حضرت ابوایوب انصاریؓ

آنحضرتﷺ جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو مدینہ کے مسلمان اس بات کے لئے تڑپ رہے تھے کہ کاش انہیں آقائے دو جہاں کی میزبانی کا شرف حاصل ہو۔ اس وقت آنحضورﷺ نے بعض صحابہؓ سے جو اونٹنی کو روکنا چاہتے تھے ، فرمایا کہ میری اونٹنی کو نہ پکڑو، جہاں اللہ تعالیٰ کا اذن ہوگا وہاں یہ بیٹھ جائے گی اور وہی میرے قیام کی جگہ ہوگی۔ آخر یہ خوش قسمتی حضرت ابوایوب انصاریؓ کے حصہ میں آگئی۔
حضرت ابوایوب انصاریؓ کا پورا نام خالد بن زید بن کلیب النجاری الخزرجی ہے۔ آپؓ عام الفیل میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور عقبہ ثانیہ کے درمیانی وقفہ میں 12؍ہجری میں اسلام قبول کیا ۔ آپؓ 73؍انصاری مردوں کے اُس قافلہ میں شامل تھے جسے حضرت مصعب بن عمیرؓ مدینہ سے مکہ لائے تھے۔ آپؓ کا مختصر ذکر روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍جون 2000ء میں مکرم لئیق احمد بلال صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت ابوایوب انصاریؓ نے آنحضورﷺ کی خدمت میں اپنے مکان کی اوپر والی منزل یہ عرض کرتے ہوئے پیش کی کہ مَیں اوپر والی منزل میں رہنا بے ادبی تصور کرتا ہوں۔ لیکن آنحضورؐ نے فرمایا کہ ہمیں نیچے رہنے میں آسانی ہے، تم اوپر رہو۔ آنحضورﷺ کے ہمراہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت علیؓ اور حضرت زید بن حارثؓ بھی تھے۔
آنحضورﷺ کے ارشاد پر حضرت ابوایوب انصاریؓ اوپر والی منزل میں رہنے لگے۔ ایک رات آپؓ کا پانی کا مٹکا ٹوٹ گیا تو آپؓ اور آپؓ کی بیوی نے ایک چادر سے جلدی جلدی پانی خشک کیا تاکہ پانی ٹپک کر حضورؐ کو تکلیف نہ پہنچائے۔ آپؓ کا معمول تھا کہ کھانا تیار کرکے پہلے آنحضورﷺ کی خدمت میں بھجواتے اور جو بچ جاتا وہ میاں بیوی کھالیتے۔ ایک روز جب کھانے میں پیاز ڈالی گئی تو آپؓ نے دیکھا کہ آنحضورﷺ نے اُسے نہیں کھایا۔ آپؓ نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر وجہ پوچھی تو آنحضورﷺ نے فرمایا کہ مجھے فرشتوں سے ہمکلام ہونا ہوتا ہے اس لئے مَیں پیاز کی بُو کی وجہ سے اسے نہیں کھاتا ، تم شوق سے کھاؤ۔
آپؓ نے تمام غزوات میں شرکت کی۔ آنحضورﷺ کی وفات کے بعد بھی آپؓ تمام عمر جہاد میں مصروف رہے اور ایشیا، افریقہ اور یورپ کی طرف آنے والے مجاہدوں میں شامل ہوئے۔ 35ھ میں جب حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تو آپؓ مدینہ میں تھے اور بعض اوقات مسجد نبوی میں امامت بھی کروایا کرتے تھے۔ حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں خوارج کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ جب حضرت علیؓ نے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا تو جو اصحاب مدینہ کے والی مقرر کئے گئے، اُن میں آپؓ بھی شامل تھے۔ حضرت علیؓ کی شہادت کے وقت آپؓ مدینہ میں موجود تھے۔
46ھ میں تقریباً 75 برس کی عمر میں آپؓ نے بوزنظیوں کے خلاف اسلامی لشکر کی طرف سے جہاد کیا۔ اسی سال ایک بحری لڑائی کیلئے مصر بھی تشریف لے گئے۔ 49ہجری میں حضرت امیر معاویہؓ کے اُس بحری بیڑہ میں بھی آپؓ شامل تھے جو قسطنطنیہ پر حملہ کی غرض سے بھیجا گیا۔ چار سال تک لڑائی میں شرکت کرنے کے بعد جب آپؓ بیمار ہوئے تو یزید بن معاویہ، جو سپہ سالار تھا، آپؓ کی عیادت کیلئے آیا۔ آپؓ نے اسے وصیت کی کہ جب مَیں مر جاؤں تو میرا جنازہ اٹھاکر اُسے دشمن کی سرزمین میں جہاں تک لے جاسکو، لے جاکر دفن کرنا۔
52ھ کی ایک رات آپؓ کی وفات ہوگئی۔ آپؓ کو قسطنطنیہ کی فصیل کے سامنے دفن کیا گیا۔ بوزنظی آپؓ کے مزار کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور قحط کے ایام میں یہاں آکر بارش کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ 757ھ میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو آپؓ کے مقبرہ پر ایک عمارت تعمیر کروائی۔ قبر پر چاندی چڑھا ہوا تابوت رکھا گیا۔ مزار کے ساتھ جامعہ مسجد اور مدرسہ بھی بنوایا۔ 1136ھ میں سلطان محمد ثانی نے آنحضورﷺ کے آثار متبرکہ جو اُسے سلطان کے محل سے ملے تھے ، اِس مقبرہ سے ملحقہ مسجد میں محفوظ کروائے۔
حضرت ابوایوب انصاری کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ مؤاخات مدینہ میں آپؓ کو حضرت مصعب بن عمیرؓ کا بھائی بنایا گیا۔ آپؓ حافظ قرآن تھے اور لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ آپؓ سے ڈیڑھ سو احادیث منسوب ہیں جن میں سے پانچ متفق علیہ ہیں۔ حبّ رسولؐ، حق گوئی، اتباع سنّت، جہاد، حسن ظن اور آثار نبوی کا ادب آپؓ کے اخلاق کے نمایاں پہلو ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Doiym]

اپنا تبصرہ بھیجیں