حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی یادیں

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ مئی 2007ء میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کی بعض یادیں شامل اشاعت ہیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی دو طرفہ محبت پر روشنی پڑتی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت مولوی صاحبؓ کی ہر بات کی فکر رہتی تھی۔ جب آپؓ کی دوسری شادی ہوئی تو حضورؑ نے حضرت اماں جانؓ کی یہ ڈیوٹی لگادی کہ وہ روزانہ یہ معلوم کیا کریں کہ کیا گھر میں حضرت اماں جیؓ (بیگم حضرت مولوی صاحبؓ) آپؓ کا ہر طرح سے خیال رکھتی ہیں؟ اسی طرح اگرچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کسی کا چغلی کھانا شدید ناپسند تھا لیکن مَیں (یعنی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ) چونکہ بچپن سے ہی حضرت خلیفہ اوّلؓ سے بہت مانوس تھی اور ہر وقت اُن کے گھر آنا جانا رہتا تھا اس لئے مجھے صرف آپؓ کے تعلق سے ہی اجازت تھی کہ آپؓ کو کوئی تکلیف گھر میں یا کسی اَور سے پہنچی ہو، آپؓ کا اچھی طرح خیال نہ رکھا جاتا ہو تو مجھے ضرور بتاؤ۔ آپؓ کا حضورؑ کو بہت خیال رہتا تھا۔
میرا بچپن حضرت خلیفہ اوّلؓ کی گود میں کھیل کر گزرا۔ آپؓ بلامبالغہ قریباً روز ہی بڑے پیار سے فرماتے کہ ’’یہ اولاد اور یہ عبدالحئی جو میری بڑھاپے کی نرینہ اولاد ہے، یہ بھی تم لوگوں سے زیادہ مجھے پیارے نہیں‘‘۔ ہم سب کیلئے تو ایسے الفاظ استعمال فرماتے ہی تھے لیکن اکثر بہت زور دے کر فرماتے کہ ’’محمود سے زیادہ یہ اولاد مجھے پیاری نہیں‘‘۔ جب ابھی آپؓ کے صاحبزادے میاں عبدالسلام چھوٹے تھے تو مَیں روزانہ آپؓ کے پاس پڑھنے کے لئے جاتی تو اپنی جیب میں بادام اخروٹ لے جاتی اور روز ہی میاں عبدالسلام سے پوچھتی کہ بتاؤ عبدالسلام! تم کتنے اخروٹ کے نوکر ہو؟ وہ روز جواب دیتے کہ مَیں دو اخروٹ کا نوکر ہوں۔ ایک دن میاں عبدالحئی نے غصہ سے کہا کہ ’’عبدالسلام نوکر کیوں کہتے ہو؟ تم کوئی نوکر ہو؟ کہہ دو کہ مَیں نوکر نہیں ہوں‘‘۔ اندر کمرہ میں حضورؓ سن رہے تھے۔ آپؓ نے نہایت جوش سے کڑک کر فرمایا: ’’عبدالحئی! یہ کیا کہا تم نے… یہ نوکر ہے‘‘۔ پھر عبدالسلام کو اور مجھے، دونوں کو اندر بلایا اور عبدالسلام سے فرمایا کہ کہو کہ مَیں نوکر ہوں۔ بچے نے دہرادیا۔ لیکن اس جذبہ کا اندازہ وہی لگاسکتے ہیں جو آپؓ کی طبیعت سے واقف ہوں یا آپؓ کی صحبت میں رہ چکے ہوں۔ آپؓ کوہِ وقار، غیور اور خوددار تھے۔ کبھی آپؓ کا سر کسی کے آگے نہ جھکا۔ لیکن یہ اپنے محبوب آقا سے عشق تھا کہ حضورؑ کی ایک چھوٹی لڑکی جو آپؓ کی شاگرد بھی تھی،اُس کیلئے بھی اپنے بچے سے نوکر ہونا کہلوا دیا۔
محترمہ صاحبزادی امۃالباسط صاحبہ (بی بی باچھی) فرماتی ہیں کہ مجھے کبھی بھی یاد نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے ذکر کے ساتھ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کا ذکر نہ کیا ہو۔ کہا کرتی تھیں کہ اگر بیمار ہوتی تو حضورؓ کو بلایا کرتی تھی اور آپؓ بھی سب کام چھوڑ کر فوراً تشریف لاتے، باوجود اس کے کہ آپ خلیفہ تھے۔ مجھے تسلّی ہوجاتی تھی، دوائیوں کے ساتھ دعا بھی شامل ہوجاتی تھی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/jyBWP]

اپنا تبصرہ بھیجیں