حضرت امّاں جانؓ کی محبت وشفقت

لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘برائے2013ء نمبر1 میں مکرمہ لبنیٰ مبشر صاحبہ اور مکرمہ شازیہ مبشر صاحبہ نے اپنے مضمون میں بیان کیا ہے کہ ہماری نانی جان مکرمہ شریفہ بیگم صاحبہ حضرت امّاں جانؓ سے وابستہ چند یادیں ہمیں بتاتی ہیں کہ کس طرح آپؓ نے اُن کی والدہ حضرت طالعہ بیگم صاحبہؓ کی پرورش فرمائی اور بعد میں یہ محبت و پیار کا سلوک نانی جان سے بھی روا رکھا۔
ہماری نانی جان کے نانا حضرت مولوی رحمت علی صاحبؓ حضرت مسیح موعودؑ کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے والے اپنے گاؤں پھیروچیچی کے پہلے فرد تھے۔ احمدیت قبول کرنے کے بعد انہوں نے قادیان میں بہشتی مقبرہ میں مالی کی ملازمت اختیار کرلی۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت امّاں جانؓ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد دونوں اکثر بہشتی مقبرہ کی طرف جہاں حضورؑ کا آموں کا باغ تھا، چہل قدمی کے لیے تشریف لایا کرتے تھے۔پُل گزرتے ہی اوّل ہمارے غریب خانہ کے پاس آ کر آواز دیتے : ’’ہمارے مالی صاحب گھر میں ہیں؟‘‘ ہم دونوں میاں بیوی پہلے سے ہی یہ پیاری آواز سُننے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے تھے۔
قریباً1907ء میں ایک دن حضرت امّاں جانؓ تشریف لائیں اور حضرت مولوی رحمت علی صاحبؓ کی بیوی حضرت کریم بی بی صاحبہؓ سے فرمایا کہ تمہاری دو بیٹیاں ہیں، ان میں سے طالعہ بیگم مجھے دے دو، مَیں اس کی اپنی بیٹی کی طرح پرورش کروں گی۔ اس کے ساتھ ا مۃالحفیظ کا بھی دل لگا رہے گا۔ چنانچہ اُسی وقت بچی آپؓ کے ہمراہ دارالمسیح چلی گئی۔ آپؓ نے اُس بچی کو ایسا پیار دیا کہ وہ اپنا گھر بھی بھول گئی۔ جب گئی تھی تو تقریباً سات برس کی تھی اور پھر تیرہ برس تک وہ آپؓ کی خدمت میں رہی۔ جب ہماری منشاء سے ہمارے خاندان میں اس کا رشتہ طے کردیا تو وہ خلافتِ ثانیہ کا دَور تھا۔ برات پھیروچیچی سے قادیان پہنچی تھی اور دارالمسیح قادیان سے ہی اُس کا رُخصتانہ ہوا تھا۔ حضرت امّاں جانؓ نے جہیز میں اُس زمانہ کے لحاظ سے سب کچھ عنایت فرمایاحتیٰ کہ سوت کاتنے والا ایک بہت ہی خوبصورت رنگین چرخہ بھی آپؓ نے تیار کروا کر جہیز میں دیا تاکہ دیہات میں بیٹی کو کسی سے مانگنا نہ پڑے۔ وہ رنگین چرخہ طالعہ بیگم صاحبہؓ کی وفات کے بعد بھی گاؤں میں گھر بہ گھر چلایا جاتا رہا۔
مکرمہ طالعہ بیگم صاحبہؓ شادی کے کچھ عرصے بعد وفات پاگئیں تو اُن کی بیٹی شریفہ بیگم صاحبہ (ہماری نانی جان) کی عمر دو سال کی تھی۔ حضرت امّاں جانؓ نے اس بچی کے ساتھ بھی اسی طرح پیار و محبت کا تعلق قائم رکھا اور جب وہ ذرا بڑی ہوئیں تو اپنے پاس قادیان لے گئیں۔ ایک دن ملاقات کے لیے آنے والی کسی خاتون نے حضرت امّاں جانؓ سے پوچھا کہ یہ کس کی بچی ہے؟ آپؓ نے فرمایا کہ میری نواسی ہے۔ بعد میں حضرت امّاں جانؓ کسی کام سے کمرہ میں تشریف لے گئیں تو اُس خاتون نے نانی جان سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ تم کس کی لڑکی ہو؟ باہر تشریف لاتے ہوئے آپؓ نے اُن کی بات سُن لی اور فرمایاکہ مَیں نے بتایا نہیں کہ یہ میری نواسی ہے۔
قادیان میں چند روز گزارنے کے بعد میری نانی جان اپنے ابو کو یاد کرتے ہوئے اپنے گھر واپس آگئیں مگر بعد میں حضرت امّاں جانؓ کے پیارکو یاد کرتی رہیں اور کہتیں کہ کاش مجھے سمجھ ہوتی تو مَیں حضرت امّاں جانؓ کی قربت میں اپنی زندگی گزارتی۔
بعد میں ہمارا خاندان ناصرآباد سندھ میں حضرت مصلح موعودؓ کی زمینوں پر آباد ہو گیا۔ قیامِ پاکستان سے قبل ایک دفعہ حضرت مصلح موعودؓ سندھ کے دورے پرتشریف لائے تو حضرت امّاں جانؓ بھی ساتھ تھیں۔جب ہماری نانی جان شریفہ بیگم صاحبہ آپؓ سے ملاقات کے لیے گئیں تو آپؓ بہت محبت سے ملیں۔جب پتہ چلا کہ ان کی شادی ہونے والی ہے تو آپؓ نے حضورؓسے فرمایا کہ یہ ہماری نواسی ہے اس کی شادی پر ضرور کچھ دینا ہے۔پھر آپؓ نے چھ سو روپے دے کر فرمایا کہ اس سے اپنا زیور بنوالو۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں