حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی شفقت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم سید شمشاد احمد ناصر صاحب مربی سلسلہ کا مضمون بھی شامل اشاعت ہے۔ آپ رقمطراز ہیں کہ حضورؒ خلافت کا بہت احترام فرماتے تھے۔ خود خلیفہ بننے سے قبل حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے ارشادات کی فوری تعمیل کی خواہش رکھتے۔ ایک بار جب آپ نے کار بیچ کر جیپ خریدی تو کسی دوست نے بے تکلّفی سے کہا کہ آپ نے اچھی بھلی کار فروخت کرکے یہ جیپ خرید لی!۔ جواباً فرمایا: اس میں ایک ٹی وی اور ایک VCR رکھوں گا اور گاؤں گاؤں جاکر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے خطبات سنایا کروں گا۔
حضورؒ نے ذاتی طور پر بھی مجھ پر بہت احسان فرمائے۔ میرا رشتہ طے ہونے پر نکاح پڑھایا۔ بارات کے ساتھ تشریف لے گئے۔ شادی کے بعد گھر پر دعوت طعام میں شامل ہوئے اور بے تکلّفی سے دری پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ ایک روز گولبازار میں ملے تو فرمایا کہ مَیں کل لاہور جا رہا ہوں، تم نے بھی چلنا ہے۔ عرض کیا اکیلے نہیں جانا۔ فرمایا: کس کو ساتھ لے جاناہے؟ عرض کیا اپنی بیوی اور بیٹے کو۔ فرمایا: صبح آٹھ بجے سب تیار رہیں۔ چنانچہ اگلے روز ہمیں گھر سے لے کر لاہور پہنچے۔ دارالذکر میں پہنچ کر خطبہ جمعہ دیا اور نماز پڑھائی۔ دو تین دن کے بعد آپؒ واپس آگئے لیکن آنے سے قبل ہمیں شاپنگ کے لئے کافی بڑی رقم تحفۃً عنایت فرمائی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں