حضرت بابو جمال الدین کلیم صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍جولائی 2008ء میں حضرت بابو جمال الدین کلیم صاحبؓ آف گوجرانوالہ کا ذکرخیر مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت بابو جمال الدین صاحب ولد مکرم محمد سلطان صاحب گوجرانوالہ شہر کے رہنے والے تھے اور محکمہ ریلوے میں ملازم تھے۔ پہلے سٹیشن ماسٹر رہے بعد ازاں ریلوے انسپکٹر متعین ہوئے۔ آپ بحیثیت سٹیشن ماسٹر ڈومیلی ضلع جہلم میں متعین تھے جہاں آپ کو احمدیت کا پیغام پہنچا۔ آپؓ کے بیٹے حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں: ’’میرے والد صاحب نے 1898ء کے قریب حضرت اقدس کی بیعت کی تھی وہ ڈومیلی میں سٹیشن ماسٹر تھے کہ وہاں ایک شخص نے حضرت اقدس کا ذکر کیا انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ قادیان جاکر اس شخص کو ضرور دیکھنا ہے چنانچہ وہ رخصت لے کر گوجرانوالہ آئے اور یہاں سے قادیان گئے اور بغیر کسی دلیل کے حضرت اقدس کا چہرہ دیکھ کر ہی وہ ایمان لے آئے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والد صاحب، منشی مولا بخش صاحب مرحوم اور میں ایک دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں واپسی کی اجازت لینے کے لیے گئے حضرت اقدس نے بہت سی باتیں کیں مگر مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ حضور نے فرمایا: ’’جلدی جلدی قادیان آیا کرو‘‘۔
حضرت مسیح موعودؑ نے ’’تریاق القلوب‘‘ میں لیکھرام کے نشان کے متعلق مصدقین میں 46ویں نمبر پر آپ کا نام اور خلاصہ عبارتِ تصدیق درج فرمایا ہے: ’’46۔ جمال الدین سٹیشن ماسٹر ڈومیلی۔ پیشگوئی پوری اور کامل طور سے پوری ہوگئی۔‘‘
حضرت بابو صاحبؓ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو سکول کی تعلیم کے لیے قادیان بھی بھجوایا۔ حضورؑ کی وفات کے بعد خلافت احمدیہ سے وابستہ رہے۔ خلافت ثانیہ کے انتخاب پر بیرونی جماعتوں کی اطلاع کے لیے اعلان کنندگان کا جو اشتہار شائع ہوا ہے اس میں آپ کا نام ’’بابو جمال الدین ٹریفک سپرنٹنڈنٹ لاہور‘‘ بھی شامل ہے ۔ اسی سال جب گوجرانوالہ میں انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو آپ انجمن کے امین مقرر ہوئے۔
آپ نے 14دسمبر 1924ء کوبعمر قریباً 55سال بٹالہ میں وفات پائی۔ آپ ابتدائی موصیان میں سے تھے۔ آپ کا وصیت نمبر 58تھا۔ جنازہ قادیان لایا گیا جو حضرت مصلح موعودؓ نے پڑھایا اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔
آپؓ کی اہلیہ حضرت جیواں بی بی صاحبہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود مہندی لگایا کرتے تھے۔ سر اور ریش مبارک پر ہاتھ بھگو کر آہستہ آہستہ مہندی اتار کر پھر پانی سے ہاتھ دھوتے تھے اور صاف کرنے کے لیے تولیہ منگواتے تھے اس سے صاف کرتے تھے اور کبھی وضو کے لیے پانی کا لوٹا طلب کرنے پر حاضر کیا کرتی تھی۔ شادی خان مرحوم کی والدہ ہوتی تھی جن کو عام دادی صاحبہ بولتے تھے اور مولوی عبدالکریم مرحوم کا نکاح شادی خان کی لڑکی سے حضرت مسیح موعودؑ نے پڑھا، میں گھر میں موجود تھی اور صوفی غلام محمد صاحب حضرت مسیح موعودؑ کو قرآن کریم آکر صحن میں کھڑے ہوکر سنایا کرتے تھے۔‘‘
