حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی ایک نصیحت

’’(میں) وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو۔ قرآن تمہارا دستورالعمل ہو۔ باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضانِ الٰہی کو روکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنگل میں اسی نقص کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ رسول اللہﷺ کی قوم نے احتیاط کی اور وہ کامیاب ہوگئے۔ اب تیسری مرتبہ تمہاری باری آئی ہے اس لئے چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میّت غسّال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مُردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ۔ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں ۔ استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو۔ وحدت کو ہاتھ سے نہ دو۔ دوسرے کے ساتھ نیکی خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔ تیرہ سو برس بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا۔ پس اس نعمت کا شکر کرو کیونکہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے۔ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ ۔ لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد رکھے: اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ۔‘‘ (خطبات نور صفحہ131)

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں