حضرت اسامہ بن زیدؓ

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ جون 2000ء میں صحابی رسولؐ حضرت اسامہ بن زیدؓ کے بارہ میں مکرم محمد اشرف کاہلوں صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ قبل ازیں بھی 13؍جون 1997ء کو ہفت روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ کے اسی کالم میں آپؓ کا ذکر کیا جاچکا ہے۔ ذیل میں بعض مزید امور پیش ہیں:-
آپؓ آنحضور ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت زیدؓ بن حارث کے فرزند تھے جنہوں نے تمام رحمی رشتوں کو اپنے آقا کی محبت کے بالمقابل قربان کردیا اور آنحضورﷺ نے آپؓ کو آزاد کرکے اپنا بیٹا بنالیا۔ حضرت اسامہؓ کی والدہ ایک جانثار صحابیہ حضرت امّ ایمنؓ تھیں۔ حضرت اسامہؓ نبوت کے ساتویں سال مکہ میں پیدا ہوئے۔
آپؓ کو بچپن ہی سے دینی مہمات میں شریک ہونے کا شوق تھا۔ غزوۂ احد کے وقت جب آنحضورﷺ نے بعض کم سن بچوں کو واپس مدینہ جانے کا ارشاد فرمایا تو اُن بچوں میں آپؓ بھی شامل تھے۔ فتح مکہ کے وقت آنحضورﷺ نے آپؓ کو اپنے پیچھے اونٹنی پر سوار کرلیا تھا۔ خانہ کعبہ کا دروازہ کھلنے کے بعد اس میں چار افراد داخل ہوئے ان میں حضرت اسامہؓ بھی شامل تھے۔ 7ھ میں ایک سریہ کی قیادت بھی آپؓ نے کی، اُس وقت آپؓ کی عمر چودہ یا پندرہ سال تھی۔ اسی سریہ میں ایک ایسے دشمن کو آپؓ نے قتل کردیا جس نے آپؓ کے قابو میں آنے کے بعد لآ اِلہ الاّ اللہ کہہ دیا تھا۔ اس واقعہ کا علم جب آنحضورﷺ کو ہوا تو آپؓ نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے اسامہ! تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا؟‘‘۔ آپؓ بیان کیا کرتے تھے کہ آنحضورﷺ کے بار بار اظہار سے مجھے اتنی ندامت ہوئی کہ مَیں دل میں کہنے لگا کہ کاش! آج کے دن سے پہلے مَیں اسلام نہ لایا ہوتا۔
آپؓ کی پہلی شادی زینبؓ بنت حنظلہ سے چودہ سال کی عمر میں آنحضورﷺ نے کروائی جن سے ابراہیم پیدا ہوئے۔ بعد میں اَور شادیاں بھی کیں۔
آپؓ کے والد حضرت زیدؓ اور بہت سے اکابر صحابہؓ جنگ موتہ میں رومی سرحد پر شہید ہوگئے۔ آنحضورﷺ نے اپنی وفات سے قبل رومیوں کے مقابلہ کے لئے جو لشکر تیار کیا تھا اس کا امیر 18 سالہ حضرت اسامہؓ کو مقرر فرمایا۔ اس لشکر میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ جیسے کبار صحابہؓ بھی شامل تھے۔ آنحضورﷺ نے خود آپؓ کو عَلم سے نوازا۔ لشکر کوچ کی تیاری میں تھا کہ آنحضورﷺ کا وصال ہوگیا۔ حضرت اسامہؓ کو آنحضورؐ کا جسد مبارک قبر میں اتارنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔
آنحضورﷺ آپؓ سے گہری محبت رکھتے تھے۔ ایک زانو پر اسامہؓ کو بٹھاتے اور دوسرے پر اپنے نواسے حضرت حسنؓ کو، اور دعا کرتے کہ اے اللہ! مَیں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اس لئے تُو بھی محبت فرما۔
آپؐ وفور محبت میں آپؓ سے مذاق بھی فرمایا کرتے تھے۔ ایک بار مسکراکر فرمایا کہ اگر یہ بیٹی ہوتی تو مَیں اس کو خوب زیور پہناتا اور بناؤ سنگھار کرتا۔
آنحضورﷺ آپؓ کو تحائف بھی دیا کرتے تھے۔ ایک بار ایک مشرک نے ایک بیش قیمت حلّہ آنحضورﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ مَیں مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا، البتہ قیمتاً لے لوں گا۔ چنانچہ پچاس دینار میں خرید لیا۔ اُسے ایک مرتبہ پہنا اور پھر اسامہؓ کو دیدیا۔ اسی طرح ایک دفعہ دِحیہ کلبیؓ نے کتان کا کپڑا حضورؐ کی خدمت میں ہدیۃً پیش کیا جو آپؐ نے اسامہؓ کو دیدیا۔
حضرت اسامہؓ بہت شدت سے پابندی سنّت کا خیال رکھنے والے وجود تھے۔ بہت سے کبار صحابہؓ بھی حضرت اسامہؓ سے دینی مسائل کے بارہ میں پوچھا کرتے تھے۔ آپؓ نے 128؍ روایات بیان کی ہیں۔ آپؓ کی وفات 54ھ میں ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/BwVrh]

اپنا تبصرہ بھیجیں