حضرت حسن رہتاسی صاحبؓ

ماہنامہ ’’الھدیٰ‘‘ سویڈن اگست 2001ء میں مشہور شاعر حضرت حسن رہتاسی صاحبؓ کے بارہ میں ایک مختصر مضمون مکرم قریشی فیروز محی الدین صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آپؓ کا نام حسن دین رہتاسی تھا اور نام سے مناسبت کی وجہ سے حسنؔ تخلص کرتے تھے۔ آپؓ کو حضرت مسیح موعودؑ کا صحابی ہونے اور نظام وصیت میں شمولیت کا بھی شرف حاصل تھا۔ آپؓ کے والد حضرت منشی گلاب دین صاحبؓ بھی بلند پایہ شاعر تھے جن کا ایک قصیدہ حضورؑ نے ’’سراج منیر‘‘ کے آخر میں نقل کیا ہے۔
حسنؔ رہتاسی ایک فطرتی شاعر تھے جو فی البدیہہ شعر کہنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ اپنے کلام کی برجستگی، روانی، سلاست، حسن بیان اور دلآویزی کی وجہ سے بہت معروف تھے۔ قصور شہر میں ایک ادبی محفل کے دوران سرعبدالقادر کی فرمائش پر آپؓ نے یہ فی البدیہہ قطعہ سنایا:

مانوس ہیں گناہوں سے، تقویٰ سے دُور ہیں
اس پر حریصِ جنت و غلمان و حور ہیں
یوں بخش دے تو بات جدا ہے وگرنہ ہم
مستوجب سزا ہیں کہ اہلِ قصور ہیں

آپؓ کا کلام آنحضورﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ سے عشق و وفا سے پُر ہے۔ حضرت اقدسؑ کے بعض الہامات کو بھی آپؓ نے بڑی خوبصورتی سے اشعار میں باندھا ہے۔

حصاروں، ریگزاروں، کوہساروں، آبشاروں تک
پیاروں، جاں نثاروں، تاجداروں، خاکساروں تک
غرض پورب سے پچھم تک ادر اُتر سے تَا دکّھن
تیری تبلیغ پہنچاؤں گا دنیا کے کناروں تک

ایک اَور مثال ملاحظہ فرمائیے:

خدا کی راہ میں دریا صفت بہتے چلے جاؤ
ہر اک رنج و الم جور و جفا سہتے چلے جاؤ
کناروں تک زمیں کے گر تمہیں تبلیغ کرنا ہے
’’الیس اللہ بکافٍ عبدہٗ‘‘ کہتے چلے جاؤ

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں