حضرت زرتشت علیہ السلام

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت زرتشت علیہ السلام کے بارہ میں دریافت کئے جانے پر فرمایا:
’’خدا تعالیٰ کے کُل رسولوں پر ہمارا ایمان ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب کے نام اور حالات سے ہمیں آگاہی نہیں دی۔ اتنے کروڑ مخلوق پیدا ہوتی رہی اور کروڑہا لوگ مختلف ممالک میں آباد رہے، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ نے اُن کو یونہی چھوڑ دیا ہو … پس ہم یہی مانتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی خدا تعالیٰ کے پیغمبر گزرے ہیں اور ایران میں بھی ہوئے ہیں اور دوسرے ممالک میں بھی ہوئے ہیں۔ پس یہ بھی خدا کے نبی ہوسکتے ہیں۔‘‘ (بدر۔ جلد6، نمبر44، صفحہ8)
حضرت زرتشتؑ کو ماننے والے پارسی کہلاتے ہیں اور وہ اپنی تعلیم کی بنیاد الہام الٰہی پر رکھتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: ’’حضرت عمرؓ نے پارسیوں کو اہل کتاب میں داخل سمجھا تھا اور اُن کے ساتھ وہی سلوک کیا تھا جو اہل کتاب کے ساتھ کرنا چاہئے اور حضرت علیؓ کا بھی یہی طریق تھا۔ ایسے جلیل القدر اصحاب کی رائے کی اس معاملہ میں قدر کرنی چاہئے، اس طرح ایک فیصلہ شدہ امر ہو جاتا ہے۔‘‘ (بدر۔ جلد6، نمبر44، صفحہ8)
حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اپنی کتاب ’’نجات‘‘ میں حضرت زرتشتؑ کو ایران کا راستباز نبی قرار دیا ہے۔
زرتشتی مذہب کے بارہ میں مکرم محمد احمد فہیم صاحب کا ایک مضمون ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ جولائی 2001ء کی زینت ہے۔
حضرت زرتشتؑ 660 قبل مسیح میں مغربی ایران کے شہر رےؔ میں پیدا ہوئے اور 583 قبل مسیح میں انتقال فرمایا۔ آپؑ کے والد کا نام وشتاسپ تھا جو سپتما خاندان میں سے تھے اور قوم کے مجوسی (Magus) تھے۔ اس قوم کو Magian کہتے ہیں یعنی جادوگر۔ زرتشتؑ نے اپنے زمانہ کے مشہور حکیم بزاکرزا سے تعلیم حاصل کی اور دس سال کے قلیل عرصہ میں متعدد علوم مذہب، زراعت، گلہ بانی اور علم جراحی کے ماہر ہوگئے۔ جوانی میں قدم رکھتے ہی آپؑ نے اپنے آپ کو خدمت خلق کے لئے وقف کردیا۔ شروع سے ہی آپ اپنے آبائی مذہب سے غیرمطمئن تھے۔ بیس سال کی عمر میں گھر بار کو خیرباد کہہ کر سیالان پہاڑ میں گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ 30 سال کی عمر میں آپؑ کو معراج نصیب ہوا اور آپؑ نے براہ راست اہورمز سے وہ الفاظ حاصل کئے جو آپؑ کی تعلیمات اور گاتھا کی بنیاد ہیں۔ گاتھا وہ مقدس منظومات ہیں جو آپؑ نے لکھیں۔
حضرت زرتشتؑ نے دس سال توحید کی اشاعت میں صرف کئے لیکن سوائے آپؑ کے ایک چچیرے بھائی کے کسی نے آپؑ کو قبول نہ کیا۔ پھر آپؑ توحید کا پیغام لے کر بلخ کے بادشاہ گشتاسپ کے پاس گئے اور بادشاہ کے درباری علماء سے مسلسل تین روز تک مناظرہ کرکے اُن کے عقائد کا بطلان ثابت کیا۔ چنانچہ بادشاہ آپؑ پر ایمان لے آیا اور پھر تیزی سے آپؑ پر ایمان لانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ پھر آپؑ نے دوردراز ممالک میں مبلغ بھی بھیجے۔ اسی بنیاد پر توران کے ساتھ ایران کے تعلقات خراب ہوگئے اور دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ گئی جس کے دوران ایک تورانی سپاہی نے زرتشتؑ کو خنجر مار کر شہید کردیا۔
حضرت زرتشتؑ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے:
٭ تم ان آنکھوں سے خدا کو نہیں دیکھ سکتے، اُس کی دید کے لئے دوسری آنکھیں چاہئیں۔
٭ تُو ہی پہلی وہ ہستی ہے جس سے پیشتر کوئی ہستی نہیں ہوسکتی۔
٭ تُو ہی خدا ہے۔ یہ مَیں جانتا ہوں اے قادر مطلق! تُو ہی اوّل ہے… تیرے ابدی قانون میں مرقوم ہے کہ برائی کا انجام بُرا ہے اور اچھائی کا انجام اچھا ہے۔
٭ ملائکہ بے شمار ہیں۔ ملائکہ وہ خارجی ہستیاں ہیں جو ہماری روحانی اور جسمانی ربوبیت کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اُس کے بندوں کے درمیان وسائط ہیں۔
٭ پیغمبر اس لئے چاہئے کہ کاروبار زندگی میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور اُن کے لئے ایسی شریعت کی ضرورت ہے جسے سب لوگ مان لیں تاکہ باہمی لین دین میں ظلم و ستم نہ ہو … اور یہ خدا کی طرف سے ہونے چاہئیں تاکہ عام لوگ ان کو یکساں قبول کریں۔
٭ پیغمبر اپنے قول اور فعل میں صادق ہے کیونکہ جو کچھ وہ جانتا ہے دوسرے نہیں جانتے اور وہ تمہاری فطرت سے اطلاع دیتا ہے اور جو کچھ اُس سے پوچھا جائے، اُس کے جواب میں عاجز نہیں ہوتا۔
٭ جب کوئی نیک آدمی جسم کو چھوڑتا ہے تو مَیں اُسے بہشت میں پہنچا دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہشتیوں کو جو جسم عطا کرتا ہے، وہ نہ تو ریزہ ریزہ ہوگا اور نہ پرانا، نہ تھکے گا اور نہ اس میں کوئی گند پیدا ہوگا۔
نجات پانے والے جنت میں ہمیشہ رہیں گے اور دوزخ میں گناہ گاروں کو اُن کی برائیاں آگ کی صورت میں جلائیں گی۔
٭ مالدار کو چاہئے کہ اپنے فاضل مال کے ذریعہ خندہ پیشانی سے دوسروں کی مدد کرے۔
٭ زرتشتؑ کی تعلیم میں راستی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ جھوٹ بولنا بدترین گناہ ہے۔
٭ بیوی رکھنے والا شخص بغیر بیوی والے سے بدرجہا بہتر ہے اور خاندان رکھنے والا اُس سے بہتر ہے جس کا کوئی خاندان نہ ہو۔
ایک مؤرخ پروفیسر گرنڈی لکھتے ہیں کہ زرتشتی مذہب حقیقت اور عمل کا مذہب تھا اور اخلاق اس کا مرکزی عنصر تھا۔
زرتشتی مذہب شاہان خورس اور دارا کے عہد (چھٹی اور پانچویں صدی قبل مسیح) میں اپنے نقطہ عروج پر تھا۔ 331 ق م میں سکندراعظم نے ایران پر حملہ کیا اور اُس کتب خانہ کو آگ لگادی جہاں زرتشتی مذہب کی مقدس کتب تھیں۔ زرتشتی عالم جانیں بچانے کے لئے غاروں میں چھپ گئے۔ آخر جب زرتشتی مذہب کا احیاء ہوا تو حافظوں کی مدد سے کتب مدوّن کی گئیں۔ اس مذہب کا دوسرا سنہری دَور تیسری صدی عیسوی میں ساسانی خاندان کے عروج کے ساتھ شروع ہوا۔ زرتشتی کتب تالیف ہوئیں اور پہلوی زبان میں ان کے تراجم ہوئے۔ ایران کا سرکاری مذہب بھی زرتشتی مذہب ہی قرار پایا جو ظہورِ اسلام تک رائج رہا۔
قدیم ایرانیوں کی مذہبی کتب میں دو دفتر اہم ہیں جن میں عبادت اور قربانی کے احکام ہیں اور حمد و مناجات پر مشتمل منظوم کلام بھی ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/DjruH]

اپنا تبصرہ بھیجیں