حضرت اُمّ سُلیم رضی اللہ عنہا

لجنہ اماء اللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (سیرت صحابیات نمبر 2011ء) میں حضرت اُمّ سلیمؓ کے اوصاف کا تذکرہ مکرمہ عائشہ منصور چودھری صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت اُمّ سلیمؓ کا نام غمیصاء، رملہ اور سہلہ بیان ہوا ہے ۔ آپؓ کا تعلق انصار کے مشہور قبیلے خزرج کی شاخ بنوعدی بن نجار سے تھا اور آپؓ ملحان بن خالد اور ملیکا بنت مالک کی بیٹی تھیں ۔ آپؓ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ بھی تھیں ۔ مدینہ میں اسلام کا پیغام پہنچا تو آپؓ نے بلاجھجک قبول کرلیا۔ آپؓ کے خاوند مالک بن نضر بھی خزرج قبیلہ سے تھے مگر اسلام کے مخالف تھے۔ جب وہ اپنے خاندان کو اسلام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکے تو دل برداشتہ ہوکر مدینہ سے شام چلے گئے جہاں بعد میں کسی نے اُنہیں قتل کرڈالا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مکّہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو حضرت اُمّ سلیمؓ اپنے دس سالہ بیٹے انسؓ کی انگلی پکڑ کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بچے کو اپنے خادموں میں شامل کرلینے کی درخواست کی۔ آپؐ نے یہ درخواست قبول فرمائی اور بچے کے سر پر دست شفقت پھیر کر دعائے خیر کی۔آپؓ انس بن مالک سے اپنے بچوں کی طرح محبت کرتے تھے اور انہیں یَابُنَیَّ (اے میرے بیٹے) کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی تھے۔
حضرت اُمّ سلیمؓ بیوہ ہوگئیں تو کچھ عرصے بعد ان کے قبیلہ کے ہی زید بن سہل نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ وہ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے مگر بُت پرست تھے۔ چنانچہ آپؓ نے اُنہیں بلاکر کہا کہ مَیں تو ایک اللہ کو ماننے والی اور رسول اللہؐ کی پیروکار ہوں جبکہ تم بُت کو پوجتے ہو جسے تم نے خود ہی بنایا ہے تو مَیں کس طرح تمہیں اپنے خاوند کے طور پر قبول کرسکتی ہوں ۔ آپؓ کی استقامت دیکھ کر زید نے بھی اسلام قبول کرلیا اور اس کے بعد حضرت اُمّ سلیمؓ نے اُن کا پیغام قبول کرتے ہوئے اُن کے اسلام لانے کو ہی اپنا حق مہر قرار دیا۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج تک کوئی عورت اُمّ سلیم سے بہتر حق مہر مقرر نہیں کرسکی۔ بعد میں یہی زید بن سہل، حضرت ابوطلحہؓ کے نام سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی صحابی ثابت ہوئے۔
حضرت اُمّ سلیم اور حضرت ابوطلحہؓ کے گھر پر ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کا بھائی چارہ قائم کرایا۔ جنگ اُحد اور جنگ حنین میں بھی دونوں میاں بیوی آنحضورؐ کے ہمراہ رہے۔ یہ تاریخی واقعہ بھی اسی جوڑے کا ہے جب سخت تنگی کے زمانہ میں ایک مفلوک الحال نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور کچھ کھانے کے لئے سوال دراز کیا۔ آپؐ کے پچھوانے پر سب بیویوں کی طرف سے یہی جواب آیا کہ پانی کے سوا گھر میں کچھ نہیں ۔ اس پر آپؐ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ کوئی ہے جو آج رات اس شخص کی مہمان نوازی کرے اور خداتعالیٰ کی رحمت سے حصّہ پائے۔ ایثار پیشہ حضرت ابوطلحہؓ نے اپنی خدمات پیش کیں اور اُس شخص کو گھر لے آئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہا کہ یہ خدا کا مہمان ہے اس کی خدمت میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھیں ۔ بیوی نے کہا کہ آج تو صرف بچوں کے لئے کچھ کھانا ہے اور کچھ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو بہلاپھسلاکر سُلادیتے ہیں ۔ ان کے خاوند نے ہدایت کی کہ جب مہمان کے آگے کھانا رکھنا تو چراغ بجھا دینا تاکہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور اس کا ساتھ دینے کے لئے ہم خالی مُنہ چلاتے رہیں گے۔ چنانچہ کھانا رکھ کر حضرت اُمّ سلیمؓ چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے اُٹھیں اور اُسے بجھادیا۔ پھر دونوں میاں بیوی مہمان کے ساتھ خالی منہ ہلاکر یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں ۔ ایثار اور قربانی کا یہ نمونہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ اتنا خوش ہوا کہ بذریعہ وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ صبح آپؐ نے حضرت ابوطلحہؓ سے فرمایا کہ آج رات عرش کا خدا تم سے بہت خوش ہوا اور اس کے لئے سورۃالحشر کی آیت 10 اُتاری کہ ’اور خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے باوجود اس کے کہ انہیں خود تنگی درپیش تھی۔ پس جو کوئی بھی نفس کی خساست سے بچایا جائے تو یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں ‘۔
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انسؓ بن مالک کے گھر سوگئے تو حضرت اُمّ سلیمؓ ایک شیشی لے کر آنحضورؐ کا پسینہ اُس میں جمع کرنے لگیں ۔ آنحضورؐ نے وجہ پوچھی تو عرض کیا کہ ہم یہ پسینہ اپنی خوشبو میں ملادیں گے تو وہ بہترین خوشبو بن جائے گی۔
حضرت اُمّ سُلیمؓ کے ایک چھوٹے بیٹے اُس وقت وفات پاگئے جب حضرت ابوطلحہؓ گھر پر موجود نہ تھے۔ آپؓ نے خود ہی بیٹے کے غسل و کفن کا انتظام کیا اور خاندان کے باقی افراد کو منع کردیا کہ وہ اس بارہ میں ابوطلحہؓ سے کوئی ذکر نہ کریں ۔ جب رات کو حضرت ابوطلحہؓ گھر آئے تو آپؓ نے اُنہیں کھانا پیش کیا۔ جب وہ سونے کے لئے لیٹے تو آپؓ نے اُن سے پوچھا کہ ’اگر آپ کو کوئی چیز امانت کے طور پر دی جائے اور پھر اُسے واپس لے لیا جائے تو کیا آپ کو بُرا لگے گا؟‘ انہوں نے جواب دیا: نہیں ۔ اس پر آپؓ نے کہا کہ آپ کا بیٹا ابوعمیر بھی اللہ کی ایک امانت تھا اور اللہ نے اُسے واپس لے لیا ہے، آپ صبر کیجئے۔ حضرت ابوطلحہؓ نے اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور پوچھا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا؟ آپؓ کہنے لگیں کہ مَیں نے فوراً اس لئے آپ کو نہیں بتایا تاکہ آپ آرام سے اپنا کھانا کھالیں ۔ اگلے دن حضرت ابوطلحہؓ نے یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آنحضورؐ نے ان کے اور اُن کی بیوی کے اللہ کی رضا پر راضی ہونے کی تعریف کی اور اس کے نعم البدل کی دعا کی۔ اس دعا کے نتیجہ میں ایک بیٹے عبداللہ پیدا ہوئے۔
حضرت اُمّ سُلیمؓ نہایت رحمدل اور عقلمند خاتون تھیں ۔ آپؓ سے بہت سی احادیث بھی منسوب ہیں ۔ لوگ فقہی معاملات میں بھی آپؓ سے مشورہ لیتے تھے۔ آپؓ کی وفات حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/6sVHa]

اپنا تبصرہ بھیجیں