حضرت امّاں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا

لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘برائے2013ء نمبر1 میں مکرمہ ریحانہ گل صاحبہ نے حضرت امّاں جانؓ کے حوالے سے اپنی یادیں قلمبند کی ہیں۔
حضرت امّاں جانؓ یہ دعا کیا کرتی تھیں کہ ’’اے خدا مجھے شوہر کا غم نہ دکھانامجھے ان سے پہلے اٹھا لینا۔‘‘ شوہر سے وارفتگی کا یہ انداز کوئی ملمع سازی نہیں تھا بلکہ یہ تو آپؓ کے دل کی آواز تھی کہ شاید یہ دل اتنا بڑا صدمہ سہ نہ پائے۔ لیکن یہی پیار کرنے والی بیوی جب اپنے شوہر کو نزع کی حالت میں دیکھتی ہے تو بڑے درد سے خدا سے التجا کرتی ہے: ’’اے میرے پیارے خدا! یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں لیکن تُو ہمیں نہ چھوڑنا۔‘‘گویا محبتِ الٰہی سب سے بڑھ کر تھی۔
قادیان میں میری نانی جان محترمہ غلام فاطمہ صاحبہ کو حضرت امّاں جانؓ کا ہمسایہ ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حضرت امّاں جانؓ کا گھر اونچا تھا اورمحترمہ نانی جان کا گھر نیچا تھا۔ حضرت امّاں جانؓ کے باورچی خانہ سے ہمارا گھر صاف نظر آتا تھا۔ کوئی بات کرنا ہوتی یا آواز دینا ہوتی تھی تو حضرت امّاں جانؓ اپنے باورچی خانہ میں آکر آواز دیتی تھیں۔
میری والدہ محترمہ امۃالباری صاحبہ قریباً 1940ء میں پیدا ہوئیں اور 20؍ستمبر2011ء کو ان کا انتقال ہوا۔ وہ بیان کیا کرتی تھیں کہ حضرت امّاں جانؓ کی طبیعت میں مزاح کا عنصر پایا جاتا تھا، بہت لطیف پیرائے میں بات کرتی تھیں،طبیعت میں تکلّف بالکل نہ تھا۔ بچوں کو پیار کرنے کا ان کا اپنا ہی ایک انداز تھا۔ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں۔ جب ہمارے گھر میں ساگ اور مکئی کی روٹی پکتی تھی تو مَیں حضرت امّاں جانؓ کے گھر دے کر آتی تھی۔ آپؓ ڈھیروں دعائیں دیتیں اور مجھ کو بھی دعائیں کرنے کی نصیحت کرتیں۔ ایک دعا جو آپؓ سب لڑکیوں کو سکھاتی تھیں: ’’اے اللہ میرا نیک جوڑا بنا۔‘‘یہ دعا مجھے اس وقت سکھلائی جب مجھے اس کا مطلب بھی نہیں آتا تھا۔ چونکہ آپؓ دہلی سے آئی تھیں اور وہاں کی زبان اردو تھی، لیکن قادیان آئیں تو پنجابی کے لفظ بولنے آپؓ کو اچھے لگتے تھے۔ جب بچپن میں میرے سامنے والے ایک یا دو دانت ٹوٹ گئے تو آپؓ مجھے پیار سے دندبوڑی کہا کرتی تھیں۔
حضرت امّاں جانؓ دہی جماتیں اور صبح صبح لسّی بناتی تھیں اور پھر اپنے باورچی خانہ میں کھڑے ہوکر آواز دیتیں کہ باری کو بھیجو آکر لسّی لے جائے۔ مَیں جاتی تو آپؓ لسّی کے اوپر مکھن کا پیڑا بھی ڈال کر دیتیں۔
حضرت امّاں جانؓ میرے ماموںمکرم بدرالدین عامل صاحب درویش قادیان سے بہت پیار کرتیں۔ ان کو بجلی کا کام آتا تھا۔ بجلی خراب ہوتی یابلب تبدیل کرانا ہوتاتو اُن کو بلوا لیتی تھیں۔ میری ممانی جان معراج سلطانہ صاحبہ بیان کیا کرتی تھیں کہ جب میری شادی ہوئی تو حضرت امّاں جانؓ، حضرت اُمّ طاہر صاحبہؓ، حضرت آپا عزیزہ صاحبہ اور حضرت چھوٹی آپا صاحبہ تشریف لائیں۔حضرت امّاں جانؓ نے مجھے پانچ یا دس روپے سلامی دی۔ ایک دو دن بعد آپؓ پھر ہمارے گھر آئیں تو اُس وقت مَیں جھاڑو دے رہی تھی۔ آپؓ نے میری ساس سے فرمایا: غلام فاطمہ! دلہن سے ابھی کام نہ کراؤ، کام کے لیے تو ساری عمر پڑی ہے۔
ممانی جان مزید بیان کرتی ہیں کہ حضرت امّاں جانؓ ہر صبح ایک عورت کے ساتھ بہشتی مقبرہ جاتی تھیں۔ وہاں مالی کی بیوی آپ کے لیے موتیے کا ہار پرو کر رکھتی تھی۔ آپؓ گلے میں وہ ہار پہن لیتیں اور گھر پہنچ کر دروازے سے ہی آواز دیتیں : بہو۔ مَیں بھاگی جاتی تو وہ ہار اپنے گلے سے اتارکر میرے گلے میں ڈال دیتیں۔مجھے نصیحت کیا کرتی تھیں کہ میاں کے سامنے خوبصورت بن کر رہا کرو، اچھا لگتا ہے۔ کبھی فرماتیں: میاں کو بہت پیار دینا اور اسے ہمیشہ خوش رکھنا۔ اپنے باورچی خانہ سے مجھے آواز دیتیں۔ آپؓ ہمیشہ بہو کہہ کر مخاطب ہوتیں،کبھی نام نہ لیتیں۔ مَیں فوراًلپک کر آتی تو فرماتیں ساڑھی پہن کر دکھانا۔ مَیں جب ساڑھی پہن کر آتی تو بہت خوشی کا اظہار کرتیں اورفرماتیں: ہمیشہ ایسے ہی تیار رہا کرو۔
حضرت امّاں جانؓ بہت خوش لباس تھیں۔ خوبصورت رنگوں کی لمبی قمیص، تنگ پاجامہ جس پر پٹی لگی ہوتی تھی، بڑا دوپٹہ اوڑھتی تھیں جس پر چنٹ بھی ڈلی ہوتی تھی۔ کئی دفعہ دوپٹے چنٹ ڈالنے کے لیے مجھے دے دیتی تھیں۔ ٹوپی والا برقعہ پہنتیں۔ سفید رنگ کا ترکی کوٹ جس کی دو جیبیں ہوتیں اوپر گول ٹوپی والی ابری ہوتی تھی۔ چھتری لے کر چلتی تھیں۔ اگر کوئی آدمی آجاتا تو چھتری کو نیچے کر کے پردہ کر لیتی تھیں۔ آپؓ کے گھر سے اکثر ہمارے ہاں تبرک آتا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں