو واپس آنے کی اجازت دینے میں کوئی حرج تو نہیں ہوگا۔ مَیں نے انہیں جواب دیا کہ میں مولانا کو خوب جانتا ہوں۔ وہ نہایت شریف اور نیک طبیعت کے آدمی ہیں لیکن اپنی بات کے پکے ہیں۔ نہ جلدی رائے قائم کرتے ہیں نہ جلدی رائے چھوڑتے ہیں۔ ہاں نیک طبیعت اور سادہ طبع ہونے کی وجہ سے دوسرے کے فائدہ کے خیال سے کبھی اپنی بات جلدی سے بدل لیتے ہیں مگر طبیعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اخلاق کی اتباع کے خیال سے۔ کچھ عرصہ کے بعد ان کو واپس آنے کی اجازت دیدی گئی۔ … اس کے بعد ہمیں ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ شاید 1944ء کی بات ہے کہ میں نے ان کو دعوت دینے کا ارادہ کیا مگر میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ وہ فوت ہوگئے۔ پرانی طرز کے علماء میں سے وہ ایک نہایت ہی اعلیٰ پایہ کے آدمی تھے۔ … ایک دفعہ مجھ سے کہنے لگے آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیوں سے کوئی تعصب نہیں رکھتا۔ میں نے کہا خوب جانتا ہوں۔ کہنے لگے اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں احمدیہ عقیدہ سے بھی متفق ہوں۔ میں مرزا صاحب کو ایک بڑا بزرگ سمجھتا ہوں اور صوفی سمجھتا ہوں…… مولوی عبید اللہ صاحب سندھی کا بہت ادب اور احترام کرتا ہوں اور ان کو طبعاً ایک نیک انسان سمجھتا ہوں‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں