حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری رضی اللہ عنہ

حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری رضی اللہ عنہ یو۔پی کے رؤسا میں سے تھے۔ بہت عالم فاضل تھے۔ ایک بار آپ کو قرآن کریم کے کسی آیت کے معانی سمجھ نہیں آ رہے تھے، کسی آیت کی تنسیخ کے آپ قائل نہیں تھے چنانچہ طبیعت کی بے چینی اس قدر بڑھی کہ بخار ہوگیا…۔ آپ کے والد اور ہمشیرہ بھی بہت بڑے عالم تھے۔انہوں نے بھی اس مسئلہ کے حل کے لئے آپ کے ساتھ مل کر دعائیں کرنی شروع کیں۔ انہی دنوں ان کے ایک ملنے والے پنجاب سے ہوکر واپس گئے تو کہنے لگے کہ امرتسر کے ایک مطبع میں گیا تھا جہاں مولوی غلام احمد قادیانی کی کوئی کتاب چھپ رہی تھی۔ اس کے چند اوراق لے آیا ہوں۔ یہ اوراق ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ کا وہ حصہ تھا جس میں مطلوبہ آیت کی تشریح تھی۔ یہی نشان قبولیت احمدیت کا باعث بنا۔ حضرت حافظ صاحبؓ کے بارہ میں مکرم محمد ضیاء الحق چودھری صاحب کا ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍مئی 1997ء کی زینت ہے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ حضرت حافظ صاحبؓ کے پاس میں بھی باقاعدگی سے حاضر ہوتا تھا۔ جب مکرم بشیر احمد صاحب آرچرڈ نے قبولِ احمدیت کی سعادت حاصل کی تو کچھ روز بعد سخت مایوسی کی حالت میں کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے کلام نہیں کرتا۔ میری خواہش ہے کہ خدا مجھ سے بولے۔ میں نے صبح یہ کیفیت حضرت حافظ صاحبؓ سے عرض کی تو آپ نے فکر کا اظہار فرمایا اور پھر مکرم آرچرڈ صاحب کو بلوا کر فرمایا کہ آپ ایک درخواست اپنی ملکہ کو لکھیں کہ فلاں وقت اور فلاں دن وہ آپ سے ملاقات کرے۔ آرچرڈ صاحب ان دنوں فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ تھے، حیرت سے بولے میں ملکہ کو یہ کیسے کہہ سکتا ہوں میری یہ حیثیت نہیں۔ اس پر حافظ صاحبؓ نے فرمایا ’پھر ہم اس احکم الحاکمین کو کیسے مجبور کر سکتے ہیں‘‘۔ اور مسئلہ آرچرڈ صاحب کی سمجھ میں آگیا۔
ایک بار حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ حضورؓ کے زمانہ خلافت سے قبل یوپی کے ایک مخلص صاحبِ ثروت احمدی نے حضورؓ کی دعوت کی اور شہر کے کافی رؤسا بلوائے۔ حضورؓ نے فرمایا کہ فرشی نشست تھی اور میرا حصہ اس قدر تھا کہ اگر اپنے سامنے اور دائیں بائیں پوری لمبائی تک ہاتھ پھیلایا جائے تو پھر بھی ختم نہ ہو۔ اسی طرح باقی مہمانوں کے حصے تھے جن کی نشان دہی پھولوں کی لڑیوں سے کی گئی تھی…۔ بعد میں کسی وقت حضرت حافظ صاحبؓ سے مضمون نگار نے پوچھا کہ آپ تو یوپی کے تمام احمدی رؤسا کو جانتے ہوں گے، یہ دعوت کس خوش نصیب نے کی تھی۔ حضرت حافظ صاحب نے گردن جھکالی اور آہستہ سے فرمایا ’’وہ خوش نصیب میں ہی تھا‘‘۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ حضرت حافظ صاحبؓ کو میں نے عموماً بستر پر گاؤتکیہ لگائے نیم دراز حالت میں لکھتے دیکھا۔ آپ بغیر لائن کا سفید کاغذ دہرا کرکے بائیں ہاتھ پر رکھ کر تیزی سے لکھتے تھے اور آپؓ کی لکھائی کاتبوں کی طرز پر بہت خوبصورت تھی۔
شدید گرم موسم میں ایک دن میں حضرت حافظ صاحبؓ کے کمرہ میں داخل ہوا تو آپؓ پسینہ سے شرابور تھے اور ایک گتہ سے خود کو ہوا دے رہے تھے۔ پتہ چلا کہ انجمن کے کسی کارکن کی غلطی کی وجہ سے بجلی کا بل ادا نہیں ہوا اور بجلی کٹ گئی ہے۔ میں نے کہا کہ میں اس کارکن کی شکایت حضرت صاحب سے کروں گا۔ یہ سنتے ہی حضرت حافظ صاحبؓ بے قراری سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور نہایت خفگی سے فرمایا ’’میاں کیا کہا ! تم اپنے بھائی کی شکایت کرو گے؟‘‘۔ یہ سن کر میری جو حالت ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔
حضرت حافظ صاحب کو کتابوں سے بہت پیار تھا۔ آپ کی شاہجہانپور میں ایک بہت بڑی لائبریری تھی جس پر تقسیم ملک کے بعد حکومت نے قبضہ کیا۔ اپیل کی گئی لیکن آپؓ بہت اضطراب میں تھے۔ ایک روز جب بے قراری ناقابل برداشت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوکر دعا مانگی کہ لائبریری کا فیصلہ تو اے اللہ آپ کی جو مشیت ہوگی ، ہو جائے گا لیکن مجھے سکینت تو عطا فرمادیں۔ اسی حالت میں فارسی کا یہ شعر القاء ہوا:

کار سازِ ما بفکرِ کارِ ما
فکرِ ما در کارِ ما آزارِ ما

فرمایا اس کے بعد سے طبیعت پر کوئی بوجھ نہیں ہے۔
مضمون نگار کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک زیر تبلیغ دوست مکرم چودھری نصیر احمد صاحب کو لے کر ایک دو مرتبہ حضرت حافظ صاحبؓ کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔ نصیر صاحب احمدیت کے کافی قریب آکر پھر مخالفت سے گھبرا کر کچھ پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت حافظ صاحبؓ کی وفات سے چند روز پہلے میں آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؓ نے استفسار فرمایا ’’آپکے اس تاجر دوست کا کیا بنا؟‘‘۔ میں نے کچھ ناامیدی کی بات کی تو فرمایا ’’میں نے اس کے چہرے پر ایمان کا نور دیکھا ہے، جاؤ اور اس کا پیچھا کرو‘‘۔
حضرت حافظ صاحبؓ کے ایک غیر از جماعت ہم وطن مکرم حلیم صاحب، جو 1949ء میں آرڈیننس کلودنگ فیکٹری سیالکوٹ کے مدارالمہام تھے، نے ایک بار آپؓ کی شعرگوئی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آپؓ کی ’’واسوخت‘‘ پڑھنے کے بعد داغ دہلوی نے کہا تھا ’’مختار میرا سارا کلام لے لے اور اپنی یہ واسوخت مجھے دے دے تو مجھے خوشی ہوگی‘‘۔
حضرت حافظ صاحبؓ کا حافظہ بلا کا تھا۔ کوئی حوالہ درکار ہوتا تو فرماتے اس الماری سے فلاں خانے سے دائیں طرف سے اتنے نمبر کی کتاب کا فلاں صفحہ نکالیں۔ ابھی ہم صفحہ نکال رہے ہوتے کہ آپؓ پیراگراف کے پیرا گراف بول دیتے اور فرماتے دیکھو میں ٹھیک پڑھ رہا ہوں!۔ … حضرت حافظ صاحب ؓ کی چارپائی سونے کی بجائے کتب کو ترتیب سے رکھنے کے لئے بطور شیلف استعمال ہوتی تھی۔ چنانچہ مضمون نگار کا بیان ہے کہ آپؓ کی چارپائی پر جو چادر بچھی ہوتی اس کے نیچے دونوں طرف مختلف کاغذ رکھے ہوتے۔ جب چادر تبدیل کرنا ہوتی تو آپ اس کے اوپر دوسری چادر بچھوا لیتے اور پھر ان تہوں میں ضروری تحریرات جگہ پاتیں۔ آپؓ کو ایک ایک کاغذ یاد ہوتا کہ کون سی تہ میں اور کس جگہ رکھا ہے۔ ایک بار آپؓ نے فرمایا کہ شاہجہانپور میں بعض اوقات ایک ایک درجن چادریں اوپر نیچے بچھ جاتیں اور شیلف کا کام دیتیں اور پھر اس پلنگ کو دوسرے کمرے میں رکھواکر آپؓ نیا پلنگ بچھوا لیتے اور اس کا بھی ایسا ہی استعمال ہوتا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں