حضرت حاجی عبدالکریم صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24فروری 2012ء میں حضرت حاجی عبدالکریم صاحب مرحوم آف کراچی کے خودنوشت حالاتِ زندگی شامل اشاعت ہیں۔
حضرت حاجی عبدالکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ 1914ء میں یہ عاجز سرگودھا میں تعلیم حاصل کررہا تھا اور بورڈنگ ہائوس میں رہتا تھا اور قریبی جامع مسجد کے امام صاحب کو نماز فجر سے پہلے قرآن شریف ناظرہ سنایا کرتا تھا۔ ہمارے ہیڈماسٹر اور بورڈنگ ہاؤس کے سپرنٹنڈنٹ حافظ عبدالکریم صاحب بھی اگرچہ نمازیں اسی مسجد میں پڑھا کرتے تھے مگر جمعہ کی نماز وہ کسی اَور جگہ پڑھا کرتے تھے۔ ایک روز مَیں بھی اُن کے پیچھے پیچھے چلاگیا اور کسی دوسری مسجد میں نماز جمعہ ادا کی۔ واپس آتے ہوئے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے اس مسجد میں نماز جمعہ کیوں پڑھی ؟ مَیں نے کہا کہ مَیں آپ کے ساتھ ساتھ چلا آیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ احمدیہ مسجد ہے۔ ان لوگوں کو قادیانی اور مرزائی کہتے ہیں۔ مَیں نہ قادیانی ہوں اور نہ مرزائی مگر یہاں اس لئے جمعہ کی نماز پڑھنے آتا ہوں کہ خطبہ میں امام قرآن شریف کی اچھی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ تم اگر چاہو تو یہیں نماز جمعہ ادا کیا کرو مگر دیکھو قادیانی یا مرزائی نہ ہونا۔
میرے دل میں خیال آیا کہ یہ عجیب بات ہے کہ یہ حافظ قرآن اور بی اے بی ٹی ہیں، ان کو مسجد احمدیہ میں نماز پڑھنے میں لذّت آتی ہے مگر نہ وہ خود احمدی ہیں اور مجھے بھی منع کرتے ہیں۔ دیر تک یہی سوچتا رہا۔
رات کو مَیں نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ تقریر فرمارہے ہیں کہ اسلام زندہ مذہب ہے، اس کا خدا زندہ ہے ، اس کا رسول زندہ ہے، اس کی کتاب زندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس زمانہ میں اس لئے بھیجا ہے کہ مَیں اسلام کی صداقت ثابت کروں۔ میرے پوچھنے پر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے بتایا کہ یہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہیں جنہوں نے اس زمانہ میں امام مہدی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
اگلے روز مَیں مسجد میں قرآن شریف سنانے گیا تو امام صاحب سے پوچھا کہ حضرت مرز ا غلام احمد صاحب قادیانی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ اِس پر مولوی صاحب نے غصّہ میں کہا کہ مرزا سخت کافر ہے۔ مَیں نے کہا کہ مجھے جو قرآن شریف آپ کو سنانا تھا وہ سنا چکا، مَیں دینی علم زیادہ نہیں رکھتا مگر مرا ضمیر اس جواب کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ کہہ کر مَیں مسجد احمدیہ چلا گیا۔
مسجد احمدیہ پہنچ کر خادم سے مَیںنے دریافت کیا کہ کوئی احمدی بزرگ قریب رہتے ہیں؟ انہوں نے ایک مکان کی طرف اشارہ کیا۔ مَیں نے جاکر دروازہ پر دستک دی تو ایک بزرگ سفید ریش نے دروازہ کھولا اور مجھے اندر بلالیا۔ وہ حلوہ پکا چکے تھے۔ انہوں نے بچوں کو اٹھایا اور کہا ’’ بچو اٹھو ، حلوہ تیار ہے ، وضو کرو اور حلوہ کھا کر نماز کے لئے تیار ہو کر مسجد چلو‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ مَیں ان کو صبح حلوہ دیتا ہوں تاکہ ان کو نماز کی عادت ہو جائے۔ مجھے بھی انہوں نے حلوہ دیا۔ مَیں نے ا ن سے کہا کہ’’ کیا حضرت مرزا صاحب کی تصویر آپ کے پاس ہے‘‘؟ انہوں نے ایک فوٹو مجھے دکھایا تو مَیں نے پہچان لیا کہ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے لیکچر دیا تھا۔
مَیں نے کہا کہ مَیں آپ کی جماعت میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔ انہوں نے دس شرائط بیعت مجھے پڑھوائیں۔ مَیں نے کہا مجھے منظور ہیں۔ انہوں نے ایک کارڈ مجھے دیا۔ اس پر مَیں نے بیعت کی درخواست حضرت خلیفۃالمسیح کی خدمت میں بھیج دی۔ انہوں نے مجھے درثمین دی کہ فی الحال تم اس کو پڑھا کرو۔
پھر مَیں فوج میں کلرک بھرتی ہوگیا اور مہوچھائونی بھیج دیا گیا۔ میرے مسلمان صوبیدار میجر بہت خوش ہوکر مجھے لینے سٹیشن پر آئے۔ راستہ میںاُن کو معلوم ہوا کہ میںاحمدی ہوں تو اُن کو بہت صدمہ ہوا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مجھے ملازمت سے فارغ کرا دیں گے۔ باورچی نے بھی مجھے کہا کہ تم کافر ہو اس لئے مَیں تمہارا کھانا تیار نہیں کرتا۔ چنانچہ مَیں نے ایک ملازم رکھا لیکن مخالفین کے ورغلانے پر وہ میرا سامان لے کر بھاگ گیا۔ اسی طرح جو ملازم رکھتا وہ بھاگ جاتا۔ چنانچہ چند روز تک چنے کھا کر گزارہ کیا پھر کبھی چنے کھالیتا اور کبھی بازار جاکر روٹی کھالیتا۔ اسی دوران مرکز سے کتب منگوائیں اور پہلے ’’براہین احمدیہ‘‘ کو پڑھنا شروع کیا۔ اس کے پڑھنے سے میرا ایمان بڑھتا گیا۔ صوبیدار میجر نے مجھے بلاکر کہا کہ آپ کو بہت تکلیف ہے، آپ یہ ملازمت چھوڑ دیں۔ مَیں کرنل صاحب کو کہہ دوں گا کہ ان کے فرقہ کا کوئی آدمی پلٹن میں نہیں ہے اس لئے ان کو فارغ کردیا جائے۔ مَیں نے جواب دیا: جہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے، مَیں وہیں کھڑا رہوں گا اور خود ملازمت نہیں چھوڑوں گا۔ اس پر اُس نے غصے سے کہا کہ ہم احمدیت کو مٹا کر چھوڑیں گے۔ مَیں نے پورے جوش سے جواب دیا کہ مَیں احمدیت کو قائم کر کے چھوڑوں گا۔
دوسرے روز مَیں نے دفتر میں درخواست دی کہ میرا نام عبدالکریم کی بجائے ’’اے۔کے احمدی تبدیل کر دیا جائے‘‘۔ چنانچہ اس کے متعلق آرڈر ہوگیا اور پھر صوبیدار میجر کو بھی مجھے مسٹر احمدی کہنا پڑتا تھا۔ لیکن اُس نے مجھے مزیدتنگ کرنا شروع کردیا۔ اس پر مَیں نے دعا کے لئے حضرت مفتی محمد صادق صاحب (جو میرے ہم وطن تھے)کو خط لکھا تو انہوں نے کرنل صاحب کو خط لکھ دیا کہ عبدالکریم کا خیال رکھیں اس کو مخالفین سلسلہ تنگ کر رہے ہیں اور ساتھ انگریزی لٹریچر بھی بھیجا۔
مَیں ہر روز نماز عشاء کے بعد ’’براہین احمدیہ‘‘ پڑھا کرتا تھا۔ ایک روز سوچنے لگا کہ غیراز جماعت کیوں اس نور کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ بھی گوارا نہیں کر سکتے کہ دوسرے اس تعلیم کو مانیں۔ مجھے اُونگھ آگئی اور مَیں نے دیکھا کہ ایک بزرگ میرے سامنے کھڑے ہیں۔انہوں نے مجھے ایک کتاب دی جو بجائے کاغذوں کے سبز رنگ کے پتوں کی بنی ہوئی تھی۔ مَیں نے اس کے چند ورق اُلٹے تو وہ خالی تھے۔ مَیں نے عرض کیا کہ حضور اس میں تو کچھ نہیں لکھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں آپ کے لئے سب کچھ ہے۔ اس لئے مَیں نے پھر شوق سے اس کی ورق گردانی کی تو مَیں نے دیکھا کہ ایک صفحہ پر جلی قلم سے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: ’’ دنیا تیرے پیچھے لگی ہوئی ہے مگر ہم تجھے بچا لیں گے‘‘۔
مَیں نے دیکھا کہ ان الفاظ سے نور کا کرنٹ نکلا ہے اور میرے جسم میں سرایت کر گیا ہے۔ مَیں نے اس بزرگ کا شکریہ ادا کیا۔ یہ بزرگ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ تھے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ جاگنے کے بعد وہ نور کی رَو میرے جسم میں محسوس ہوتی تھی۔
حضرت مفتی صاحب کا خط اور لٹریچر ملنے کے بعد کرنل صاحب نے مجھے بلا بھیجا اور کہا تم احمدی ہو۔ مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے لکھا ہے کہ تم کو مخالف تنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے مجھے لٹریچر بھیجا ہے جو بہت ہی عمدہ تھا۔ تم کیوں میرے پاس نہیں آئے۔ مَیں نے کہا کہ اس مخالفت میں مجھے نماز اور دعا میں بہت لذّت آتی تھی۔ مَیں نے یہ پسند نہ کیا کہ مَیں اس ذوق کو ضائع کر دوں۔
کرنل صاحب نے اپنے ایڈ جوائنٹ مسٹر کپتان مور کو بلا کر کہا کہ مسٹر احمدی اکیلے ہیں اس لئے آئندہ جو کلرک ملازم رکھو وہ اس کی جماعت کا ہو۔ پھر صوبیدار میجر کو بلا کر پوچھاکہ کیا احمدی کافر ہوتے ہیں ؟ اُس نے کہا ہاں۔ کرنل صاحب نے کہا کہ اچھا ہم ان کو دفتر میں رہنے کے لئے جگہ دیتے ہیں، ان کو حاضری وغیرہ کے لئے آپ نہ بلایا کریں۔
مَیں نے الفضل میں اشتہار دیا اور احمدی احباب کی درخواستیں آئیں جو مَیں نے کپتان مور صاحب کو دے دیں۔ اس کے نتیجہ میں مرزا محمد حسین صاحب چٹھی مسیح، مشتاق احمد صاحب اور محمد ابراہیم صاحب ملتانی مرحوم بھی میری پلٹن میں ملازم ہوگئے۔ ہم چاروں احمدی اکٹھے رہتے تھے۔ پھر مجھے کرنل صاحب نے دو ماہ کے لئے کورس پر لاہور بھیج دیا۔ اُس دفتر میں مکرم حکیم دین محمد صاحب سپرنٹنڈنٹ تھے۔ انہوں نے دو ماہ تک مجھے اپنے مکان میںرکھا۔ وہاں کھانے اور نماز کا بہت آرام رہا۔
کچھ روز بعد ہماری پلٹن مصر روانہ ہو گئی۔ مجھے سوینر میںحساب کتاب کے دفتر میں بھجوا یا گیا۔ اسی اثناء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کو لندن جانے کا ارشاد ہوا۔ انہوں نے مجھے لکھا کہ مَیں فلاں روز جہاز پر بمبئی سے روانہ ہوں گا، اگر ہوسکے تو سویز میں مجھے ملیں۔
چنانچہ مَیں نے حضرت مفتی صاحب کے لئے ایک سو روپیہ علیحدہ رکھ دیا۔ بیس روپے کا فروٹ لینا تھا اور اسّی روپے کا قلم۔ جس روز جہاز آنا تھا مَیں نے فروٹ خرید لیا۔ باقی دکانیں بند تھیں اس لئے قلم نہ خرید سکا۔ پھر مَیں تختۂ جہاز پر گیا۔ حضرت مفتی صاحب سبز پگڑی، سبز چغہ پہنے کھڑے تھے۔ مَیں نے فروٹ پیش کیا اور 80 روپے نقد۔ عرض کیا کہ دکانیں بند تھیں اس لئے قلم نہیں خرید سکا۔ آپ اس رقم سے قلم خرید کر لیں تاکہ دینی خط و کتابت میں اس عاجز کو بھی ثواب ملتا رہے۔یہ سُن کر انہوں نے فرمایا کہ ’’میری دعا قبول ہوگئی ہے ! الحمدللہ ‘‘
تفصیل یہ بیان فرمائی کہ سمندری سفر میں مجھے Sea Sicknessہو گئی ہے اس لئے مَیں نے جہاز کے کپتان سے دریافت کیا تھا کہ کیا اس سفر کو کم کیا جاسکتا ہے؟ تو اس نے کہا کہ ہاں آپ فرانس سے ریل پر چلے جائیں تو آپ کا کئی روز کا سفر بچ جائے گا۔لہٰذا ریل کے ٹکٹ کے لئے حضرت مفتی صاحب کو اسّی روپیہ کی ضرورت تھی۔ لیکن جہاز پر چونکہ چیک نہیں لیتے۔ اس لئے کپتان نے نقد روپیہ طلب کیا۔ حضرت مفتی صاحب فرمانے لگے: مَیں نے دعا کی تھی کہ خدایا ! مَیں تیرے دین کی تبلیغ کے لئے جارہا ہوں مجھے اسّی روپے عطا فرما۔ اور مجھے یقین ہوگیا کہ میری یہ دعا قبول ہو گئی ہے۔ اب آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ رقم دی ہے۔ جب ولایت سے واپسی پر حضرت مفتی صاحب اپنے لڑکے مفتی عبدالسلام صاحب کے رخصتانہ کے سلسلہ میں شاہجہانپور گئے تو وہاں کے مشن ہال میں ان کا ایک لیکچر ہوا۔ صدر پرنسپل تھا۔ موضوع تقریر تھا: My Experience in America یعنی امریکہ میں میرے تجربات۔ اس تقریر میں انہوں نے اس دعا کی قبولیت کا واقعہ بھی بیان فرمایا۔ نیز فرمایا کہ جس نوجوان نے مجھے اسّی روپے دئیے تھے وہ اس وقت سامعین میں موجود ہے۔ مَیں ان سے کہتا ہوں کہ وہ کھڑے ہوکر اس واقعہ کی تصدیق کریں۔ چنانچہ مَیں نے کھڑے ہو کر اس امر کی تصدیق کی۔
مَیں عرشۂ جہاز پر حضرت مفتی صاحب سے ملاقات کے بیان کی طرف واپس آتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ میری عمر زیادہ ہے۔ مَیں تبلیغ کے لئے جا رہا ہوں، زندہ واپس آئوں یا نہ۔ اس لئے مَیں نے اپنے لڑکے عبدالسلام مفتی کے نکاح کا اعلان حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں عرض کر کے اپنی روانگی سے پہلے کروا دیا ہے۔ لڑکی ایک رفیق بابو محمد علی خان صاحب شاہجہانپوری کی ہے۔ ان کی چار لڑکیاں ہیں۔ مگر عبدالسلام کی عمر کے لحاظ سے بڑی سے چھوٹی لڑکی اس کے لئے موزوں تھی۔اس سے اس کا نکاح ہوا ہے۔ مگر بڑی بہن کی شادی سے پہلے چھوٹی بہن کا رشتہ ہو جانا معیوب سمجھا جاتا ہے اور بابو صاحب موصوف نے میرے احترام کی وجہ سے مان تو لیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ کہا ہے کہ بڑی لڑکی کا رشتہ بھی آپ ہی کسی مناسب جگہ کردیں۔ مَیں نے وعدہ کر لیا تھا اور میرا ذہن تمہاری طرف گیا تھا۔ یہ سب لڑکیاں صوم و صلوٰۃ کی پابند ہیں۔ آپ اپنے والد صاحب کو لکھ دیں اگر وہ پسند کریں تو پھر مجھے اطلاع دیں۔ مَیں نکاح کروا دوں گا۔ ساتھ ہی انہوں نے فرمایا کہ آپ اپنا فوٹو بابو صاحب موصوف کو بھیج دیں اور لکھ دیں کہ مفتی صاحب کی تحریک پر فوٹو بھجوا رہا ہوں۔ نیز فرمایا کہ لندن پہنچ کر میںبابو صاحب کو لکھ دوں گا کہ اس لڑکے کو رشتے کی تحریک کی گئی ہے۔ چنانچہ مَیں نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور آخر 17؍اگست 1917ء کو سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓنے میرے نکاح کا اعلان قادیان میں فرمایا۔ مَیں جب 1919ء میں جنگ کے خاتمہ پر واپس ہندوستان آیا تو اپریل میں رخصتانہ کے لئے شاہجہانپور گیا۔ وہاں احباب جماعت کے سامنے مصر میں اپنی تبلیغ کے حالات بیان کئے۔ میرے قیام کا پروگرام دس روز تھا جس کے لئے ایک مکان لے لیا گیا تھا۔ رخصتانہ کے روز میری بیوی کو اس مکان میں پہنچا دیا گیا اور شاہجہانپور کے احمدی مجھے اس مکان میں چھوڑ آئے اور رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے دعا کی۔
نئی نئی شادی کے باوجود میری بیوی نے اپنا زیور چندہ میں دے دیا۔ 1924ء میں عاجز کراچی کسٹم میں Preventive آفیسر تھا تو اُن ایام میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی طرف سے چندہ خاص کی تحریک ہوئی۔ عاجز نے اپنی تین ماہ کی تنخواہ اس مد میں دینے کا وعدہ کیا۔ اس کے معاً بعد میری وہ ملازمت جاتی رہی اور مَیں بیکار ہو گیا۔ مَیں نے اپنی بیوی سے ذکر کیا کہ تین ماہ کی تنخواہ دینے کا وعدہ ہے اگر تم تعاون کرو تو ہم اپنے گھر کا سامان نیلام کردیں اور چندہ دے دیں۔ اس وقت رخصتانہ کو پانچ سال ہو چکے تھے۔ میری بیوی نے رضامندی کا اظہار کیا تو مَیں نے اعلان کردیا کہ چندہ دینے کی غرض سے اپنے گھر کا سامان نیلام کروں گا۔ چنانچہ گھر کا سب سامان سوائے بستروں اور چند ضرورت کے برتنوں کے نیلام کر دیا گیا اور مَیں نے چندہ ادا کردیا۔ پلنگ بھی نیلام کر دئیے گئے۔ اس رات ہم دونوں چٹائی پر سوئے۔ گھر کا سامان نیلام کرنے کے بعد میری بیکاری کی وجہ سے میری بیوی نے لیڈی سپروائزر کی تحریک پر ملازمت کرلی۔ ان کو اپنے گھر کے قریب کے زنانہ سکول میںملازمت دی گئی۔ ہیڈمسٹریس پنجا بی عورت تھی۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ یہ یوپی کی ہیں اور خاوند پنجابی ہے تو اس نے وجہ دریافت کی۔ میری بیوی نے بتایا کہ احمدیوں کی شادیاں اپنی جماعت میںہوا کرتی ہیں۔ اس پر اس نے سیّدنا حضرت مسیح موعودؑ کی شان میں گستاخی کی۔ میری بیوی یہ کہہ کر گھر آ گئی کہ مَیں ایسی ملازمت پر لعنت بھیجتی ہوں جہاں میرے پیارے آقا کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ ہیڈ مسٹریس نے فوراً رپورٹ کر دی کہ فلاں استانی بھاگ گئی ہے۔ لیڈی سپروائزر پارسی عورت تھی۔ وہ ہمارے گھر آئی۔ میری بیوی نے اس کو بتایا کہ اس نے ہمارے آقا کو گالیاں دی تھیں۔ اس پر سپر وائزر نے میری بیوی کا تبادلہ دوسرے سکول کردیا۔
دو واقعات مَیں اپنے متعلق لکھتا ہوں۔ جن سے یہ ثابت ہوگا کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ ہم تجھے بچا لیں گے۔ کس شان سے پورا ہوا۔
مَیں سویز میں فوجی کیمپ میں رہتا تھا۔ اس کیمپ میں کئی سو کلرک تھے۔ مَیں نے دینی غرض کے لئے چار بجے شام سے بارہ بجے رات کا پاس لیا ہوا تھا۔ پانچ چھ گھنٹے ہر روز مَیں تبلیغ کیاکرتا تھا۔ اپنے خیمہ کے سامنے مَیں نے ایک مسجد بنائی ہوئی تھی جہاں مَیں اذان دیا کرتا تھا اور نماز پڑھا کرتا تھا۔ مَیں نے وہاں اعلان کیا ہوا تھا کہ جو صاحب قرآن شریف پڑھنا چاہیں مجھ سے پڑھ لیں۔ اس پر ایک ہیڈ کلرک ساغرخان صاحب نے مجھ سے قرآن شریف پڑھا اور پھر وہ احمدی ہوگئے۔ بعدازاں وہ توپ خانہ میں تبدیل ہوگئے۔ وہاں انہوں نے ایک حافظ قرآن جمعدار کو مناظرہ میں شکست دی۔ اُس نے دریافت کیا کہ تم نے قرآن کریم کہاں سے پڑھا ہے؟ اُس نے میرا نام بتایا۔ وہ رخصت لے کر سویز آیا اور مخالفین سے کہا کہ مَیں احمدی سے مناظرہ کرتا ہوں تم مجھے لکھ دینا کہ احمدی ہا ر گیا ہے تاکہ مَیں وہاں جا کر ساغرخان کو بتلائوں کہ مَیں تمہارے استاد کو شکست دے آیا ہوں۔ چند غیر احمدی کلرکوں کے ساتھ وہ میرے خیمہ میں آیا اور باوجود دلائل سننے کے اس نے کہا کہ احمدی صاحب! آپ ہار گئے۔ پھر اُس کے ساتھیوں نے سکیم کے مطابق ایسی ہی تحریر لکھ کر دے دی۔
اس کے بعد یہاں میرا ایک پادری کے ساتھ مناظرہ ہوا جس میں پادری کی شکست کے بعد کپتان رائٹ کے حکم پر میرا کورٹ مارشل کرکے مجھے اپنے خیمہ میں نظربند کر دیا گیا۔ کپتان نے جج سے کہہ دیا تھا کہ مجھے چھ ماہ قید کی سزا دیں۔ جج بھی ایک انگریز کپتان تھا جسے کپتان رائٹ نے بتایا کہ یہ شخص عیسائیت کا دشمن ہے اور پادری سے میری گفتگو کا حال بھی بتا دیا۔
ان معاملات سے دو اڑھائی ماہ پیشتر ہمارے کرنل صاحب بریگیڈئیر ہو گئے تھے اور مَیں نے انہیں مبارکباد کا تار دیا تھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
بہرحال جب کورٹ مارشل عدالت کی طرف سے مجھے چارج شیٹ دیا گیا کہ فلاں روز تک اس کا جواب دو اور عدالت میں اپنے گواہوں کو بھی ساتھ لائو تو فیصلہ سے ایک روز پہلے کپتان رائٹ نے دفتر میںسب سے کہہ دیا کہ کل احمدی کو چھ ماہ کی سزا مل جائے گی۔ رات کو کیمپ میں چند غیر احمدی کلرکوں نے برادرم علی حسین صاحب سے طنزاً کہا کہ آپ کے احمدی صاحب کو کل I.M.S.Mکا امتیازی نشان ملے گا۔ وہ فوراً میرے پاس آئے اور بتایا کہ غیراحمدی یہ طعنہ دے رہے ہیں۔ مَیں نے ان سے کہا کہ فوراً Mess میں جائو اور سب کے سامنے یہ کہہ دو کہ احمدی کہتا ہے کہ میرا پیارا خدا قادر ہے کہ مجھے I.M.S.M (Indian Meritenius Service Medal) کا تمغہ دے۔ علی حسین صاحب کو تامّل تھا لیکن میرے زور دینے پر وہ گئے اور ایسا ہی اعلان کر دیا۔ جس پر مخالف کلرک ہنس پڑے کہ کل اس کو چھ ماہ قید کی سزا ہو گی اور اسے I.M.S.M کے خواب نظر آ رہے ہیں۔ علی حسین صاحب نے واپس آکر بتایا کہ وہ لوگ اس طرح مذاق اڑا رہے ہیں۔ میںنے کہا: بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ’’مترس از بلائے کہ شب درمیاں اش‘‘ مَیں تو ساری رات مسجد میں گزاروں گا۔ آپ سے ہو سکے تو دعا کریں۔ مولا کریم میرے گناہوں کو بخش دے اور جو امید اس ذات سے کی گئی ہے وہ پوری ہوجائے۔
دوسرے روز مَیں عدالت میں گیا۔ کپتان رائٹ بھی گواہوں سمیت گئے اور جج کو بتایا کہ مسٹر احمدی کو مَیں نے تین مرتبہ بلایا مگر یہ نہیں آئے۔ گواہوں نے بھی گواہی دی۔ جج نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا یہ ٹھیک ہے؟ مَیں نے کہا: ہاں مگر ان کا حکم ماننا انسانی اختیار میں نہ تھا کیونکہ مَیں 5منٹ کے فاصلہ پر تھا اور کپتان صاحب ملحقہ ہیڈکلرک کو جلد بلالیا کرتے تھے جو ایک منٹ میں ان کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ انہوں نے گواہ طلب کئے مگر میرا کوئی گواہ نہ تھا اور افسر کے خلاف کوئی شخص گواہی دینے کے لئے تیار بھی نہ ہو سکتا تھا۔ اس پر جج نے یہ الفاظ کہے اور لکھے کہ ’’مَیں تم کو مجرم قرار دیتا ہوں اور’’۔ ’اور‘ کا لفظ اس کے منہ میں تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ فون کرنے والے نے پوچھا کہ کیا تمہاری عدالت میں مسٹر احمدی کے خلاف کوئی مقدمہ چل رہا ہے؟۔ جج نے کہا ہاں حضور ! مَیں ابھی اس کا فیصلہ سنا رہا ہوں۔ فون کرنے والے نے کہا ’’ فیصلہ مت سنائو اور کاغذات لے کر میرے پاس آجائو‘‘۔ کپتان رائٹ کو تو یقین تھا کہ جج واپس آتے ہی اپنے فیصلہ کے باقی الفاظ سنا دے گا کہ ’’مَیں تم کو چھ ماہ قید کی سزا دیتا ہوں ‘‘ اس لئے اس نے مجھ سے کہا ’’مسٹر احمدی! اب تم جیل میں چلے جائو گے مجھے افسوس ہے‘‘۔ مَیں نے جوش میں آکر کہا: تم غلط کہتے ہو، تم زمین پر ایک مرے ہوئے کیڑے ہو۔ میرا خدا ایک زندہ خدا ہے۔ میرے ساتھ اُس کا وعدہ ہے کہ وہ مجھے بچائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ تم ذلّت اٹھائو گے۔ا تنے میں جج صاحب واپس آگئے اور بجائے فیصلہ دینے کے ہم دونوں کو کہا کہ جنرل شوٹ آپ دونوں کو بلاتے ہیں۔
ہم دونوں گئے تو پہلے مجھے بلایا گیا اور جنرل صاحب نے دریافت کیا کہ کیا آپ بریگیڈئیر کڈ صاحب کو جانتے ہیں؟ مَیں نے کہا: اچھی طرح۔ وہ فرمانے لگے ان کا تار آیا ہے کہ وہ آپ کو اپنے بریگیڈمیں چیف کلرکی کے لئے بلارہے ہیں اور آپ کو ایک سو روپیہ ماہوار الائونس زیادہ دیں گے۔کیا آپ جانے کو تیار ہیں ؟ مَیں نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے میجر کو بلاکر کہا کہ ان کو ترقی کا آرڈر دے دو۔ دو اردلی ان کو دے دو اور ریلوے پاس بھی اور کڈ صاحب کو تار دے دو کہ احمدی آ رہا ہے۔ مَیں وہ کاغذات لینے کے لئے گیا تو جنرل صاحب نے کپتان رائٹ کو بلاکر ڈانٹا کہ مجھے جج نے بتایا ہے کہ تم نے پادریوں کے کہنے سے ایک کلرک کو چھ ماہ قید دلوانے کی کوشش کی اس لئے مَیں تمہاری Staff Qualificationsکو منسوخ کرتا ہوں اور تم کو میدان جنگ میں بھیجتا ہوں۔
غرض مَیں ترقی کا آرڈر لے کر اور کپتان تنزّلی کا آرڈر لے کر باہر آئے۔ باہر دفتر کے کلرک کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا فیصلہ ہوا۔ مَیں نے جواب دیا کہ مَیں ہیڈکلرک سے چیف کلرک ہو گیا۔سو روپیہ زیادہ ماہوار الائونس ملے گا۔ انہوں نے خیال کیا کہ سزا ملنے کی وجہ سے احمدی کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ چنانچہ انہوں نے کیپٹن سے دریافت کیا تو وہ جھنجھلا کر بولا جنرل شوٹ نے احمدی کو ترقی دیدی اور مجھے دو سوروپیہ ماہوار کا نقصان دیدیا۔
پھر کپتان نے بریگیڈئیر کڈ کو ایک خط لکھ دیا کہ احمدی عیسائیت کا سخت دشمن ہے، یہ میرے تنزل کا باعث ہوا ہے، اس کو تم سزا دو۔
جب بریگیڈئیر کو میرے آنے کا تار ملا تو چودہ روز کے لئے انہیں ایک خاص ڈیوٹی کے لئے بلا لیا گیا۔ وہ جاتے وقت بریگیڈئیر میجر ولسن سے کہہ گئے مسٹر احمدی آئے تو اُسے میرے آنے تک کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔ دوسرے روز مَیں پہنچ گیا تو ساتھ ہی کپتان رائٹ صاحب کا خط بھی پہنچا جسے بریگیڈئیر میجر نے پڑھا تو حیران ہوا کہ وہ کیا کرے۔ اس نے چودہ روز کے لئے مجھے چیف کلرکی کا چارج نہ دلوایا اور سٹاف کپتان کو چودہ روز کی رخصت دے کر مجھے اُن کی جگہ کام کرنے کو کہا۔
چودہ روز بعد کڈ صاحب واپس آئے تو ولسن صاحب نے کپتان رائٹ کا خط دیا۔ کڈ صاحب نے اسے پرزے پرزے کردیا اور کہا احمدی ایسا نہیں ہے۔ پھر مجھے چیف کلرکی کا چارج دیا گیا۔ مَیں نے دیکھا کہ وہاں تین کلرک زائد ہیں۔ میرے آنے سے چار ہو گئے۔ مَیں نے کڈ صاحب سے کہا کہ آپ نے مجھے کیوں بلالیا ہے۔ آپ کے پاس تو تین کلرک زائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے تین ماہ پہلے مجھے مبارکباد ی کا تار دیا تھا، مَیں جواب نہ دے سکا۔ مجھے خیال آیا کہ مجھے احمدی سے معافی مانگنی چاہئے۔ اس لئے مَیں نے جنرل شوٹ کو تار دے دیا۔اب آپ آ گئے ہیں اور مَیں مبارکبادی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مَیں نے کہا یہ سب تصرّفات الٰہی ہیں۔ مَیں نے کورٹ مارشل والا معاملہ سنایا اور کہا کہ مَیں چالیس روز تک آپ کے لئے تہجد میں دعا کروں گا۔ کیونکہ آپ خداتعالیٰ کے نشان کا ایک حصہ ہیں۔
دو ماہ بعد ان کو Distinguished Service Orderکا اعزاز ملا۔ مَیں نے مبارکباد دی تو کہنے لگے: احمدی! یہ تمہاری دعائوں کا نتیجہ ہے۔ ورنہ ان چودہ روز میں مَیں نے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ مَیں نے کہا بیشک اسلام کا خدا زندہ خدا ہے۔و ہ اپنے عاجز بندوں کی دعائوں کو سنتا ہے۔
پھر کڈ صاحب نے خفیہ طور پر میری سفارش کردی اور کمانڈر انچیف نے مجھے I.M.S.Mکا تمغہ دیا۔ گزٹ میں اعلان ہوا۔ وہ تمغہ لگا کر میں چند روز بعد رخصت پر سویز گیا جو اُن مخالف کلرکوں نے بھی دیکھا جو میرے قادر خدا نے مجھے دیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں