حضرت حافظ معین الدین صاحبؓ

1863ء میں قادیان کی گلیوں میں پھرنے والے ایک پندرہ سولہ سالہ نابینا لڑکے کو قادیان کے رئیس خاندان کے چشم و چراغ حضرت مرزا غلام احمد اپنے ہمراہ لے آئے اور کھانا کھلانے کے بعد فرمایا: ’’حافظ تو میرے پاس ہی رہا کر‘‘۔
وہ ادب سے بولا: ’’مرزا جی! مجھ سے کوئی کام تو ہو نہیں سکے گا‘‘۔
فرمایا: ’’حافظ کام تم نے کیا کرنا ہے۔ اکٹھے نمازیں پڑھ لیا کریں گے اور تو قرآن شریف یاد کیا کر‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت اقدسؑ کے دل میں نماز باجماعت کے اہتمام کے لئے کس قدر جوش تھا۔ چنانچہ وہ لڑکا جس کا نام بعد میں آئینہ کمالات اسلام میں 313 صحابہ کی فہرست میں شامل ہوا، حضورؑ کے پاس ہی رہنے لگا۔ یہ حضرت حافظ معین الدین صاحب رضی اللہ عنہ (ولد شیخ روڈے شاہ) تھے۔
آپؓ نے 18؍نومبر 1889ء کو بیعت کی اور یہ سعادت پانے والے آپؓ قادیان کے دوسرے فرد تھے۔
آپؓ کے بارے میں مکرم لئیق احمد عابد صاحب کے قلم سے ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11، 12 جون 1998ء میں شامل اشاعت ہے۔
حضرت حافظ صاحبؓ نماز باجماعت کی بہت پابندی کرتے اور معذوری کے باوجود موسم کی پرواہ کئے بغیر یہ کوشش کرتے کہ جلدی پہنچ کر خود اذان دیں اور پہلی صف میں حضور علیہ السلام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ فرائض کے علاوہ کثرت سے نوافل ادا کرتے اور اس کثرت سے وظائف کرتے کہ پاؤں سوج جاتے۔ آپؓ کو امام الصلوٰۃ ہونے کا شرف بھی حاصل رہا۔ پہلے آپؓ امامت کروانے سے ڈرتے تھے اس پر حضورؑ نے فرمایا کہ حافظ ڈرا نہ کر۔ اسلام ایسا مذہب ہے کہ اس میں کوئی ذات پات اور چھوٹائی بڑائی نہیں۔
حضرت حافظ صاحبؓ کو حضور اقدس سے والہانہ محبت تھی۔ ابتدائی ایام میں حضورؑ آپؓ سے فرمایا کرتے ’’حافظ یہ دن تھوڑے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ بڑے بڑے وعدے کئے ہیں اور اس کی طرف سے بڑی بڑی برکتیں آئیں گی‘‘۔ حافظ صاحبؓ جواب دیتے ’’مرزا جی! جو فضل اور نعمت اب ملی ہے یہ کیا کم ہے۔ پھر جب بہت لوگ آ جائیں گے تو میں کہاں رہوں گا؟‘‘۔ اس پر حضورؑ تسلّی دیتے ہوئے فرماتے ’’حافظ تو میرے پاس ہی رہے گا‘‘۔ چنانچہ جب لوگ کثرت سے آنے لگے تو حافظ صاحبؓ پھر بھی اُسی مقام پر رہے۔
حضرت حافظ صاحبؓ کو حضرت اقدسؑ کا جسم دبانے کی سعادت بھی نصیب ہوتی رہی۔ آپؓ کے زہد و قناعت کے بارے میں خود حضورؑ نے فرمایا کہ ’’میں نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات حافظ معین الدین نے تُوت کے پتّوں پر گزارہ کرلیا اور سوال نہیں کیا‘‘۔
حضرت حافظ صاحبؓ نے چونکہ فاقہ کشی اور غربت میں وقت گزارا اور ماہوار اور مستقل چندہ کے علاوہ جو بھی بچت ہوتی وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے پیش کردیتے۔ اگرچہ حضورؑ فرماتے ’’حافظ تیری ضرورتوں میں کام آئے گا تو رکھ‘‘۔ آپؓ ہمیشہ عرض کرتے کہ مجھے تو کوئی ضرورت نہیں ہے، سلسلہ کی کسی ضرورت میں صرف کردیا جائے۔ گویا
جان و مال و آبرو حاضر ہیں تیری راہ میں
لیکن مسلسل فاقوںسے آپؓ کو دائمی قبض کی شکایت پیدا ہوگئی۔ جب آپؓ نے حضورؑ سے عرض کیا تو حضورؑ نے فرمایا ’’حافظ ایک سیر دودھ روزانہ پیا کرو‘‘۔ آپؓ نے عرض کیا ’’بہت اچھا‘‘ ۔ اور پھر سوچا کہ اس حکم کی تعمیل کس طرح کروں گا کہ حضرت اقدسؑ نے خود ہی فرمایا کہ ’’حافظ پیسے مجھ سے لے لیا کرو‘‘۔ چنانچہ کچھ نقد دیدیا اور پھر ہمیشہ دیتے رہے۔ آپؓ نے بھی ہمیشہ التزام فرمایا اور فرمایا کرتے کہ اگر حضورؑ کا حکم نہ ہوتا تو نہ پیتا۔