حضرت جیواں بی بی صاحبہؓ کی وفات 28؍نومبر 1943ء کو ہوئی اور بوجہ موصیہ ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئیں۔
حضرت بابو صاحب کی اولاد میں ایک بیٹا حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحبؓ (وفات 25دسمبر 1983ء بعمر 93سال۔ربوہ) اور دو بیٹیاں تھیں۔
مکرم پروفیسر منور شمیم خالد صاحب نائب صدر انصاراللہ پاکستان حضرت بابو جمال الدین صاحبؓ کے متعلق بیان کرتے ہیں: ’’آپؓ ہماری والدہ ماجدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ (اہلیہ محترم محبوب عالم خالد صاحب صدر صدرانجمن احمدیہ پاکستان) کے دادا اور ہمارے پڑنانا تھے۔ کشمیری شیخ تھے اور علمی گھرانے سے تعلق تھا، ادبی و علمی ذوق و شوق کی وجہ سے کلیمؔ تخلص کے ساتھ ہلکی پُھلکی شعر و شاعری کا شغف بھی رکھتے تھے۔
حضرت مسیح موعودؑ کی اس بابرکت نصیحت کہ ’’قادیان جلدی جلدی آیا کرو‘‘ پر آخر دم تک عمل پیرا رہے۔ ریلوے انسپکٹر بننے کے بعد اپنا خصوصی سیلون گورداسپور/بٹالہ سٹیشن پر کھڑا کراکے وہاں سے قادیان جاکر روحانی مائدہ سمیٹتے اور پھر بقیہ دورہ مکمل کرتے۔ ایک بار جب آپؓ قادیان پہنچے تو مجلس عرفان میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ تعداد بڑھانے کیلئے تبلیغ پر بھی زور دیں اور دوسرا طریق یہ ہے کہ ایسے شادی شدہ احمدی جو وسائل رکھتے ہوں وہ دوسری شادی کریں۔ حضرت بابو صاحبؓ نے وہیں بیٹھے بیٹھے سوچا کہ حضور انور کی اس تجویز پر دوسری شادی کے لیے تو کئی احباب تیار ہوجائیں گے لیکن جب تک ماں باپ اپنی بیٹیاں اِس نیک مقصد کے لیے پیش نہ کریں گے اس تجویز پر عمل کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ چنانچہ آپؓ نے اپنی دونوں بیٹیوں کے نام حضورؓ کی خدمت میں اس مقصد کے لئے پیش کردیئے۔ چنانچہ بڑی بیٹی محترمہ محمودہ بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت مولوی محمدالدین صاحبؓ ایم۔اے سابق ناظر تعلیم سے ہوا جن کی زوجہ اوّل اور اُن سے اولاد بھی موجود تھی اور دوسری بیٹی محترمہ اقبال بیگم صاحبہ کی شادی حضرت سردار محمد یوسف صاحبؓ (ایڈیٹر رسالہ ’’نور‘‘) کے ساتھ ہوئی جن کی پہلی بیوی تین چار چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر وفات پاچکی تھیں۔ آپؓ خود سکھ مذہب سے 1906ء میں احمدی ہوئے تھے اور قرآن کریم کا گورمکھی زبان میں ترجمہ کرنے کی بفضل اللہ تعالیٰ توفیق پانے کے علاوہ آپؓ نے اپنے اخبار ’’نور‘‘ کو سکھوں میں تبلیغ کے لئے خوب استعمال کیا۔ دوسری اہلیہ سے آپؓ کے ہاں چار بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئے۔ بڑے بیٹے ہارون ڈاکٹر بنے لیکن سکھوں کے ایک سالانہ تہوار میں سرکاری ڈیوٹی دیتے ہوئے شہید کردیے گئے اور میت بھی غائب کردی گئی جبکہ اُن کی اہلیہ کو زخمی کرکے نہر میں پھینک دیا گیا۔ سب سے چھوٹے بیٹے یحییٰ نور صاحب نے ہاکی کے کھلاڑی کے طور پر تقسیم ہند سے قبل قومی سطح پر اپنا لوہا منوایا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/gI250]

اپنا تبصرہ بھیجیں