حضرت اماں جانؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍جولائی 2002ء میں حضرت اماں جانؓ کی سیرۃ پر روشنی ڈالتے ہوئے محترمہ صاحبزادی امۃالرشید صاحبہ (بیگم محترم میاں عبدالرحیم احمد صاحب) لکھتی ہیں کہ حضرت اماں جان ؓ کا طریق یہ تھا کہ صبح سویرے بیدار ہوکر تہجد ادا کرتیں۔ فجر کی نماز آپؓ کے صحن میں حضرت مصلح موعودؓ کے گھر کی سب بیٹیاں اور بیویاں مسجد مبارک کے نمازیوں کے ساتھ ادا کرتیں۔ پھر آپؓ کسی اچھی آواز والی لڑکی سے قرآن پاک سنتیں۔ وہیں ناشتہ آجاتا جو بسکٹ اور چائے ہوتی۔ پھر سیر کیلئے کسی کے ساتھ نکلتیں۔ دو چار گھروں میںجاکر حال احوال دریافت فرماتیں اور سلیقہ سے زندگی بسر کرنے کے اصول بتاتیں۔ کئی گھروں میں ساتھ جانے والے خواتین کو ملاکر آپؓ نے صفائی ستھرائی کا کام بھی کیا، ہانڈی روٹی بنانی بھی سکھائی اور بچوں کی تربیت کے اصول سکھائے۔ بالکل بے تکلّفی کی زندگی تھی، کسی کے گھر جاکر کوئی اہتمام نہ کرنے دیتیں۔
آپؓ کسی پر بوجھ نہ بنتیں۔ ایک خادمہ ہوتی۔ راشن آجاتا اور خادمہ سے پکوالیتیں۔ اپنے سب کام خود کرتیں۔ طبیعت نہایت سادہ لیکن بہت نفاست پسند تھی۔ بچوںکے لئے سوہن حلوہ اور کھچڑی (ملاجلا خشک میوہ) بناکر بیت الدعا میں رکھا ہوتا۔ بچے بہانہ کرکے بیت الدعا جاتے اور اماں جانؓ سمجھتیں کہ بچے وہاں دعائیں کرنے جاتے ہیں۔ بعد میں پتہ چلتا کہ حلوہ اور کھچڑی ختم ہوگئی ہے۔ ویسے ہمیں دعائیں کرنے کا شوق بھی تھا۔ ایک دن جب مجھے بیت الدعا میں جگہ نہ ملی تو آپؓ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ بیت الدعا تو بہت بعد میں بنی ہے۔ بیت الفکر تو اس سے بھی پہلے کی ہے اور اس میں بھی حضرت مسیح موعودؑ نے بہت دعائیں کی ہیں اور بہت سے الہامات یہاں ہوئے ہیں، تم یہاں چلی جایا کرو۔
آپؓ رمضان میں خیال رکھتیں کہ کون کونسی پوتیاں روزے رکھتی ہیں۔ پھر اُن کا خاص خیال رکھتیں۔ کچھ نہ کچھ پکاکر رکھتیں۔ باجماعت نماز ادا کرنے پر بھی خوشی کا اظہار فرماتیں۔
جب آپؓ سندھ آتیں تو وہاں بھی میرا بڑا خیال رکھتیں۔ میرے سسر ہمارے ساتھ رہتے تھے۔ بار بار پوچھتیں کہ اُن کو ناشتہ بھجوادیا ہے، کیا بھیجا ہے۔ اگر آپؓ کو پہلے ناشتہ دیتی تو کہتیں: لڑکی! تیرا پہلا فرض تیرے سسر ہیں، تُو اُن کی بہو ہی نہیں بیٹی بھی ہے، پہلے اُن کو ناشتہ بھیج۔
میرے شوہر کی والدہ اُس وقت فوت ہوگئی تھیں جب وہ چار ماہ کے تھے۔ جب حضرت اماں جانؓ کو اس کا علم ہوا تو آپؓ نے کہا کہ آج سے مَیں تمہاری ماں ہوں۔ اور واقعی ماں بن کر دکھایا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/aBgvL]

اپنا تبصرہ بھیجیں