حضرت حافظ سید مختار احمد شاہجہانپوریؓ

ماہنامہ ’’خالد‘‘ جون 1999ء میں مکرم چودھری رشیدالدین صاحب کا ایک تفصیلی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں حضرت حافظ سید مختار احمد شاہجہانپوریؓ کا ذکر خیر کیا گیا ہے۔
حضرت حافظ صاحبؓ کے مورث اعلیٰ ترمذی خاندان کے سادات اور نہایت عابد و زاہد تھے جنہیں نواب پٹھان قصبہ شاہجہانپور صوبہ یوپی لائے اور پھر ان کی خدمت میں بطور نذرانہ مکانات، باغات اور زمینیں پیش کیں۔ چنانچہ یہ خاندان اپنی املاک، دولت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے ممتاز تھا۔ حضرت حافظ صاحبؓ کے والد حضرت حافظ سید علی صاحب بھی نہایت عالم، عابد و زاہد تھے اور نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی اُن کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ اُن کا مشغلہ درس و تدریس تھا۔ قصبہ شاہجہانپور کے لوگ علم و ادب اور شاعری کا ذوق رکھنے کی وجہ سے ہندوستان بھر میں مشہور تھے۔
حضرت حافظ صاحبؓ نے ابتدائی تعلیم گھر میں ہی حاصل کی۔ والدین نے آپکی تعلیم کی طرف خاص توجہ دی۔ آپ نے شاعری کے لئے نہایت موزوں طبیعت پائی تھی اور جناب امیر مینائی آپکے باقاعدہ استاد تھے۔ آپکو کتب جمع کرنے اور باغبانی کا شوق تھا۔ آپ ان چیزوں پر بے دریغ رقم خرچ کرتے تھے اور دریادلی سے دوسروں کو بھی عطا کیا کرتے تھے۔
ایک روز آپ دوستوں کے ساتھ بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک کتابوں کی دکان میں چلے گئے۔ وہاں ایک ہندو کی کتاب میں آنحضورﷺ کی ذات اقدس پر ایک ناپاک اعتراض پڑھا تو فوراً دوستوں کے ساتھ بنا ہوا پروگرام ترک کرکے اپنے والد صاحب سے اس اعتراض کا جواب معلوم کرنے کیلئے گھر چلے گئے۔ لیکن اپنے والد صاحب سے معلوم کرنے اور خود تحقیق کرنے کے باوجود بھی تسلّی نہ ہوئی تو آخر حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ کا ایک حصہ پڑھنے سے آپ کی یہ مشکل آسان ہوگئی۔ یہ ناتمام حصہ حضرت منشی محمد خان صاحب کپورتھلویؓ نے آپ کے والد محترم کو بھجوایا تھا۔ حضورؑ کی تصنیف نے شرح صدر کی کیفیت پیدا کی تو پھر کچھ مزید مطالعہ کیا اور زیارت کے لئے قادیان تشریف لے گئے۔ وہاں پانچ دن قیام کیا اور حضرت اقدسؑ کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کرکے واپس شاہجہانپور پہنچے تو معلوم ہوا کہ آپؓ کے والد محترم بھی وفات مسیحؑ کے قائل ہوچکے ہیں۔ جلد ہی انہوں نے بھی بذریعہ خط بیعت کرلی اور پھر خوب تبلیغ شروع کردی۔ ایک موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے دونوں باپ بیٹا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’یہ دونوں باپ بیٹا یوپی میں جماعت احمدیہ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘۔
حضرت سید علی میاں صاحب کے سات بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ تین بیٹے بچپن میں فوت ہوگئے جبکہ تین نے احمدیت قبول کی اور ایک محروم رہے۔ دونوں بیٹیاں بھی احمدی تھیں۔
حضرت حافظ صاحبؓ نے قبول احمدیت کے بعد اپنی زندگی خدمت دین کیلئے وقف کردی۔ آپؓ کو حضرت اقدسؑ کی کتب سے ایسا عشق تھا کہ بار بار پڑھنے سے صفحات کے صفحات زبانی یاد ہوگئے تھے۔ آپؓ کا حافظہ اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ تھا۔ چنانچہ اُسی زمانہ میں کسی مخالف نے آپؓ سے کہہ دیا کہ احمدیت سچی ہے تو قرآن مجید حفظ کرکے آئندہ رمضان میں لوگوں کو سناؤ۔ چنانچہ اُسی سال جب رمضان آیا تو آپؓ نے سارا قرآن نمازِ تراویح میں سنادیا۔
آپؓ کے پاس ایک بڑا کتب خانہ تھا جس میں مذہب اور ادب سے متعلق ہزاروں نایاب کتب موجود تھیں۔ قرآن مجید کے بعض نادر قلمی نسخے بھی تھے۔ آپؓ کو یہ یاد ہوتا کہ کونسی کتاب کس جگہ پڑی ہے اور آپؓ فرماتے تھے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے مجھ سے کوئی حوالہ پوچھا ہو اور وہ مایوس ہوا ہو۔
ایک دفعہ شاہجہانپور میں آپؓ کو خون آنے کا عارضہ لاحق ہوا اور ہر قسم کے علاج کے باوجود افاقہ نہ ہواتو آپؓ کے والد محترم آپؓ کو قادیان لے آئے تاکہ حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ سے علاج کروائیں۔ حضورؓ اُن دنوں مالیرکوٹلہ گئے ہوئے تھے چنانچہ دونوں باپ بیٹا وہاں پہنچے تو حضورؓ نے کچھ عرصہ قیام کرنے کا ارشاد فرمایا تاکہ تشخیص کے بعد علاج تجویز ہوسکے۔ اس دوران آپؓ نے حضرت نواب صاحبؓ کی وسیع و عریض لائبریری سے خوب استفادہ کیا۔ کچھ دنوں بعد حضورؓ نے دو نسخے تجویز فرمائے اور واپس جانے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلا نسخہ استعمال کریں اور اگر دماغ کی طرف دباؤ بڑھ جائے تو پھر دوسرا نسخہ استعمال کریں۔ حضرت حافظ صاحبؓ نے دونوں نسخے استعمال کئے اور بہت فائدہ اٹھایا۔ پھر قیام پاکستان تک بیماری سے نجات رہی۔ پاکستان آکر بیماری عود کر آئی لیکن نسخے کہیں گُم ہوچکے تھے۔ … اس سفر کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت ہوگئی اور دوسرے حضرت حکیم نورالدین صاحبؓ سے ذاتی تعلق استوار ہوگیا۔
حضرت حافظ صاحبؓ کو 1896ء میں لاہور میں جلسہ مذاہب عالم میں شامل ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ آپؓ کو حضرت اقدسؑ سے فیضیاب ہونے کے بھی کئی مواقع میسر آئے اور حضورؑ کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر کھانا تناول کرنے کا شرف بھی عطا ہوا۔
شاہجہانپور میں حضرت حافظ صاحبؓ کی تبلیغی سرگرمیوں نے جب وسعت اختیار کی تو سخت مخالفت شروع ہوگئی جو قتل کے منصوبوں تک پہنچ گئی۔ آپؓ کے ایک پرانے دوست حضرت حاجی عبدالقدیر صاحب نے، جو آپ کی تبلیغ سے احمدی ہوچکے تھے، آپؓ کو اپنی حفاظت کی طرف توجہ دلائی لیکن جب آپؓ نے کوئی توجہ نہ دی تو انہوں نے ایک ملازم کو خفیہ طور پر آپؓ کی حفاظت پر مامور کردیا۔ چند ہی روز بعد ایک مشتبہ شخص کو پستول سمیت گرفتار کرلیا گیا جس نے بتایا کہ وہ شہر کے چند علماء کے کہنے پر آپؓ کو قتل کرنے آیا تھا۔
اسکے بعد بھی آپؓ نے اپنے زبانی اور تحریری مناظرے جاری رکھے۔ ایک بار آپؓ تبلیغ کیلئے دوسرے علاقہ میں گئے تو کسی نے آپؓ کے گھر میں خط کے ذریعہ اطلاع دی کہ آپکو قتل کردیا گیا ہے۔ گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ لیکن جب چند گھنٹے بعد آپؓ بحفاظت پہنچ گئے تو گھر والے حیران ہوئے اور پوچھا کہ آپؓ خلافِ معمول اتنی جلدی کیسے واپس آگئے۔ آپؓ نے بتایا کہ آپکو کشفاً گھر کا نقشہ دکھایا گیا جس سے آپؓ سمجھے کہ یہ صورتحال تو کسی کی وفات پر دلالت کرتی ہے چنانچہ آپؓ جلد واپس آگئے۔
شاہجہانپور میں جب ایک روز آپؓ گھر میں تبلیغ کر رہے تھے تو وہاں موجود شہر کے ایک معاند رئیس فقیرے خان نے گرجدار آواز میں کہا ’’اس بکواس کو بند کرو ورنہ تیری ایک آنکھ تو خدا نے پھوڑی ہے (آپؓ کی ایک آنکھ چیچک کی وجہ سے ضائع ہوگئی تھی)، دوسری مَیں پھوڑ دوں گا‘‘۔ ایک احمدی دوست نے یہ سن کر اپنی لاٹھی اٹھائی لیکن آپؓ نے منع کردیا۔ چند روز بعد علم ہوا کہ فقیرے خان جنگل میں شکار کھیلتے ہوئے اپنے ہی ساتھی کی گولی آنکھ میں لگنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔
آپؓ کے مکان کے ساتھ ایک دو منزلہ مکان تھا جس کا مالک آپؓ کو تنگ کرتا اور آپؓ کے مکان میں اینٹیں مارا کرتا تھا اور گالیاں دیتا تھا۔ آخر اُس کے جوان بیٹے نے خودکشی کرلی اور اُس کا مال سٹے میں تباہ ہوگیا۔ پھر باؤلے کتے نے اُسے کاٹ کھایا اور وہ بیمار ہوکر کتے جیسی آوازیں نکالتا تھا۔ لوگوں نے اُسے وہیں باندھ دیا جہاں کھڑے ہوکر وہ گالیاں دیا کرتا تھا۔
1925ء کے قریب حضرت حافظ صاحبؓ عارضی طور پر قادیان تشریف لائے اور چند سال بعد مستقل یہاں سکونت اختیار کرلی۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور تشریف لے آئے اور جماعتی انتظام کے تحت جودھامل بلڈنگ کے ایک کمرے میں قیام فرمایا اور یہاں کئی خاندان آپؓ کے ذریعے احمدی ہوئے۔ دس سال بعد حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر آپؓ ربوہ آگئے اور اپنے ایک عزیز مکرم سید عبدالباسط صاحب کے ہاں قیام فرما یا۔
ربوہ میں قیام کے دوران بھی آپؓ نے عام ادبی و علمی خدمات کے ساتھ ساتھ دعوت الی اللہ کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپؓ فرماتے تھے کہ جس کو تبلیغ کی جائے اُس میں تین باتوں کا پایا جانا مفید ہوتا ہے، یعنی جرأت، قوت موازنہ اور تلاش حق۔ نیز یہ بھی فرمایا کرتے کہ ایک دفعہ میری باتیں سننے کے بعد اگر کوئی شخص دوبارہ ہمارے پاس چلا آئے تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب یہ بفضل خدا احمدیت کی نعمت سے محروم نہیں رہے گا۔
دعوت الی اللہ کے لئے حضرت حافظ صاحبؓ کا طریق بہت دلکش تھا۔ سننے والا نہ تو اکتاہٹ کا اظہار کرتا اور نہ ہی کسی تیز بات کی وجہ سے مشتعل ہوتا۔ نئے آنے والوں کو غیراحمدی کے طور پر تعارف کروانے کی بجائے فرماتے ’’یہ ہمارے دوست ہیں، پہلی دفعہ ربوہ آئے ہیں‘‘۔ آپؓ کا ایک طریق یہ بھی تھا کہ مولویوں کے عمداً جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے حضرت اقدسؑ کی کتاب احمدی دوست کے ہاتھ میں دیدیتے اور مولوی کی کتاب غیراحمدی کو پکڑا دیتے اور خود زبانی حوالے پڑھتے چلے جاتے اور موازنہ فرماتے جاتے کہ مخالف مولوی نے جو بات حضرت اقدسؑ کی طرف منسوب کی ہے وہ کس حد تک درست ہے۔
حضرت حافظ صاحبؓ کسی زیرتبلیغ شخص کے بارہ میں بعض اوقات بہت پہلے ارشاد فرمادیتے کہ اُس میں ایمان کا نور نظر آتا ہے۔ چنانچہ بعد میں وہ شخص قبول احمدیت کی سعادت پالیتا۔
اسی طرح آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ میرا بھی عجیب معاملہ ہے، اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ میری حاجات کا خیال رکھتا ہے چنانچہ بے شمار ایسے واقعات ہیں جب آپؓ کو کسی چیز کی خواہش پیدا ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے کہیں سے وہ بھجوادی۔ مثلاً ایک بار آپؓ نے فرمایا کہ آج میرا دل کڑھی کھانے کو چاہتا ہے۔ اس پر آپؓ کے عزیز بازار جاکر دہی لے آئے تاکہ کڑھی بنائی جاسکے۔ جب وہ واپس آئے تو آپؓ نے اُنہیں ایک برتن دکھا کر فرمایا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ازراہِ نوازش کڑھی بھجوائی ہے۔
خلافت ثالثہ کے انتخاب سے قبل ہی آپؓ کو علم تھا کہ کون خلیفہ منتخب ہوگا چنانچہ آپؓ نے محترم چودھری اسداللہ خانصاحبؓ کو پیغام بھیجا کہ جسے وہ اپنا ووٹ دیں، میرا بھی اُنہیں کو دیدیں۔ پھر فرمایا کہ وہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ کو ووٹ دیں گے اور وہی خلیفہ بنیں گے۔
خلافت ثالثہ کے انتخاب کے بعد آپؓ کی شدید خواہش تھی کہ دستی بیعت کی سعادت حاصل ہو لیکن علالت اور ضعف کی وجہ سے خود حاضر نہ ہوسکتے تھے۔ چنانچہ حضورؒ از راہ شفقت آپؓ کے غریب خانہ پر تشریف لے گئے اور آپؓ کو دستی بیعت سے سرفراز فرمایا۔
8؍جنوری1969ء کی شام حضرت حافظ صاحبؓ وفات پاگئے۔ اپنی وفات سے چند روز قبل آپؓ نے ایک موقع پر فرمایا تھا: ’’ہمیں مرنے کا کوئی ڈر نہیں، ہمارا ٹھکانہ تو بہشت ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہمیں تسلّی دی ہے کہ دوزخ کی آگ تم پر حرام ہے، پھر ہمیں موت سے کیا خوف ہو سکتا ہے‘‘۔ آپؓ کی وفات پر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے فرمایا:-
’’آپؓ ایک بے نفس خدمت کرنے والے بزرگ تھے جنہوں نے بیماری کی حالت میں بھی بظاہر ایک مختصر سی دنیا میں جو اُن کے ایک کمرے پر مشتمل تھی، تبلیغ اور تربیت کا ایک وسیع میدان پیدا کردیا تھا … اور آپؓ اس قدر تبلیغ اور اس رنگ میں تربیت کرنے والے بزرگ تھے کہ ہماری جماعت میں کم ہی اس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں