حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی پاکیزہ زندگی

٭ 1999ء میں لجنہ اماء اللہ جرمنی کے سالانہ اجتماع میں سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے شرکت فرمائی اور ایک نہایت پُرمعارف خطاب فرمایا۔ آپؒ نے سورۃ فاتحہ کی مختصر تفسیر بیان فرمانے سے قبل فرمایا کہ ایک انگریز نومسلم نے مجھے لکھا کہ بہت مدت سے مجھے سچائی کی تلاش تھی، دربدر کی ٹھوکریں کھائیں، حسن اتفاق سے مجھے جماعت احمدیہ کی طرف سے سورۃ فاتحہ مل گئی اور اس پر آکر میری نظر ایسی ٹھہری کہ اب وہاں سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ وہ تمام چیزیں جن کی مجھے تلاش تھی، وہ ساری سورۃ فاتحہ میں مل گئی ہیں۔
٭ سہ ماہی ’’خدیجہ‘‘ کا سیدنا طاہرؒ نمبر میں محترمہ زینت حمید صاحبہ اپنے مضمون میں رقمطراز ہیں کہ حضورؒ کو دکھی عورتوں کے دکھ بہت تڑپایا کرتے تھے۔ آپؒ میاں بیوی کے معاملات میں دوسروں کی دخل اندازی کو سخت ناپسند فرماتے تھے اور خواہش ہوتی تھی کہ وہ دونوں اپنے مسائل خود حل کریں۔ حضورؒ میں ایک صفت یہ بھی تھی کہ جہاں غلطی پر تنبیہ کرتے، سرزنش فرماتے وہاں معاف کرنے میں بھی اعلیٰ وصف پایا تھا۔ درخواست گزار ہونے پر فرماتے کہ مَیں ناراض تو ہوا ہی نہیں، صرف اصلاح مقصود تھی۔
حضورؒ اپنی والدہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ پُرنم آنکھوں اور بھرائی ہوئی آواز کے ساتھ مسکراہٹ جیسے کہ والدہ کو سامنے دیکھ رہے ہوں۔ بیگم صاحبہ کی وفات پر مردوں سے یہ کہنا کہ میرے ساتھ تعزیت یہ ہے کہ عورتوں کو اُن کے حقوق دیں، بیویوں کا خیال رکھیں۔… بیٹیوں کو ایسا پیار کسی باپ نے کیا دیا ہوگا!۔
٭ سہ ماہی ’’خدیجہ‘‘ کا سیدنا طاہرؒ نمبر میں حضورؒ کے عام فہم انداز کے ضمن میں مکرمہ امۃالنصیر ظفر صاحبہ نے اپنے مضمون میں بیان کیا ہے کہ ایک بار مجلس عرفان میں ایک بہت چھوٹے بچے نے حضورؒ سے پوچھا کہ آپؒ نے یہ پگڑی کیوں پہنی ہے؟ حضورؒ نے بچہ سے پوچھا کہ آپ نے یہ ٹوپی کیوں پہنی ہے؟ بچہ نے جواب دیا کہ مجھے یہ ٹوپی میرے ابو نے پہنائی ہے۔ حضورؒ نے برجستہ فرمایا کہ مجھے یہ پگڑی میرے اللہ نے پہنائی ہے۔ اس چھوٹی سی گفتگو میں کتنا گہرا مضمون بیان فرمادیا۔
٭ سہ ماہی ’’خدیجہ‘‘ کا سیدنا طاہرؒ نمبر میں مکرمہ کوثر شاہین ملک صاحبہ اپنے مضمون میں رقمطراز ہیں کہ انتخاب خلافت کے بعد جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ پہلی بار 1983ء میں جرمنی تشریف لائے تو ملاقات کے لئے درخواستیں دینے والوں کے علم میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے لازمی چندہ جات بقایا ہیں، حضورؒ اُن سے تحفہ نہیں لیتے۔ تاکہ احمدیوں کو احساس ہو کہ جب وہ خدا کا حق ادا کرنے پر توجہ نہیں کر رہے تو اُنہیں تحائف دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ پہلا نفسیاتی سبق تھا جو پیارے آقا نے جماعت جرمنی کو دیا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/oL3PE]

اپنا تبصرہ بھیجیں