حضرت زرتشت علیہ السلام

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍اگست 2005ء میں مکرم انیس احمد ندیم صاحب کے قلم سے حضرت زرتشتؑ کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت زرتشت علیہ السلام (Zoroaster یا Zarathustra) ایران کے ایک پیغمبر اور پارسیوں کے مذہبی رہنما ہیں۔ پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کا مذہب دنیا کا سب سے قدیم مذہب ہے اور اسے وہ یہود اور ہنود سے بھی قدیم قرار دیتے ہیں۔ لیکن ایران کی تاریخ اور زرتشتیوں کی مذہبی کتب کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ زمانہ حضرت عیسیٰ کی بعثت سے پانچ یا چھ سو سال قبل بنتا ہے اور یہ وقت وہی ہے جب ہندوستان اور اس کے نواح میں بدھ ازم اور چین میں کنفیوشس ازم کی تعلیمات پنپ رہی تھیں۔ فردوسی نے ’’شاہنامہ ایران‘‘ میں زرتشت کے ظہور اور ایرانی بادشاہ گشتاسپ کا زمانہ ایک ہی قرار دیا ہے۔ اسلامی مؤرخین کے مطابق یہ مذہب پوری شان و شوکت کے ساتھ تقریباً تین سو سال تک ایران میں رائج رہا اور بعدازاں سکندر اعظم نے حملہ کر کے ایران کی تہذیب اور مذہب دونوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ زرتشتی جب ایران سے برصغیر آئے تو اس علاقے میں پارسی کے نام سے مشہور ہوئے۔
حضرت زرتشت کی پیدائش کے وقت بہت سے اعجازی نشان ظہور میں آئے۔ آپ کی والدہ نے کم سنی ہی میں رویا میں دیکھا کہ ایک نور اُن کے اندر داخل ہوا ہے۔ پیدا ہونے والا یہ بچہ بھی غیر معمولی صفات کا حامل تھا لیکن آپ کے بچپن اور جوانی کے حالات کا زیادہ ریکارڈ محفوظ نہیں۔ تیس برس کی عمر سے قبل ہی آپ کا مجاہدات کرنا اور آبادی سے دُور غاروں میں چلے جانے کا علم ہوتا ہے۔ اسی دوران ایک دفعہ آپ دریائے ڈیٹی (موجودہ آذربائیجان میں واقع ہے) کے کنارے پر کھڑے تھے کہ آپ نے عالم کشف میں ایک نہایت چمکتی صورت دیکھی۔ یہ واہومان فرشتہ تھا جس نے حضرت زرتشت سے اپنا دنیوی لباس اتارنے کو کہا اور وہ آپ کو لے کر آسمان کی طرف چلا آسمان کے دروازے آپ کے لئے کھولے گئے اور آپ نے خدا تعالیٰ کا جلوہ اور اس کی شان ملاحظہ فرمائی۔ یہیں سے آپ کو تمام ضروری احکام عطا ہوئے اور آئندہ آنے والے حالات کی تفصیل دکھائی گئی۔ حتیٰ کہ آپ کے مشن کی مقبولیت اور اس کے زوال کے حالات بھی کشفاً دکھائے گئے۔ پارسیوں کی اصطلاح میں اس روحانی نظارہ کو پہلی کانفرنس یا پہلی ملاقات کہا جاتا ہے۔ بعد میں اس طرح کی چھ مزید کانفرنسوں کا ذکر ملتا ہے۔ جس کے بعد حضرت زرتشت کی آزمائش کی گئی اور آپ اپنی دعاؤں اور عبادت کے ذریعہ سے اس ابتلاء سے بچ نکلے۔
آپ کے ظہور کے وقت ایران میں لامذہبیت کا تاریک دَور تھا جہاں برق وباد اور طوفانوں تک کی پرستش کی جاتی تھی اور قوم کی اخلاقی حالت بھی نہایت ابتر تھی۔ ان ناموافق حالات میں زرتشت نے ’’اندیشہ نیک، گفتار نیک، اور کردار نیک‘‘ کا ماٹو اپنی قوم کو دیا اور یہی اس دین کی بنیادی تعلیمات قرار پایا۔
تبلیغ دین کیلئے آپ نے انتھک محنت سے کام لیا آذربائیجان سے چین کے بعض علاقوں پھر ترکستان اور فارس میں آپ نے اس ماٹو کا پرچار کیا لیکن ہر طرف سے مخالفت اور ہنسی سے آپ کو جواب دیا گیا۔ اس مخالفت سے تنگ آکر آپ نے خدا کے حضور التجا کی اور آپ کو حکم ہوا کہ ایران کے بادشاہ گشتاسپ (وشتاسب) بن لہراسپ کے پاس جاؤ۔ آپؑ وہاں گئے تو دربار شاہی میں آپ کا مناظرہ ہوا جس میں آپ غالب رہے جس پر آپ کو ساحر اور جادوگر بھی کہا گیا اور آپ کو شاہی محل میں قید کر لیا گیا اور اسی قید میں بادشاہ پر حقیقت ظاہر ہوئی اور وہ آپ پر ایمان لے آیا اور اس کے ساتھ شاہی خاندان اور اہل فارس جوق در جوق اس نئے مذہب کو قبول کرنے لگے۔ اسی عرصہ میں ایک برہمن پنڈت کے ذریعہ سے یہ پیغام ہند میں پہنچا اور بعض لوگوں نے اسے قبول کرلیا۔
شہر شیز میں مجوسیوں کا ایک عظیم الشان آتش کدہ ہے جسے زرتشتؑ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زرتشت جبل سیلان سے اس شہر میں آئے تھے اور لوگوں کے سامنے اپنی مقدس کتاب ’’اوستا‘‘ یا ’’ژنداوستا‘‘ پیش کی تھی۔
ژنداوستا (Zend-Avesta) پارسیوں کی مذہبی کتاب ہے جس کے چار حصے ہیں، پہلے حصے میں سے ایک گا تھاز کہلاتا ہے جو حضرت زرتشت کی ملفوظات اور نصائح پر مشتمل ہے اور آخری حصہ خورداوستا کہلاتا ہے جو عام پارسی پڑھتے ہیں باقی کتاب صرف زرتشتی پادری یا مولوی ہی پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح ان تعلیمات پر مشتمل دو دفاتر ہیں ایک تو یہ ژندواستا ہے اور دوسرا دفتر دسا تیر کہلاتا ہے، دساتیر دستور کی جمع ہے جس کا مطلب ہے شرائع اور قوانین۔ انہی دساتیر میں حضرت زرتشتؑ کی وہ تفصیلی پیشگوئیاں درج ہیں جو عرب میں ایک نبی کی بعثت اور آپ کے تین ہزار سال بعد ایک فارسی موعود سے متعلق ہیں۔ ایک پیشگوئی ہے کہ : ’’چوں چنیں کارہا کنند ازتازیاں مردے پیدا شود کہ از پیروان او…‘‘ ترجمہ:۔ یعنی ’’جب ایرانی ایسے کام کریں گے کہ شریعت پر عمل چھوڑ دیں گے اور ان میں بدیاں پھیل جائیں گی تو ایک مرد خدا پیدا ہوگا جس کے پیروکاروں کے ذریعہ ایران فتح ہوگا اور بت کدہ کی بجائے خانہ آباد (خانہ کعبہ کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے) کو بتوں سے پاک کر کے مرکز عبادت بنایا جائے گا‘‘۔ اس پیشگوئی کے اگلے حصے میں مدائن اور نواحی علاقوں کی فتح کی خبر دی گئی ہے۔ اور اس فتح کے ساتھ اس نبی کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’ایشاں مردے باشد سخنوروسخن او درہم پیچیدہ‘‘ یعنی وہ نبی صاحب کلام (شریعت) ہوگا اور اس کا کلام اسرارو رموز اور بلیغ زبان پر مشتمل ہوگا۔
زرتشتی عقائد میں وحدانیت Monotheism اور تقدیر شر Dualism خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کئی فرشتوں کے نام بھی ان کی کتب میں مذکور ہیں، شیطانی طاقت کے بھی قائل ہیں جس کو آہریمان کہتے ہیں یہ عقیدہ بدلتا ہوا اب یہ صورت اختیار کر گیا ہے کہ دو خداؤں کا تصور جڑ پکڑ گیا ہے ایک نیکی کا اور دوسرا بدی کا۔ اسی طرح نبوت ، وحی ، جزا سزا اور حیات آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
’’اس مذہب کے عقائد اسلام سے ملتے ہیں۔ اعمال میں وضو تیمم اور نماز بھی پائی جاتی ہے اور دوزخ اور بہشت کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کا سب سے بڑا اختلاف دوسرے مذاہب سے یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا جلوہ آگ اور سورج کو یقین کرتے ہیں اس لئے اس کی عام طور پر پوجا کرتے ہیں۔ اس کے بعد پانی اور ہوا کے عناصر کے بھی پرستار ہیں… مُردوں کو … نہ جلاتے ہیں نہ دفن کرتے ہیں بلکہ گدھوں کو کھلاتے ہیں ۔ اس کام کے لئے انہوں نے ایک جگہ بنائی ہوئی ہے جسے وغمہ کہتے ہیں، انگریزی میں اس کا جونام ہے اس کا ترجمہ ہے: مینار خاموشی‘‘۔
آگ زرتشتیوں کی پہچان ہے لیکن بعض پارسی اس بات سے منکر ہیں کہ وہ آتش پرست ہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم سورج ، پانی ، مٹی ، اجرام فلکی اور آگ کو خدا کے عطیات کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔ البتہ موجودہ زرتشتی عبادتگاہیں آتشکدہ کے نام سے ہی مشہور ہیں اور آگ ان میں ہمیشہ جلتی رہتی ہے اور ان کے دعویٰ کے مطابق مسلسل اڑھائی تین ہزار سال سے جل رہی ہے۔
پارسی اپنا مُردہ کسی کھلی جگہ یا خاموش مینار میں چھوڑ دیتے ہیں تا کہ اسے جانور وغیرہ کھا جائیں۔ دفن نہ کرنے کی وجہ یہ عقیدہ ہے کہ ایسا جسم جس سے روح نکل چکی ہو، یہ نجس ہے اور اس لائق نہیں کہ مٹی، پانی یا آگ میں ڈالا جائے جو پاک عناصر ہیں۔
خاموش مینار نہایت قابل دید صورت میں تعمیر کئے جاتے ہیں۔ یہ مینار اس لحاظ سے بھی پر اسرار ہیں کہ ان کے اس حصے میں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہوتی جہاں میت رکھی جاتی ہے حتیٰ کہ قریبی عزیز بھی نہیں۔ اور وہ منظر نہایت کراہت والا معلوم ہوتا ہے جب ا ن میناروں کے اوپر گدھوں کے جھنڈ کے جھنڈ اس انتظار میں اڑتے نظر آتے ہیں کہ کب لوگ یہاں سے جائیں اور وہ میت کی چیر پھاڑ شروع کریں۔
حضرت عمر کے عہد میں 16ھ میں مدائن فتح ہوا جو ایران کا پایہ تخت تھا اور حضرت سعد جو اسلامی لشکر کے کمانڈر تھے انہوں نے مدائن کے سفید محلات کو دیکھتے ہی نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اُس وقت زرتشت ازم ہی ایران کا سرکاری مذہب تھا۔ مسلمانوں کی دی ہوئی مذہبی آزادی کی وجہ سے دسویں صدی عیسوی تک بھی (جب مسلمانوں کو ایران میں داخل ہوئے تین سو سال ہوچکے تھے) فارس کے کئی شہروں میں آتش کدے موجود تھے جہاں عبادت ہوتی تھی۔ اور نئے معابد تعمیر بھی ہوتے تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/SOBVa]

اپنا تبصرہ بھیجیں