حضرت حکیم عبد الجلیل بھیروی صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍مارچ 2007ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے حضرت حکیم عبدالجلیل صاحبؓ ولد محترم حکیم شیخ احمد صاحب بھیروی کا ذکر خیر شائع ہوا ہے۔
حضرت حکیم عبدالجلیل صاحبؓ 1870ء میں پیدا ہوئے اور 1898ء میں احمدیت قبول کی۔ حضرت مسیح موعودؑ کے سفر جہلم1903ء کے موقع پر آپ راولپنڈی سے جہلم آئے اور حضور کی خدمت میں حاضری دی۔ آپؓ کی روایت ہے کہ اُس وقت (شیخ) میاں احمد دین صاحب کی اہلیہ صاحبہ نے حضرت صاحب سے کسی تکلیف کے لئے تعویذ لینے کے لئے عرض کی، حضورؑ نے فرمایا کہ میں نے کبھی کوئی تعویذ نہیں لکھا اور نہ ہی حضرت رسول کریم ﷺ نے کبھی تعویذ لکھا تھا، استغفار اور درود شریف کثرت سے پڑھا کریں اور میں دعا کروں گا۔
حضرت حکیم صاحبؓ ایک مخلص اور خدمت دین کرنے والے وجود تھے، ابتدائی سالوں میں بھیرہ میں آپ کی خدمات کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے بھیرہ کے ایک دورہ کی رپورٹ میں آپؓ کا خاص طور پر ذکر کیا۔ اُس وقت آپؓ نے لنگرخانہ کے لئے چندہ بھی ادا کیا۔
پھر آپ اپنے کاروبار کے سلسلے میں بھیرہ سے راولپنڈی چلے گئے لیکن وہاں بھی احمدیت کی وجہ سے مخالفت کا سامنا تھا۔ ایسے حالات میں آپ کی طرف سے اخبار میں دعا کی درخواست بھی آتی رہی۔ ایسے مخالفانہ حالات کا ذکر جب آپؓ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی خدمت میں کیا تو حضورؓ نے فرمایا کہ شیخوپورہ چلے جائیں۔ چنانچہ آپ شیخوپورہ آگئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ پر بہت فضل کیا اور بے پناہ برکتوں سے نوازا۔ لیکن آپؓ دینی کاموں سے کبھی غافل نہ ہوئے۔ شیخوپورہ میں صدر جماعت بھی رہے۔ محترم شیخ عبدالقادر صاحب (سابق سوداگر مل) 1940ء تا 1945ء فیصل آباد میں مربی رہے تو جب بھی وہ دورہ پر شیخوپورہ گئے تو حضرت حکیم صاحبؓ کے ہاں قیام کیا اور اُن کے اخلاص، محبت اور لطف کا ہمیشہ ذکر کیا۔ آپ کو یہ بات نہیں بھولتی کہ ایک مرتبہ آپ نے عصر کے بعد بازار سے چائے پی لی۔ جب حضرت حکیم صاحب کو اس کا علم ہوا تو اس قدر ناراض ہوئے کہ بارہا فرمایا کہ آپ نے تو ہماری ناک کاٹ دی، جن لوگوں نے آپ کو بازار سے چائے پیتے دیکھا ہوگا انہوں نے جماعت کے متعلق کیا خیال کیا ہوگا؟ آپ نے مجھے کیوں نہ فرما دیا، وغیرہ وغیرہ، بہت دنوں تک ناراضگی کا اظہار فرماتے رہے۔ آپ کی عمر بھی کافی تھی اور جسم بھی بھاری تھا مگر اپنی دکان کے سامنے کی مسجد میں شیخ صاحب کے غسل کے لئے خود پانی نکال کر غسل خانہ میں ڈالا کرتے تھے اور ان کی خاطر صابن، تیل، تولیہ ہمیشہ دکان پر رکھتے۔
محترم شیخ صاحب کا بیان ہے کہ حضرت حکیم صاحبؓ اور ان کی اہلیہ محترمہ دونوں بلاناغہ دو بجے تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے۔ مرکز سلسلہ کے احکام کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ اُس زمانہ میں سیرت النبی ﷺ، سیرت حضرت مسیح موعود اور یوم مصلح موعود کے جلسے عموماً بسوں کے اڈوں پر ہوتے تھے اور اس سلسلہ میں باوجود بڑھاپے کے وہ اکیلے حکام متعلقہ کو جا کر ملتے اور جلسوں کی منظوری اور قیام امن سے متعلق جملہ امور خود طے کرواتے تھے۔ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔ آپ کی اُنیس سالہ چندے کی رقم 359 روپے ہے۔ اسی طرح جب حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک وقف جائیداد فرمائی تو آپ اُس میں بھی شامل ہوئے۔
آپ موصی تھے۔ جنوری 1947ء میں وفات پائی۔ جنازہ قادیان لے جایا گیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔
آپکی اہلیہ محترمہ عائشہ بیگم صاحب بھی ایک نیک اور پارسا خاتون تھیں۔ وہ 12 دسمبر 1958ء کو 84 سال کی عمر میں وفات پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/eCzkX]

اپنا تبصرہ بھیجیں