حضرت امّاں جانؓ کی مہربانیاں

لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘برائے2013ء نمبر1 میں مکرمہ مبارکہ اشرف صاحبہ نے حضرت امّاں جانؓ کی شفقت کے حوالے سے اپنے مشاہدات قلمبند کیے ہیں۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میرے اباجان مولوی محمدابراہیم بقا پوری صاحبؓ جماعت کے فعال رکن تھے۔جماعتی کام کے سلسلہ میں اکثرگھر سے باہر رہتے تھے۔ ایسے میں حضرت امّاں جانؓ ہمارا بہت خیال رکھا کرتی تھیں۔میری عمر اس وقت پندرہ برس تھی۔ حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کی کوٹھی ہمارے گھر کے قریب تھی۔ حضرت امّاں جانؓ کا معمول تھا کہ آپؓ روزانہ سیر پر جاتے ہوئے ہمارے گھر پر ضرور رکتیں۔ آپؓ کو د یکھنے کے شوق میں مَیں پہلے ہی دروازے پہ آکھڑی ہوتی۔آپؓ کالے برقعہ میں ملبوس ہوتیں۔
میری ایک بڑی بہن کا نام بھی مبارکہ تھا۔ ۱۵؍سال کی عمر میں علالت کے بعد ان کا انتقال ہوگیا تو والدہ صاحبہ بہت بیمار پڑگئیں یہاں تک کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔والد صاحب ان دنوں سندھ میں بطور مبلغ تعینات تھے۔ حضرت امّاں جانؓ اکثروالدہ صاحبہ کی عیادت کو آیا کرتی تھیں۔ پھر ایک دن والدہ صاحبہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ چھت پہ کھڑی ہیں اور حضرت امّاں جانؓ نیچے سے آواز دے کر کہتی ہیں کہ ’’میری جھولی میں چھلانگ لگاؤ۔‘‘ وہ جھجکتی ہیں کہ مَیں کیسے اتنی بڑی ہستی کی گود میں چھلانگ لگاؤں۔ حضرت امّاں جانؓ نے ایسا جب تیسری مرتبہ کہا تو پھر آپ نے اُن کی بات مانی اور ایک پھول کی مانند اُن کی گود میں آگریں۔ صبح آپ نے جب حضرت امّاں جانؓ کو یہ خواب سنایا تو آپؓ مسکرا کرفرمانے لگیں کہ پہلی دفعہ ہی چھلانگ لگادیتی تو جلد صحت یاب ہوجاتی۔
میرے دو بڑے جڑواں بھائی محمد اسمٰعیل صاحب اور محمداسحٰق صاحب تھے۔ چھوٹے بھائی صحت کے لحاظ سے کافی کمزور تھے۔ایک دن حضرت امّاں جانؓ نے اُن کو دیکھا تو گود میں لے کر نہلایا اور روئی گرم کرکے ان کے سینے پہ رکھ کر لپیٹ دیا اور کپڑے پہنا دیے۔پھر آپؓ ہر دوسرے تیسرے دن آکر ایسا ہی کرتیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بھائی جان کو صحت ہو گئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں