حضرت حاجی فیض الحق خانصاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍مارچ2008ء میں مکرم احسان الحق خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کوئٹہ کے قلم سے اُن کے والد حضرت حاجی فیض الحق خان صاحبؓ سابق امیر جماعت احمدیہ کوئٹہ کا ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔
قادیان قریباً چھ میل کے فاصلہ پر واقع گاؤں فیض اللہ چک کے ایک زمیندار حضرت حاجی نور محمد صاحبؓ کو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔ آپؓ کے چار بیٹوں میں حضرت حاجی فیض الحق خان صاحبؓ سب سے بڑے تھے جو 1896ء میں پیدا ہوئے۔ قادیان میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور میٹرک کرنے کے بعد آرڈیننس ڈپو میں بطور کلرک ملازمت کا آغاز کیا اور 1956ء میں بحیثیت آرڈیننس افسر ریٹائر ہوئے۔ ملازمت کے دوران ہندوستان کے مختلف شہروں میں متعین رہے اور جماعتی وابستگی بھی قائم رکھی یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ کی ابتدائی مسجد بھی آپ کی امارت کے دوران تعمیر ہوئی جو آج کل حکومت نے سیل کی ہوئی ہے۔ محض خدا کا فضل ہے کہ کوئٹہ کی موجودہ مسجد کی تعمیر خاکسار کی امارت کے دوران ہوئی۔
حضرت فیض الحق خانصاحبؓ احمدیت کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ فوجی ملازمت کے دوران بھی داڑھی رکھی ہوئی تھی اور پگڑی کا استعمال بھی کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کی پگڑی کی شکایت جنرل محمد ایوب خان سے کی گئی تو اُن کے پوچھنے پر آپ نے جواب دیا کہ شکل اور لباس کے اعتبار سے میں اکیلا ہی مسلمان نظر آتا ہوں اور یہ کہ دوسرے چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے جیسا ہی بن جاؤں۔ اِس پر انہوں نے بڑے جلال سے کہا کہ جب تک میں ہوں آپ اسی لباس میں رہیں گے۔
آپؓ دو مرتبہ کوئٹہ کے امیر منتخب ہوئے۔ خلافت سے محبت، سلسلہ کے لٹریچر کا مطالعہ، نماز باجماعت اور نوافل کی ادائیگی آپؓ کا معمول تھا۔ تلاوت قرآن کریم باقاعدگی سے کیا کرتے تھے اور قرآن مجید کا بیشتر حصہ حفظ بھی کر رکھا تھا۔ اہل خانہ کے ساتھ جلسہ سالانہ ربوہ میں اہتمام سے شرکت کرتے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ آپ نے کاروبار کیا مگر ناتجربہ کاری کی بنا پر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ریٹائرڈ احمدیوں کو پانچ سالہ وقف کی تحریک پر خود کو 65سال کی عمر میں پیش کردیا اور نائیجیریا چلے گئے۔ وہاں قریباً ساڑھے تین برس تک احمدیت کی تبلیغ میں مشغول رہے تاہم نائیجیریا کے نامساعد حالات اور ناسازی طبع کے باعث پانچ سال مکمل نہ کر سکے۔
آپؓ ایک مثالی احمدی تھے اور بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ باجماعت نماز میں اگر سستی ہوجاتی تو بہت برا مناتے۔ طرز زندگی نہایت ہی سادہ تھا۔ بڑے دعا گو انسان تھے۔ نائیجیریا میں قیام کے دوران ایک غیراحمدی پاکستانی ڈاکٹر آپؓ کی بہت خدمت کیا کرتے تھے۔ اُن کی صرف ایک بیٹی تھی اور اُن کے مطابق ان کی اہلیہ مزید اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ تھیں۔ اس آپؓ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے جس نے حضرت مریم کو بغیر خاوند کے بچہ دیا تھا اور اس مریم (یعنی ڈاکٹر کی اہلیہ) کا تو خاوند موجود ہے۔ پھر فرمایا میں دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ضرور بیٹا عطا فرمائے گا۔ اس واقعہ کو دس برس گزر جانے کے بعد جب آپؓ واپس پاکستان آچکے تھے لیکن اُن کے لئے دعا مسلسل کررہے تھے تو ڈاکٹرصاحب کا خط آیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی وفات پر آپؓ کو آخری دیدار کے وقت حضورؓ کی پیشانی پر بوسہ دینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپؓ بہت ایثار کرنے والے تھے۔ چھوٹے بھائیوں کے تعلیمی اور دیگر اخراجات کو تکلیف اٹھاکر برداشت کیا۔
1982ء میں یورپ آنے کا موقع بھی ملا اور سپین میں مسجد بشارت کے افتتاح میں شامل ہوئے۔ اسی سال 14 دسمبر کو ساہیوال میں وفات پائی جہاں آپ جلسہ سالانہ ربوہ پر جانے کے لئے اپنی بیٹی کے ہاں مقیم تھے۔ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے۔ آپ نے تین بیٹے اور چار بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/2jD9G]

اپنا تبصرہ بھیجیں