حضرت اقدسؑ نے آپؓ کو اپنا ایک مستعمل خاکی رنگ کا پاجامہ اور لمبا گرم کوٹ دیا ہوا تھا۔ حکیم اللہ دتّہ صاحب نے بہت کوشش کی کہ آپؓ سے یہ کپڑے لے لیں اور بدلے میں آپؓ کو نئے بنوادیں لیکن آپؓ ایسا کرنے پر راضی نہ ہوئے۔
ایک بار حضورؑ نے آپؓ سے فرمایا کہ کچھ شعر سناؤ۔ اگرچہ آپؓ نہ شاعر تھے اور نہ ہی خوش آواز لیکن چونکہ حکم تھا اس لئے کچھ پنجابی کے پرانے شعر سناتے رہے اور پھر یہ خیال کرکے کہ حضورؑ خوش ہوتے ہیں آپؓ کوشش کرکے شعر یاد کرتے اور حضورؑ کو سناتے۔ جب حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ نے یہ سلسلہ دیکھا تو حضورؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت کیا سنتے رہتے ہیں، حافظ صاحب سونے بھی نہیں دیتے، نہ ہی یہ خوش آواز ہیں، سب کو تکلیف ہوتی ہے، آپ کس طرح سنتے رہتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا ’’مجھے تو کچھ معلوم نہیں ہے کہ یہ کیا سناتے ہیں اور نہ میں اس خیال سے سنتا ہوں کہ یہ خوش آواز ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میرے دماغ میں دین کی حالت اور عیسائیوں کے حملوں کو دیکھ کر جوش اٹھتا ہے اور بعض اوقات مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ پھٹ جائے گا۔ چونکہ حافظ صاحب بڑے اخلاص سے کمر دبانے کے لئے آ جاتے ہیں۔ میں نے اپنی توجہ کو دوسری طرف بدلنے کے لئے ان کو کہہ دیا کہ کوئی شعر یاد ہو تو سناؤ۔ اب یہ بے چارہ نہایت اخلاص سے سناتا ہے۔ اگر آپ کو ناپسند ہو تو ان کو منع کردیا جائے‘‘۔
حضرت حافظ صاحبؓ نابینا ہونے کے باوجود دعوت الی اللہ کیلئے دل میں خوب جوش رکھتے تھے اور حضورؑ کے معاندین کے گھروں میں جاکر بھی اُنہیں وعظ کرتے اور فرماتے کہ لوگ اِن سے ڈرتے ہیں تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہ کروں، اگر چار گالیاں بھی دے لیں گے تو میرا کیا بگڑتا ہے، حق تو پہنچ جائے گا۔ میرے ذمہ تو جواب نہ رہے گا کہ تُو نے کیوں نہ پہنچایا‘‘۔
حضرت حافظ صاحبؓ نے محتاجی اور معذوری کے ساتھ ساتھ عُسر کی حالت میں زندگی گزاری لیکن ایسے میں بھی خدمت خلق کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ میر مہدی حسن مجروح بیان کرتے ہیں کہ ایک روز اُن کے گھر کچھ نہ تھا، رات کو بچوں کو بہلا پھسلا کر سلادیا کہ رات گئے دروازے پر دستک ہوئی اور حضرت حافظ صاحبؓ تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے پاس کچھ روٹیاں آئی تھیں جو صبح تک خراب ہو جاتیں، وہ لایا ہوں۔ ساتھ ہی ایک روپیہ بھی دیا۔… میں نے بڑا عرض کیا کہ آپؓ معذور ہیں اور ہمیں آپؓ کی خدمت کرنی چاہئے لیکن آپؓ نے اصرار فرماکر دیدیئے۔ جب میں نے آئندہ کے لئے روکا تو آپؓ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ جو مجھ سے کراتا ہے وہ کرتا ہوں۔ آپ کیوں منع کرتے ہیں۔ میرا سب کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے ہے‘‘۔
حضرت یعقوب علی عرفانی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ایک بار بارش کے ایام تھے۔ میں نے دیکھا کہ حافظ صاحب گرتے پڑتے جا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا حافظ صاحب کدھر کو جا رہے ہو؟ تو کہا ایک کتیا نے بچے دیئے ہوئے ہیں۔ میرے پاس روٹی پڑی ہوئی تھی۔ میں نے کہا جھڑی کے دن ہیں اُس کو ہی ڈال دوں‘‘۔
جب حضرت حافظ صاحبؓ کو حضور علیہ السلام کی وفات کی اطلاع ملی تو پہلے تو آپؓ کو یقین ہی نہ آتا تھا لیکن پھر سخت صدمہ ہوا اور اپنے غم کا اظہار ان چند الفاظ میں کیا ’’میں آج محسوس کرتا ہوں کہ یتیم ہوگیا ہوں۔ اب آپؑ کے بعد زندہ رہنے کا مزہ نہیں۔ مگر یہ امر اپنے اختیار میں نہیں‘‘۔ حضرت حافظ معین الدین صاحبؓ عرف معنا کی وفات 16؍جولائی 1919ء کو ہوئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں