حضرت اویسؒ قرنی

حضرت اویس ؒ کا وطن یمن تھا اور نسباً قبیلہ مراد سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؒ کو بارگاہِ رسالتؐ سے غائبانہ ’’خیرالتابعین‘‘ کا لقب عطا ہوا۔ آنحضرتﷺ کے ایک ارشاد سے آپ کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ’’خیرالتابعین، مراد قبیلہ کا ایک شخص ہے جس کا نام اویسؒ ہے۔ وہ تمہارے پاس یمن کی امداد میں آئے گا۔ اس کے جسم پر برص کے داغ ہیں لیکن مٹ چکے ہیں سوائے ایک درہم کے برابر نشان کے۔ اس کی والدہ زندہ ہے جن کی وہ خدمت کرتا ہے۔ پس جب تم اس سے ملو تو اس سے کہو کہ وہ تمہارے لئے استغفار کرے‘‘۔ چنانچہ بعد میں جب حضرت عمرؓ کی حضرت اویسؒ قرنی سے ملاقات ہوئی تو حضرت عمرؓ نے اس حدیث کے حوالے سے آپؒ سے استغفار کرنے کو کہا۔
حضرت عمرؓ سے ملاقات کرنے کے بعد حضرت اویسؒ قرنی کوفہ تشریف لے گئے اور وہاں نہایت تنگدستی میں گزر بسر کرتے رہے۔ آپ کے پاس تن کے کپڑوں کے سوا کچھ بھی نہ ہوتا۔ ہرم بن حیان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت اویسؒ کی زیارت کی خواہش کرکے کوفہ گیا اور تلاش کرتے کرتے دریائے فرات کے کنارے پہنچا۔ وہاں ایک تنہا شخص دیکھا جو وضو کر رہا تھا اور کپڑے دھو رہا تھا، میں نے ان کے متعلق سن رکھا تھا اس لئے پہچان گیا …آپ نے پوچھا ہرم بن حیان تم کیسے ہو؟… ہم نے پہلے کبھی ایک دوسرے کو نہ دیکھا تھا۔ میں نے پوچھا آپ کو میرا نام کس نے بتایا۔ فرمایا علیم خبیر خدا نے۔ … پھر ہرم بن حیان نے آپ سے رسول کریمﷺ کی کوئی حدیث سننے کی خواہش کی تو آپ نے فرمایا ’’میں نے رسول کریمﷺ کو نہ پایا نہ ان کی صحبت سے بہرہ ور ہوا۔ ہاں آپ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہے اور تم لوگوں کی طرح مجھے بھی آنحضرت ﷺ کی احادیث پہنچی ہیں لیکن میں کوئی محدث، مفتی یا قاضی نہیں بننا چاہتا‘‘۔ اس پر ہرم نے کچھ قرآن سننے کی خواہش ظاہر کی اور وصیت کرنے کی درخواست کی۔ تب حضرت اویسؒ نے قرآن کا کچھ حصہ سنایا اور روتے رہے اور پھر وصیت کی کہ اپنی موت کو ہمیشہ یاد رکھنا… پھر آپ نے ہرم کو دعا دی اور سلام کہہ کر رخصت فرمادیا۔
حضرت اویسؓ کی مختصر سیرت و سوانح مکرم مرزا خلیل احمد صاحب کے قلم سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ جون 1997ء کی زینت ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ حضرت اویسؒ قرنی کے بارے میں فرماتے ہیں ’’اویس قرنی کو بھی الہام ہوتا تھا۔ اس نے ایسی مسکینی اختیار کی کہ آفتاب نبوت اور امامت کے سامنے آنا بھی سوئے ادب خیال کیا۔ سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ بارہا یمن کی طرف منہ کرکے فرمایا کرتے تھے کہ اجد ریح الرحمٰن من قبل الیمن یعنی مجھے یمن کی طرف سے خدائے رحمان کی خوشبو آتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اویس میں خدا کا نور اترا تھا۔‘‘

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں