حاتم طائی

زمانہ جاہلیت کے عربوں میں جو لوگ جودوسخا میں مشہور ہوئے اور ان کی سخاوت ضرب المثل بن گئی، اُن میں سے ایک حاتم طائی ہے۔جس کا اصل نام حاتم بن عبداللہ بن سعد اور اس کی کنیت ابوعدی اور ابوسفّانہ تھی۔ اس کے بیٹے حضرت عدیؓ نے اسلام کا زمانہ پایا اور وہ مسلمان ہوئے۔ ایک روز انہوں نے آنحضورﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ! میرا باپ صلہ رحمی کیا کرتا تھا اور فلاں فلاں کام کیا کرتا تھا۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ تیرے باپ نے ایک بات چاہی اور اسے حاصل کرلیا۔ (یعنی شہرت)۔
ایک بار حاتم طائی کی بیٹی جب گرفتار کرکے آنحضورﷺ کی خدمت میں لائی گئی تو اُس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنے بات کی سخاوت اور مصیبت زدگان کی مدد کا ذکرکرکے رہائی کی درخواست کی۔ آنحضورﷺ نے حاتم طائی کے کاموں کے بارہ میں سُن کر فرمایا: ’’یہ تو مومن کی صفات ہیں، اگر تمہارا باپ عہد اسلامی میں ہوتا تو ہم اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے‘‘۔ اور پھر اُس کی رہائی کا حکم دیا۔
حاتم کا قول و فعل ایک تھا۔ وہ ہمیشہ ظفریاب رہا۔ جب لڑا تو غالب آیا، مسابقت کی تو آگے نکل گیا، کسی کو گرفتار کیا تو رہا کردیا۔ اس کی قیامگاہ معروف ہوتی۔ اُس نے قسم کھائی تھی کہ کسی ماں کے اکلوتے بیٹے کو قتل نہ کرے گا۔
حاتم کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ جب اُسے کسی قیدی نے مدد کے لئے پکارا تو اُس نے قیدی کی رہائی کے بدلہ اُس وقت تک خود قید ہونا منظور کرلیا جب تک وہ اپنا فدیہ نہ چکادے۔
حاتم کی بیوی ماویہ کا بیان ہے کہ ایک بار اتنا سخت قحط پڑا کہ 74؍اونٹ ہلاک ہوگئے۔ ایک رات سخت بھوک کی حالت میں ہم نے بچوں کو بہلا پھسلا کر سلا دیا۔ پھر حاتم باتیں کرکرکے میرا جی بہلانے لگا تاکہ مَیں بھی سو جاؤں۔ مَیں نے بات کرنی بند کردی تاکہ وہ سمجھے کہ مَیں سو گئی ہوں تو وہ بھی سو جائے۔ چنانچہ وہ چُپ ہوگیا۔ اتنے میں ایک عورت آئی جو کہہ رہی تھی کہ ’’اے ابو سفّانہ! مَیں تمہارے پاس بھوکے بچوں کے پاس سے آئی ہوں‘‘۔ حاتم نے کہا ، اپنے بچوں کو لے آ، اللہ کی قسم! مَیں ضرور اُن کے پیٹ بھروں گا۔ اس پر مَیں جلدی سے اٹھی اور بولی ’’حاتم! تُو کس چیز کے ساتھ ان کا پیٹ بھرے گا؟ تمہارے اپنے بچے تو صرف دلاسے کے سہارے سو گئے ہیں‘‘۔ حاتم نے اٹھ کر اپنے گھوڑے کو ذبح کیا، آگ جلائی اور عورت کو کہا کہ بھونتی جاؤ اور کھاتی جاؤ۔ پھر مجھے کہا کہ تم بھی اپنے بچوں کو جگادو۔ پھر کہنے لگا کہ یہ تو کمینہ پن ہے کہ تم تو گوشت کھاؤ اور ڈیرے والے، جن کا حال تم جیسا ہے، نہ کھائیں۔ چنانچہ وہ ایک ایک گھر میں گیا اور انہیں اکٹھا کرکے لے آیا۔ اور پھر خود ایک کمبل لپیٹ کر ایک طرف بیٹھا رہا یہاںتک کہ گوشت بالکل ختم ہوگیا۔
حاتم کے کلام کا صرف ایک حصہ اُس کے دیوان میں شامل ہے اور اس کے اشعار کو بلاغت میں بلند مقام حاصل ہے۔ ایک جگہ وہ اپنی بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’جب تُو کھانا تیار کرے تو اس کے لئے کھانے والا ساتھی بھی تلاش کر کیونکہ مَیں اکیلے نہیں کھا سکتا‘‘۔ پھر کہا: ’’جب تُو ہنڈیا پکائے تو اسے چھپا کر نہ رکھ۔ اگر تُو ایسا کرے گی تو جو کچھ پکایا ہوگا، وہ مجھ پر حرام ہوگا‘‘۔
اُس کا کہنا ہے:-
٭ جب تک کوئی مہمان میرے ہاں مقیم رہے، مَیں اس کا غلام بنا رہتا ہوں، اس ایک خصلت کے سوا مجھ میں غلاموں کی سی کوئی خصلت نہیں پائی جاتی۔
٭ انسان کے (اعلیٰ) اخلاق کا ذکر برابر ہوتا رہتا ہے حالانکہ اس کی ہڈیاں قبر میں غائب اور بوسیدہ ہوچکی ہوتی ہیں۔
٭ مجھے اس بات کے خیال سے بھی حیا آتی ہے کہ کہیں میرا ساتھی کھانے کی جانب سے میرے ہاتھ کی جگہ کو خالی نہ دیکھ لے۔
٭ تُو اپنے شکم اور جنس کو اُن کی خواہش پر چھوڑ دے گا تو یہ دونوں انتہائی مذمّت حاصل کریں گے۔
٭ مَیں بھوک کی وجہ سے پتلی کمر اور پتلے پیٹ والا بن کر رات گزار دیتا ہوں اور مذمّت کے ڈر سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتا۔
٭ ہم نے محتاجی میں بھی کچھ عرصہ زندگی گزاری ہے اور مالداری میں بھی، مگر ہم نے مالداری کی وجہ سے گھمنڈ کا اظہار نہیں کیا اور نہ محتاجی نے ہمارے حسب و نسب کو عیب لگایا۔
حاتم طائی کے بارہ میں یہ مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍جون 1999ء میں شائع ہوا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/el51P]

اپنا تبصرہ بھیجیں