حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی سیرۃ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سیدنا طاہر نمبر میں حضورؒ کی ذاتی زندگی کے بعض دلچسپ امور (مرتبہ مکرم عبدالستار خان صاحب) حضورؒ کے الفاظ میں ہی پیش کئے گئے ہیں۔
ترجمہ قرآن کریم۔ فرمایا : ’’یہ تو مَیں نے خود ہی پڑھا ہے۔ کلاس میں تو ہم پڑھا کرتے تھے، استاد بھی پڑھایا کرتے تھے مگر اصل ترجمہ مَیں نے خود ہی پڑھا ہے‘‘۔
طفل کے طور پر خدمت۔ فرمایا: ’’جب مَیں اطفال میں تھا تو جو بھی اطفال کا کام میرے سپرد ہوتا تھا، مَیں کیا کرتا تھا اور ہم وقارعمل بھی کیا کرتے تھے اور مَیں اطفال میں دس بچوں کا سائق بھی بن گیا تھا‘‘۔
نماز کی اہمیت۔ فرمایا: ’’(حضرت مصلح موعودؓ) نے بچوں کو نماز کی بہت اہمیت سکھائی۔ نماز کے معاملہ میں چھوٹے بچوں کو وہ مارا بھی کرتے تھے تاکہ یاد رہے۔ نماز کی اہمیت ہی نہیں سکھائی، نماز باجماعت کی اہمیت سکھائی۔ جو باجماعت نماز نہ پڑھے اور پکڑا جائے تو آپ اس کو سزا دیا کرتے تھے۔ سب سے زیادہ جو انہوں نے اپنے بچوں پر احسان کیا ہے، وہ نماز کی اہمیت ہے‘‘۔ ایک بار فرمایا: ’’مَیں نے ایک دفعہ باقاعدہ حساب لگاکر دیکھا تھا کہ گزشتہ تینوں خلفاء سے زیادہ مَیں نے باجماعت نمازیں پڑھائی ہیں اور یہ حسابی بات ہے اس میں کوئی شک کی بات نہیں۔ انتہائی بیماری کے وقت بھی بعض دفعہ نزلہ سے آواز نہیں نکل رہی ہوتی تھی مگر نماز باجماعت کی مجھے اتنی عادت تھی، بچپن سے تھی‘‘۔
تہجد کا شوق۔ فرمایا: ’’مجھے تو چھوٹی عمر سے شوق تھا۔ … بچپن سے ہی خدا نے دل میں ڈال دیا تھا کہ تہجد ضرور پڑھنی چاہئے اور اس کو مَیں نے آج تک حتی المقدور برقرار رکھا ہے‘‘۔
دعا کی عادت۔ فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ کا طریق تھا کہ آڑے وقت میں ہم بچوں سے بھی فرماتے کہ آؤ بچو! دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ میری مدد فرمائے۔ جب مَیں بچپن میں بھی دعا کرتا تو اسے قبولیت کا شرف حاصل ہوجاتا۔ پھر میری عاجزانہ دعائیں کثرت سے قبول ہونے لگیں حتیٰ کہ وہ وقت بھی آن پہنچا جب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے براہ راست اپنے الہام کے انعام سے سرفراز فرمادیا۔
چندہ کی عادت۔ فرمایا: میری والدہ محترمہ نے جو عظیم احسانات ہم پر کئے ان میں سے ایک احسان یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہمیں اپنے پاس سے کچھ دینے کے عمل اور اس کی لذت سے روشناس کرادیا۔
قربانی کا عظیم عہد۔ پاکستان بننے کے بعد قادیان کے دفاع کے دوران آپؒ نے ایک خط اپنی آنٹی کو لکھا جس میں تحریر تھا کہ ’’ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں اس خدمت کا موقع مل رہا ہے۔ اس کے لئے ہم نہ صرف مرنے کے لئے تیار ہیں بلکہ موت کا خوف بھی دل سے نکال چکے ہیں… ہم تو یہ احساس تک دل سے نکال چکے ہیں کہ ہم اس دنیا میں کبھی اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے مل سکیں گے۔ …وہ لوگ جنہیں پاکستان بھجوانے کا حکم ملتا ہے وہ ساری رات اس غم میں رو کر گزارتے ہیں کہ اب انہیں قادیان چھوڑنا پڑ رہا ہے۔‘‘
ذوق عبادت۔ فرمایا: نئے سال کے آغاز کے وقت جب لندن میں عید کا سماں تھا تو اتفاق سے مجھے وہ رات یوسٹن سٹیشن پر آئی۔ مَیں نے وہاں اخبار کے کاغذ بچھائے اور دو نفل پڑھنے لگا۔
خلافت کی اطاعت۔ فرمایا: حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ایک کام میرے سپرد کیا اور حکم دیا فوری طور پر مشرقی بنگال (اب بنگلہ دیش) چلے جاؤ۔ مَیں نے پتہ کروایا تو ساری سیٹیں بُک تھیں۔ معلوم ہوا کہ بیس آدمی چانس پر مجھ سے پہلے ہیں۔ مَیں نے کہا کوئی اَور جائے یا نہ جائے، مَیں ضرور جاؤں گا کیونکہ مجھے حکم آگیا ہے۔ ایرپورٹ پر لمبی قطار تھی۔ کچھ دیر بعد لوگوں کو کہا گیا کہ جہاز چل پڑا ہے۔ اس اعلان کے بعد سب چلے گئے لیکن مَیں وہاں کھڑا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ مَیں ضرور جاؤں گا۔ اچانک ڈیسک سے آواز آئی کہ ایک مسافر کی جگہ ہے، کسی کے پاس ٹکٹ ہے۔ مَیں نے کہا: میرے پاس ہے۔ انہوں نے کہا: دوڑو، جہاز ایک مسافر کا انتظار کر رہا ہے۔
خلوت کا جذبہ۔ فرمایا: ربوہ میں جب حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا خطبہ ہوا کرتا تھا تو مَیں کسی کونہ میں بیٹھتا تاکہ نماز ختم ہوتے ہی نکل سکوں اور سنتیں گھر میں ادا کیا کرتا۔ طبیعت میں ایسی نفرت تھی اس بات سے کہ خلیفۃالمسیح کی موجودگی میں میری کوئی الگ مجلس لگ رہی ہو۔
خدمت خلق۔ فرمایا کہ مریضوں کیلئے مختلف وقت مقرر کرتا۔ آتے بھی بہت کثرت سے تھے۔ کبھی مغرب کے معاً بعد اپنے گھر میں مریضوں کا مجمع لگالیا کرتا لیکن ایک ادنیٰ بھی شوق نہیں تھا کہ مریض میرے گرد اکٹھے ہوں۔ ایک خدانے دل میں جذبہ پیدا کیا تھا کہ غریب لوگ باہر سے علاج نہیں کرواسکتے اسلئے وہ بے تکلّفی سے آ جایا کریں۔
محنت کی عادت۔ فرمایا کہ مَیں نے خود زمینداری کی ہوئی ہے۔ اکیلا ڈھائی من کی بوری اپنی پیٹھ پر اٹھاکر ٹرالی میں لادا کرتا تھا اور مسلسل لادا کرتا تھا تاکہ مزدوروں کو پتہ چلے کہ یہ کوئی کام ایسا نہیں جو مَیں ان کو دیتا ہوں اور آپ نہیں کرسکتا۔ بعض دفعہ فصل پکنے پر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے زمینوں پر جاکر محنت کرتا تھا۔ یورپ میں بھی ایسی سخت محنت کی ہوئی ہے جس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اخبار کے بہت بھاری پیکٹ گاڑیوں پر لادنے ہوتے تھے اور رات سے صبح تک پورے آٹھ گھنٹے مسلسل یہ کام کرنا پڑتا تھا۔ واپس گھر آکر بخار چڑھ جاتا… یہ نہ سمجھیں کہ مَیں محنت کی قیمت نہیں جانتا اور اپنے ہاتھ کی کمائی میں جو برکت ہے اس سے ناآشنا ہوں۔
پسندیدہ مشروب۔ فرمایا: سب سے اچھا ڈرنک ٹھنڈا پانی ہوتا ہے۔ دوسرا ٹھنڈا دودھ اور اگر شہد ملادیں تو بہت اچھا ڈرنک بن جاتا ہے۔ پھر ناریل کے اندر کا پانی بھی بہت اچھا ہوتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں