جماعت احمدیہ کے لئے خدائی غیرت

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 15 فروری 2019ء)

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اگست و ستمبر 2012ء میں مکرم منیر احمد کاہلوں صاحب کے قلم سے جماعت احمدیہ کیلئے خدائی غیرت کے اظہار کے حوالہ سے ایک واقعہ شائع ہوا ہے۔
1994ء میں مالوکے تتلے (ضلع نارووال) میں کوئی احمدیہ مسجد نہیں تھی۔ ایک کچے مکان کے کمرہ میں دو تین گاؤں سے احمدی آکر نماز جمعہ ادا کرلیتے کیونکہ گاؤں کی مشترکہ مسجد سے ایک پیر صاحب کے بھڑکانے پر ہمیں بے دخل کردیا گیا تھا۔ تب احمدیوں کو اپنی مسجد کی تعمیر کا خیال آیا تو ایک مخلص احمدی زمیندار نے دو کنال اراضی بلامعاوضہ پیش کردی۔ چنانچہ دوستوں نے باہمی تعاون سے اس جگہ مسجد تعمیر کرلی اور ایک جمعہ کی نماز پر اس کا افتتاح بھی کرلیا۔ مسجد کے اندر جھنڈیاں اور بینر وغیرہ لگائے گئے۔ ابھی تقریب کے بعد احمدی مسجد سے باہر بھی نہ نکلے تھے کہ دیوبندی مسجد کے امام کی رپورٹ پر پولیس کی دو گاڑیاں وہاں آئیں اور انسپکٹر نے احمدیوں سے پوچھا کہ کیا آپ نے جلسہ کیا ہے؟ امیر جماعت احمدیہ مکرم چودھری خورشید انور صاحب ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ ہم نے جمعہ کی نماز کے ساتھ مسجد کا افتتاح کیا ہے اور ساری تقریب مسجد کے اندر ہی کی ہے۔ تاہم انسپکٹر بضد ہوا کہ وہ احمدیوں کے خلاف پرچہ دے گا۔ چنانچہ اُس نے تیرہ احمدیوں کے خلاف پرچہ فوجداری دے دیا جن میں مضمون نگار بھی شامل تھے۔
مضمون نگار لکھتے ہیں کہ اگلے روز مَیں نے سیشن جج سے ضمانت کروائی اور تھانہ جاکر انسپکٹر کو ضمانت نامہ دکھاکر کہا کہ مجھے شاملِ تفتیش کرلے۔ وہ حقارت آمیز لہجہ میں بولا کہ جرم کا ارتکاب کرکے اب ضمانت نامہ لے آئے ہو! مَیں نے کہا کہ بحث کی بجائے آپ مجھے شاملِ تفتیش کرلیں۔ وہ بولاکہ ضمانت کراکر باتیں کرتے ہو، اگر ضمانت نہ کروائی ہوتی تو پھر تمہیں دیکھتا۔ وغیرہ
اس واقعہ میں احمدیت کی مخالفت جن دو افراد (دیوبندی امام مسجد اور انسپکٹر)نے کی تھی، خدا تعالیٰ نے بہت جلد اُن کو بدانجام تک پہنچادیا۔ مولوی صاحب کے بیٹے نے شیعہ فرقہ کے خلاف نہایت اشتعال انگیز تقریر کی تو ایک خفیہ ایجنسی والے اُسے پکڑ کر لے گئے اور سات آٹھ ماہ تک اُس کی کوئی خبر نہ ملی۔ مولوی صاحب اس غم سے جانبر نہ ہوسکے اور چند ماہ بعد موت کے منہ میں چلے گئے۔ اسی طرح تھانہ کی حدود میں چند اشتہاری ملزم ایک عمارت کی بالائی منزل میں روپوش ہوئے۔ مذکورہ انسپکٹر اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری جمعیت لے کر وہاں پہنچا۔ دونوں طرف فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ دو دن گزرنے کے بعد اشتہاری ملزموں نے کہا کہ ہم ایک شرط پر گرفتاری دیں گے اگر انسپکٹر خود آکر ہمیں گرفتار کرے۔ انسپکٹر بہت خوش تھا کہ اُسے تین چار ملزموں کو گرفتار کرنے کا موقع مل رہا تھا۔ جب انسپکٹر عمارت کے قریب پہنچا تو ملزموں نے فائرنگ کرکے اُسے ایک کانسٹیبل سمیت ہلاک کردیا۔ باقی تمام اہلکار محفوظ رہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں